جہاں شناس


گلے پر تیز دھار خنجر پھرنے سے نرخرا کٹ چکا تھا جو مسلسل تھرتھراتے ہوئے وقفے وقفے سے عجیب آوازیں نکال رہا تھا۔
رات کے پچھلے پہر چارپائی کے قریب کھڑی جہاں شناس بستر پہ نیم مردہ جسم کو بغور دیکھتے ہوئے ہانپ رہی تھی۔ ملگجا حلیہ ، بکھرے بال اور چہرے پر خون کے چھینٹے پڑنے سے کسی وحشی درندے کا گماں ہوتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آگ اور نتھنے پھولے ہوئے تھے۔
چارپائی کے عین اوپر لمبی تار سے جھولتے بلب کی بے تربیت روشنی میں اندازہ لگانا مشکل تھا کہ گلے پر کھینچی گئی لکیر آڑھی ٹیڑھی تو نہیں۔ ہاتھ بڑھا تے ہوئے بلب روک کر غور کیا تو وہ لکیر لہو میں کہیں گم ہو گئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں گلے کی نلی سے گھراٹے چلنا بند ہوگئے تھے۔ جہاں شناس نے الٹے خنجر سے دو تین بار ٹخنوں اور گھٹنوں پرضرب لگائی، جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔ پھر کٹی ہوئی سانس نلی میں پوری قوت سے خنجر گھما کرموت کی تصدیق کی۔ وہ باقاعدہ بیوہ ہو چکی تھی۔ اس نے ایک جھر جھری سی لی۔
اچانک ماحول پر عجیب سی وحشت اتری اور سارے تہ خانے میں پھیل گئی۔ ہر شےخون کی مانند لال تھی۔ جہاں شناس کے دونوں بازوں زمین کی طرف یوں لٹک گئے جیسے ٹوٹ چکے ہوں۔ دائیں ہاتھ میں تیز دھار خنجر سے تازہ لہو کے قطرے ایک اک کر کے فرش پر گِر رہے تھے۔ وہ چکرائی پھر بائیں ہاتھ سے دیوار کو تھاما اور غشی کے عالم میں ٹوٹی ہوئی کرسی پر ڈھے گئی۔
ماضی نے آہستہ سے جہاں شناس کی انگلی تھامی اور دونوں ہوا میں تیرتے ہوئے دروازے کی جھریوں سے باہر نکل گئے۔
بالائی منزل کی راہ داری میں خاموشی کا راج تھا۔ دیوار سے زرا ہٹا کر رکھے گل دانوں میں سجے رنگ برنگے مصنوعی پھول پودے آنے والے کسی خاص مہمان کے منتظر تھے۔ ایک بانجھ گملا جو سب سے الگ تھلگ سا قدرے اندھیرے میں رکھا تھا۔ اس میں کبھی پھول نہیں کھلے تھے اور وہ اداس تھا۔ آج اس نے اپنے قریبی دوست، جگنو کو اپنے پاس روک دیا تھا۔ اچانک راہ داری میں چوڑیوں کی کھنک اور سینڈل کی کھٹ کھٹ بے شمار نسوانی آوازوں میں بدل گئی۔ دلہن بنی جہاں شناس سب سے نمایاں تھی۔ شرارتیں، اٹھکیلیاں،معنی خیز جملے ، سرگوشیاں ، دبی دبی ہنسی اور قہقہے، جہاں شناس کو کمرے تک چھوڑنے آئے تھے۔
وہ شادی کا جوڑا سمیٹتی، شرماتی، تذبذب کے عالم میں بیڈ پر بیٹھ گئی۔ کچھ ہی دیر میں شرارتی ہم جولیوں نے اجازت چاہی اور کمرے سے باہر نکل گئیں۔
”دھک ”
دھڑکن نے کچھ کہا تھا۔ اس کاا انگ نگ متوجہ ہوا۔
”دھک ، دھک ، دھک ”
دل نے وجود سے حرارت مانگی اورجسم کا ہر مسام خوشبو دار پسینے کی ایک ایک بوند دینے کو تیار ہو گیا۔
 مہندی کی مہک سانسوں کو کس قدر بھلی لگتی ہے”۔”
اپنی ہی اس سوچ پر وہ جھینپ گئی۔ دلہے میاں کے انتظار میں دل اور دھڑکن کی جگل بندی جاری رہی اس نے ڈر کر آنکھیں موندھ لیں۔ ہر طرف اندھیرا تھا لیکن بند آنکھوں کے ساتھ اپنے جذبات سے لڑنے میں قدرے سہولت تھی۔
اس کی سماعتیں باہر راہ داری کے اس خالی گملے میں اگ آئیں جو برسوں سے بانجھ تھا۔ جگنو اور گملا خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ سماعتیں بار بارانہیں چپ رہنے کو کہتی تھیں مگر وہ پر جوش تھے۔ پھر مردانہ قدموں کی چاپ پر جہاں شناس پٹ سے آنکھیں کھول کر چھوئی موئی کی طرح سہم گئی۔ گملےاور سماعتوں کا ساتھ یہیں تک تھا۔ جگنو بھی کہیں روشنی میں غائب ہو گیا ۔
کمرے میں جانماز بچھائے، خیام پچھلے دس منٹ سے شکرانے کے نوافل ادا کر رہا تھا۔ خیام نے ایک طرف سلام پھیرتے ہوئے دلہن بنی جہاں شناس کو دیکھاجو اس قدر نظر انداز ہونے پر ناراضی سے منہ پھلائے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مسل رہی تھی اور ساتھ ساتھ پیروں کی انگلیوں سے بستر کی چادر نوچ رہی تھی۔
خیام مسکرایا پھر دوسری جانب سلام پھیر کر اپنے رب کے حضور دعا کے لیے ہاتھ اٹھالیے۔ جہاں شناس کی نگاہوں نے اڑان بھری اور چپکے سے اس کے لبوں پر آ کر بیٹھ گئیں۔ وہ ہلتے لبوں کو پڑھنے کا ہنرجانتی تھی۔ دعا کے آغاز میں وہ بے اختیار مسکرائی کہ خیام کے لبوں نے اس کا نام لیا تھا۔ دیر تک وہ شرماتی ، مسکراتی رہی کہ اچانک حیرت اور حسد کے ملے جلے احساس نے اسے گھیر لیا۔ خدا معلوم، خیام اپنے رب سے کیا مانگ بیٹھا تھا۔ وہ ایک سچا ، با اخلاق اور سیدھا سادہ سا جوان تھا۔ زیادہ مذہبی نہ سہی لیکن دنیاوی مصروفیات میں سے وقت نکال کر دن میں پانچ مرتبہ بار گاہ الہی میں حاضری ضرور لگواتا۔ جہاں شناس کو پا کر وہ بہت خوش تھااورکیوں نہ ہوتا اسے بے حد چاہتا جوتھا مگر ہر نماز کے بعد دعا میں کچھ ایساضرور مانگتا جسے محسوس کر کے وہ جلن کی آگ میں جل بھن جاتی۔ خیام نے جہاں شناس کے اس غیر فطری رویے کو کئی با ر محسوس کیا تھا ۔ بارہا پوچھنے پر بھی وہ خاموش سی من ہی من اندر کڑھتی رہی اور اس کی جل جلاہٹ میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
ان کے ہاں کوئی اولاد بھی نہ ہوئی۔ خیام نے بچہ گود لینے کا مشورہ دیا مگراس نے انکار کر دیا۔ وہ اپنے اور خیام کے درمیان کسی تیسرے کی موجودگی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ دس سالو ں میں اس کا حسد خطرناک بغاوت کا روپ دھا رچکا تھا۔
لاش کے دونوں ہاتھ دعا کے لیے آسمان کی طرف اٹھے اور وہ ہڑ بڑا کرحال میں واپس آئی تھی۔ سر میں شدید درد اور آنکھوں کے ڈورے سرخ ہو رہے تھے۔ اس نے محسوس کیا کہ خون آلود خنجر کا دستہ ہتھیلی سے چپک گیا ہے۔ ٹوٹی ہوئی کرسی پہ گرنے سے پہلے جس دیوار کا سہارا لیا تھا وہاں خون میں لتھڑی پانچ انگلیاں ثبت ہو چکیں تھیں۔ لاش کو نظر انداز کرتی وہ اپنی کرسی سے اٹھ کراس جانب بڑھی جہاں اس کے جہیز کا کاٹھ کباڑ رکھا تھا۔ چلتے ہوئے اچانک اس کے پاؤں نے کسی چیز سے ٹھوکر کھائی اور بانجھ گملا ایک آواز کے ساتھ ٹوٹ کر فرش پر بکھر گیا۔ یہ راہ داری میں پڑا وہی بدنصیب گملا تھا جس میں کبھی کوئی پھول نہیں کھلا تھا۔ جہاں شناس نے افسوس کے ساتھ بکھرے ہوئے ٹھیکرے دیکھے۔ اسے یاد آیا کہ اس گملے میں تو جگنو کی لاش بھی تھی۔ چند لمحے جگنو کی قبر ٹوٹنے پر پشیمان رہی پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی۔
لکڑی کا پرانا صندوق جس پر مٹی کی تہ جمی تھی اسے کھولتے ہوئے بری طرح کھانستی چلی گئی۔ صندوق میں وہ جا نماز رکھی تھی جس پر سہاگ رات کو خیام نے شکرانے کے نوافل ادا کیے تھے۔ جہاں شناس نے اسے خیام سے چھپا کر اس صندوق میں بند کر دیا تھا۔
دیر تک جانماز کو بغور دیکھتی رہی۔ دو ہاتھ پھر آسمان کی طرف دعا کے لیے بلند ہوئے تھے۔ وہ غُرّا کر اپنی جگہ سے اٹھتے ہی لاش کی طرف لپکی تھی۔ غصے میں جھپٹ کر خیام کا دایاں ہاتھ اپنی گرفت میں لیا اور کسی خون خوار درندے کی طرح اسے کاٹ دیا پھر بایاں ہاتھ کاٹ کر جانماز میں لپیٹتے ہوئے صندوق کی طرف بھاگی۔ جانماز کوصندوق میں پھینک کر تالا ڈال دیا اور خود صندوق پر چڑھ کر بیٹھ گئی۔ دھیرے سے آنکھیں بند کرتے ہوئے اس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ ابھری ہی تھی کہ دو ہاتھ پھر دعا کے لیے آسمان کی طرف بلند ہوئے اور تہ خانے میں کروڑووں قمقمے جگمگا اٹھے۔ سارا منظر یکسر بدل گیا۔ ہر طرف سفید روشنی تھی۔ جہاں شناس نے حیرت اور غصے سے دیکھا تو مشک ،امبر ، زعفران اور کافور میں گوندھی ہوئی خوبرو حسینائیں آسمان سے اتری تھیں۔ان کے سینے تنے ہوئے اور گردنیں صراحی جیسی تھیں۔ وہ ناز نیناں اس قدر دل فریب تھیں کہ ان کے جسم سے دوسری طرف کا منظر دیکھا جا سکتا تھا ۔جہاں شناس انہیں بہت اچھی طرح سے جانتی تھی۔ سب کی سب طنزیہ انداز میں ایک نظراسے دیکھ کر ناز وادا کے ساتھ چلتے ہوئے لاش کے گرد جمع ہوگئیں۔ وہ خیام کو آسمانوں سے اوپر کہیں لے جانا چاہتی تھیں۔ جہاں شناس غصے سے پاگل ہو رہی تھی اس کا جی چاہا ساری حسیناؤں کے منہ نوچ ڈالے۔ جیسے ہی اس نے تلملا کر اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش کی، جانماز میں سے دو ہاتھ نکلے اور صندوق توڑ کر اسے اپنے گرفت میں لے لیا۔ جہاں شناس نے خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئی۔ وہ ہلنے سے قاصر تھی ۔خیام کی لاش کچھ دیر ہوا میں تیرتی رہی۔ اس کے گرد حسیناؤں کا گھیرا تھا جو خیام کو لیے دھیرے دھیرے آسمان کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ جہاں شناس لاکھ کوشش کے باوجود وہ گھیرا نہ توڑ سکی اور کروڑوں قمقمے ایک ساتھ بجھ گئے۔ تہ خانے میں اندھیرا تھا اور جہاں شناس۔
” تم بے وفا ثابت ہو چکے ہو خیام ۔۔۔”
جہاں شناس نڈھال سی ہو کر بڑبڑائی اور پھر کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح تیز دھار خنجر اپنی گر دن پر رکھ کر ایک جھٹکے سے کھینچ دیا۔
زندگی بھرسوتیاپے کے” تصور” میں جلنے والی ایک عورت خود پر اس جنت کو حرام کر چکی تھی جس میں اسے اپنی سوتنوں کے ساتھ رہنا تھا۔ شاید وہ جان چکی تھی کہ سوتیاپا ہی اصل جہنم ہے۔
Facebook Comments HS