لوگ مرتے رہیں گے صاحب جیبیں بھرتے رہیے


پاکستان میں انسانی جان اتنی سستی ہے کہ دنیا میں اس کا مقابلہ کسی بھی ملک سے نہیں کیا جاسکتا۔ چار اضلاع پر ڈاکو قابض ہیں۔ کراچی میں لوگوں نے موبائل لے کر گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ سٹریٹ کرائم جس تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اس تناسب سے اگلے چند برسوں میں یہ توقع ہے کہ کم از کم ہر دوسرے شخص کو سال میں ایک مرتبہ ضرور لوٹا جائے گا۔ حالیہ چینی انجینئروں پر خودکش حملے میں جو گاڑی استعمال ہوئی ہے اس کے متعلق سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ یہ افغانستان میں بارود سے بھری گئی پھر یہ چمن کے بارڈر سے پاکستان میں لائی گئی اور پھر وہاں سے یہ گاڑی شانگلہ پہنچا دی گئی اور وہاں ہفتوں ایک پیٹرول پمپ پر کھڑی رہی اور پھر اس کا استعمال کر کے چینی انجینئروں کو نشانہ بنایا گیا۔

اگر یہ دعوی ٰ درست ہے تو پھر آپ اندازہ لگا لیں کہ ہم کتنے محفوظ ہیں۔ چمن سے لے کر شانگلہ تک ہزاروں کی تعداد میں فورس، پولیس اور دیگر ادارے ہیں جن کا کام ہے کہ وہ ان کاموں کو روکیں مگر وہ اس لیے ان کاموں کو نہیں روکتے کہ ان کو اس سے مالی فائدہ ہے۔ مالاکنڈ، سابق قبائلی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور دیگر کئی اضلاع میں دس لاکھ سے زیادہ نن کسٹم پیڈ گاڑیاں چل رہی ہیں۔ آپ چک درہ، سوات کا چکر لگا لیں جہاں سینکڑوں کی تعداد میں ان گاڑیوں کی بارگین سینٹر اور شو رومز ہیں۔

جہاں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں یہ گاڑیاں چمن سے داخل ہو کر پہنچتی ہیں۔ کیا یہ سب کچھ حکومت اور اداروں کے علم میں نہیں ہے۔ یہ سب کے علم میں ہے لیکن یہ ایک منافع بخش کام ہے جس میں سب کو ان کا حصہ ملتا ہے۔ سرحد پر حفاظت پر مامور لوگ حکومت سے تنخواہ لے کر یہ کام کر رہے ہیں۔ ہر ضلع میں حکومتی تنخواہ دار اس کام میں شریک ہیں۔ ہم جو بلند ترین شرح سود پر اربوں ڈالرز کے سالانہ قرض لے کر ان ملازمین کو کھلا رہے ہیں وہ اس ملک کے ساتھ یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

اگر ان گاڑیوں کو ٹیکس کے دائرے کار میں لایا جائے تو حکومت کو اربوں کا ٹیکس وصول ہو گا اور رجسٹرڈ ہونے کے بعد سالانہ بھی ان سے اربوں کا ٹیکس جمع کیا جا سکے گا۔ مگر ایسا کرنے سے ان کا کاروبار ختم ہو جائے گا۔ اب تو صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ دہشت گرد بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ افغانستان کے شہری جو جرائم اور سمگلنگ میں پیش پیش ہیں ہم ان کو نکالنے کی بجائے ان کو سہولیات مہیا کرتے ہیں۔ پاکستان کی چالیس فیصد آبادی غربت کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

ملک میں خوراک، ادویات، اور وسائل کی کمی میں اضافہ ہو رہا ہے، وسائل پر بوجھ اور آبادی میں اضافہ کی وجہ سے معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور ہم لاکھوں غیر ملکیوں کو پالنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کو نکالنا میں کوئی قانونی اور اخلاقی ممانعت نہیں ہے۔ بس ان کے یہاں ہونے سے چند افراد اور گروہوں کا ذاتی فائدہ ہے۔ ایران سے باہمی تجارت کو فروغ دینے کی جگہ ہم وہاں سے سمگلنگ کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ ملک میں منشیات کی اتنی بہتات ہے کہ ہر شہر اور گاؤں میں ہزاروں لوگوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے یہ منشیات دستیاب ہے۔

یہ منشیات پاکستان میں پیدا نہیں ہوتی یہ سب افغانستان سے آتی ہے۔ افغانستان سے لانے والے بھی معلوم ہیں اور اس کا ہر شہر میں کاروبار کرنے والے بھی۔ مگر ان کے خلاف کارروائی اس لیے نہیں ہوتی کہ ان کے اس کاروبار کی سرپرستی اس ملک میں موجود طاقتور لوگ کرتے ہیں۔ اس ملک میں اسلحہ اس وافر مقدار میں موجود ہے کہ دنیا کے پچانوے فیصد ملکوں کے آرمی کے پاس اتنا اسلحہ نہیں ہو گا۔ یہ اسلحہ بھی افغانستان سے سمگل ہو کر آتا ہے اور ملک کے ہر کونے میں باآسانی پہنچ جاتا ہے۔

اب تو آن لائن بھی اسلحہ فروخت کرنے اور پاکستان کے کونے کونے میں پہنچانے والوں کی اتنی بڑی تعداد موجود ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ کیا ہم اس ملک میں جہاں ہر طرف بدامنی ہے۔ اسلحہ پر مکمل پابندی نہیں لگا سکتے۔ لیکن ایسا کرنے سے لوگوں کا کاروبار بند ہو جائے گا۔ کچے کے ڈاکو کون ہیں؟ کیا یہ خلا سے آئے ہیں۔ یہ کیوں اتنی دلیری سے ہزاروں مربع کلومیٹر کے علاقوں پر قابض ہیں اور پاکستان بھر سے لوگوں کو اغوا کر کے ان سے تاوان وصول کرتے ہیں۔

مقامی لوگوں کو سرعام لوٹتے ہیں۔ ان چند سو لوگوں کو قابو کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ لیکن ہر برس گندم کی کٹائی کے دنوں میں ان علاقوں میں نام نہاد آپریشن کر کے وہاں سے گندم اپنے قبضے میں لے کر پولیس واپس آجاتی ہے اور ڈاکو پھر سے لوگوں کو لوٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ سیاست دان اور دوسرے طاقتور لوگ ان کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ یہ سب ہم انڈین فلموں میں دیکھتے تھے۔ اب یہ سب کچھ پاکستان میں عملاً ہو رہا ہے۔ پاکستان کے ہر شہر میں قبضہ مافیا کی بھر مار ہے یہاں تک کے اسلام آباد جیسے شہر میں بھی یہ مافیاز موجود ہیں۔

بیرون ملک پاکستانیوں نے پاکستان میں رئیل سٹیٹ میں سرمایہ کاری کی ہے لیکن ان میں سے بیشتر ان مافیاز کی وجہ سے اپنا سرمایہ کھو چکے ہیں۔ لاہور اور پنڈی میں گزشتہ دس برسوں میں ہونے پراپرٹی سکیمز اٹھا کر دیکھ لیں آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ سڑکوں پر دیکھیں اسلحہ کی نمائش کرنے والے نودولتیوں کی ایک فوج آپ کو ملے گی۔ ایسا دنیا کے کس ملک میں ہوتا ہے۔ ملک کے بہادر فوجی جوان آئیے روز شہید ہو رہے ہیں۔ مگر ان کا بدلہ نہیں لیا جاتا۔

ان عناصر کو جن کی وجہ سے یہ نوجوان شہید ہو رہے ہیں ان کے ساتھ معاہدے ہوتے ہیں اور ان کو سہولیات دی جاتی ہیں۔ دنیا کا کون سا عالمی قانون ہے جو ہمیں اپنے شہریوں کا تحفظ فراہم کرنے سے روکتا ہے۔ مگر ہم سمگلنگ نہیں روکتے، ہم دہشت گردوں کو اس ملک سے نہیں نکالتے، ان کو سپورٹ کرنے والوں اور عملی مدد دینے والوں کو کچھ نہیں کہتے۔ حکومت کے غیر ترقیاتی اور عیاشی کے اخراجات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ان کو پورا کرنے کے لیے ملک کو کروی رکھ کر قرض پر قرض لیے جا رہے ہیں۔

لیکن اس کے بدلے یہ حکومتی اہلکار الٹا ان غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں پیش پیش ہیں۔ چند ہزار افراد پر مشتمل اس ملک کا اشرافیہ اس ملک کو ہر طریقے سے لوٹ رہا ہے۔ ستر کی چینی ڈیڑھ سو میں بیچتا ہے۔ حکومت اس سلسلے میں مدد کرتی ہے اور عدالتیں معاونت فراہم کرتی ہیں۔ یوں یہ تیس افراد سالانہ دو ہزار ارب سے بھی زیادہ اس ملک کے غریب لوگوں سے لوٹ لیتے ہیں۔ ایران سے تیل خریدنے کی جگہ وہاں سے سمگل کر کے حکومت کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں لیکن حکومت اس میں ملوث ہے ورنہ ملک کا اتنا بڑا نقصان کیسے ہونے دیتی۔

ملک میں صرف تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور بار بار وصول کی جاتا ہے۔ تنخواہ دینے سے پہلے مکمل ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے پھر یہ ملازمین ہر قدم پر دوبارہ ٹیکس بھرتے ہیں۔ جبکہ اس ملک میں سونے کا کاروبار کرنے والوں سے ایک پیسے کا بھی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔ اس ملک کا سرمایہ دار اور جاگیر دار اور بلڈرز، بنک کار کوئی ٹیکس نہیں دیتے بلکہ الٹا حکومت سے سبسڈی بھی وصول کرتے ہیں۔ اس ملک کے چھوٹے سے شہر اسلام میں آباد میں سرکاری ملازمین کو ایک لاکھ سے زیادہ قیمتی سرکاری گاڑیاں دی گئیں ہیں۔

جن پر کھربوں کا خرچ آیا ہو گا اور یہ گاڑیاں سالانہ اربوں روپے کا تیل پھونکتی ہیں اور ان پر اربوں روپے کے دیگر اخراجات آتے ہیں۔ لیکن کارکردگی دیکھیں۔ ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال دیکھ لیں، ملک میں گورنس دیکھ لیں، سب کچھ اتنا خراب ہے کہ ان سب ملازمین کو فارغ کر دیا جائے تو شاید جو ان پر خرچہ ہو رہا ہے اس کی بچت ہو جائے۔ اس لیے کہ ان کے ہوتے ہوئے یہ سب ہو رہا ہے۔ اگر وہ نہیں ہوں گے تو یہ سب ہونا ممکن نہیں رہے گا۔

عجیب ملک ہے جس پر روز اربوں کا قرضہ چڑھ رہا ہے اور اس کا انتظام سنبھالنے والے سب ارب پتی بنتے جا رہے ہیں۔ حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ جس میں حکومت بری طرح ناکام ہے۔ بلکہ تحفظ کرنے والے ہی ان کو غیر محفوظ کر رہے ہیں۔ جب تک اس ملک میں امن، سکون اور لوگوں کی حفاظت کا انتظام نہیں ہوتا تب تک اس میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ اس کی سیر کو نہیں آئے گا۔ یہ دنیا کی لوگوں کی پسندیدہ ملکوں میں شامل نہیں ہو گا۔

اس ملک میں لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ کرنا ملک کے معاملات چلانے والوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہے۔ اس لیے کہ زندگیوں کا تحفظ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب قانون کی مکمل پاسداری کی جائے۔ اور قانون کو نافذ کرنے والے اس کو حقیقی معنوں میں نافذ کریں۔ یہاں قانون نافذ کرنے والے اپنے اختیار کا استعمال کر کے سمگلنگ کرواتے ہیں، ڈاکوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، سمگلروں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ بھتہ خوروں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔

قبضہ گیروں کی اعانت کرتے ہیں۔ اسلحہ اور منشیات فروش اور مافیاز کو ہر ممکنہ سہولت و مدد فراہم کرتے ہیں۔ جب تک ان سرکاری اہلکاروں کو اس کام سے نہیں روکا جائے گا۔ لوگ مرتے رہیں گے اور یہ اہلکار جیبیں بھرتے رہیں گے۔ اس لیے کہ دہشت گردوں اور انتشار و خرابی پھیلانے والوں کو فرشتے کنٹرول نہیں کرتے حکومتیں ان کو روکنے کے لیے ادارے بناتے ہیں اور اگر ان کو روکنے والے بھی ان کے ساتھ مل جائیں تو پھر وہی ہوتا ہے جو اس وقت اس ملک میں ہو رہا ہے۔

اس کا حل بہت ہی آسان ہے۔ افغان شہریوں کو فوراً اس ملک سے بے دخل کیا جائے۔ سمگلنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ اور سرکاری اہلکاروں کو قانون کا پابند بنایا جائے۔ ان کی آمدن اور موجودہ مالی حیثیت کا موازنہ کیا جائے۔ کسی بھی سرکاری اہلکار کو بیرون ملک جائیداد بنانے اور شہریت حاصل کرنے کا اختیار نہ دیا جائے۔ اور پورے ملک میں یکساں قوانین نافذ کیے جائیں۔ کسی بھی علاقہ اور شہر کو کوئی خصوصی حیثیت اور ٹیکسوں میں چھوٹ نہ دی جائے۔

تمام کاروبار رجسٹرڈ کیے جائیں۔ دنیا کی طرح ٹیکس لینے کا ایک ہی نظام رائج کیا جائے، کسی بھی چیز یا سیکٹر کو سبسڈی نہ دی جائے۔ سرمایہ داروں کو چیرٹی کے نام پر ٹیکس سے چھوٹ نہ دی جائے۔ قوانین کی خلاف ورزی پر سخت ترین سزائیں رکھی جائیں اور قانون کی عمل داری اور انصاف کا حصول آسان تر بنایا جائے۔ تمام مراعات ختم کی جائیں اور کام کے عوض پوری دنیا کی طرح صرف تنخواہ دی جائے۔ حکومتی اخراجات کم کر دیے جائیں اور حکومتی مراعات کو ان کی آمدن میں سے کٹوتی پر رکھا جائے۔

تو یہ ملک بھی دوسرے ممالک کی طرح ترقی کر سکتا ہے۔ مگر یہاں صحت اور تعلیم پر خرچ کرنے کے لیے تو کچھ بھی نہیں ہے لیکن اشرافیہ کو مراعات اور سہولیات دینے کے لیے کھربوں خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس وقت ملک کی پولیس کا بیس فیصد سے زیادہ عملہ با اثر لوگوں کی حفاظت و خدمت پر مامور ہے۔ جبکہ دنیا میں کسی ملک کی پولیس ایسا کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ ان لاکھوں پولیس اہلکاروں کو فوری اپنی ڈیوٹی پر واپس بلایا جائے اور ان کو عوام کی حفاظت پر مامور کیا جائے۔ جس دن ملک کے انتظام چلانے والے ملک کا سوچیں گے اور ملک کے فائدے کا سوچیں گے۔ وہ دن پاکستان کی ترقی کا پہلا دن ہو گا۔ اور خدا جانے وہ دن کب آئے گا۔ جب تک وہ دن نہیں آئے گا یہاں لوگ مرتے رہیں گے۔ اور ہم ان کا سوگ مناتے رہیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments