خطوط کی سیاست اور بلی تھیلے سے باہر
دو روز قبل ہی تحریر کیا تھا، کہ ”تحریک انصاف“ اور اس کے ”لواحقین“ اگلے مرحلے میں قاضی فائز عیسی کی بنچ میں موجودگی پر بھی اعتراض کریں گے، اب لارجر بنچ کی تشکیل کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے سپریم کورٹ کے اس تشکیل شدہ سات رکنی لارجر بنچ پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس سلسلے میں چیف جسٹس سپریم کورٹ قاضی فائز عیسی کی اس سات رکنی لارجر بنچ میں موجودگی پر بھی اعتراض کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف ہائی کورٹ سے حماد اظہر کی تیس سیکنڈ میں اکاون مقدمات میں ضمانت دی جاتی ہے، وہی ہائی کورٹ جس کے حکم پر جیل حکام نے قیدی نواز شریف کی، ان کی مرتی ہوئی بیگم سے فون پر بات کروانے سے بھی انکار کر دیا تھا، وہی ہائی کورٹ، جیل حکام اور قیدی عمران نیازی کے درمیان، جیل حکام پر دباؤ ڈال کر ایسا معاہدہ کرواتی ہے جس کی پاکستان کی عدالتی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، قیدی کے لیے ”بحکم“ جیل میں فائیو سٹار سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے، اس معیار کا کھانا بحکم اس قیدی کو مہیا کروایا جاتا ہے جس کی قیمت ایک شخص کے لیے ماہوار چھ لاکھ بنتی ہے۔
اب یہی ہائی کورٹ اپنے احکامات کے ذریعے یہ بھی یقینی بنا رہی ہے، کہ جیل میں بند قیدی کی ان کی بیگم سے تنہائی میں ان کے فرمائش کے ماحول میں، ملاقات کا موقع دیا جائے، جیسے جیل میں بند باقی تمام قیدیوں کو بھی یہ ”سہولت“ دی جا رہی ہو! آج ہی بانی پی ٹی آئی عمران خان نیازی نے پریس سے بات کرتے ہوئے یہ اعتراف فرمایا ہے کہ یہ ججز ہم سے ”رابطہ“ کر کے ہم سے معذرت کیا کرتے تھے، کہ ہم مجبور ہیں، اب اس بیان کو بھی اس کیس کی کارروائی میں شامل کر لیا جانا چاہیے، جس میں ایک ”غیر قانونی“ رابطے جس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں، اس کا اعتراف عمران خان نیازی صاحب کی طرف سے کیا جا رہا ہے، اور ان کا یہ بیان ان غیر قانونی رابطوں کی تصدیق ہے، لہذا عمران خان نیازی صاحب کو بھی باقاعدہ طور پر اس کیس کا حصہ بنایا جانا چاہیے اور ان جج حضرات سے بھی ان رابطوں کے قانونی سٹیٹس کے بارے میں پوچھا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ کو، خود پر دباؤ کے الزامات لگانے والے ہائی کورٹ کے شکایت کنندہ چھ محترم ججز کے دیے گئے فیصلوں، ان فیصلوں کے میرٹ، اور ان کے پاس پی ٹی آئی کے بانی اور ان کی پارٹی کے زیر کارروائی، کیسز کے میرٹ اور ان پر جاری کارروائی کے ساتھ مبینہ ناجائز جھکاؤ اور غیر قانونی سہولت کاری کا بھی گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ ان فیصلوں، ان محترم جج صاحبان کے کنڈکٹ اور فیصلوں کا باریکی سے جائزہ لینا اور تجزیہ کرنا، سپریم کورٹ کے اس لارجر بنچ پر فراہمی انصاف کے لیے لازم و متعلق ہے، تاکہ اس کیس سے متعلق ان محترم جج صاحبان پر مذکورہ مبینہ دباؤ کے بارے میں تمام حقائق سامنے آ سکیں، اس بارے میں ان شکایت کنندہ معزز جج صاحبان کو دوران کارروائی یہ نشاندہی بھی ضرور کرنی چاہیے کہ کس نے، کس طرح، کب اور کس کس مقدمے کے بارے میں ان پر دباؤ ڈالا تھا، جیسے جسٹس (ر) شوکت صدیقی، جن کا ان شکایت کنندہ جج صاحبان نے اپنے خط میں حوالہ بھی دیا ہے، نے واضح طور پر ان پر دباؤ ڈالنے والوں کے نام اور ان مقدمات کی نشاندہی فرمائی تھی جن کیسز کے بارے میں ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔
ان شکایت کنندہ معزز جج صاحبان کو بھی سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے سامنے اسی طرح یہ امور واضح طور پر لانے چاہئیں، تاکہ سپریم کورٹ کے مقرر کردہ لارجر بنچ کی طرف سے اس مقدمہ میں مبنی بر انصاف فیصلہ دیا جا سکے، نیز جب تک اس کیس کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا ان درخواست دہندہ و شکایت کنندہ ججز کو متعلقہ زیر کارروائی کیسز سے علیحدہ کر دیا جانا چاہیے، جو کہ اس مقدمے کے انصاف کے مطابق فیصلے کے لیے اشد ضروری ہے۔


