کیا پاکستان کی ترقی نہ کرنے کی بنیادی وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے؟
فلسفے میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے جسے ”truism“ کہتے ہیں۔ ٹروازم ایسی بات کو کہا جاتا ہے جو سچ ہوتی ہے مگر نہایت غیر دلچسپ اور بالکل واضح سچ۔ ایسا سچ جس میں کوئی دوسری رائے نہ ہو اور جس پر سب متفق ہوں۔ یہ سچائیاں عموماً خود بخود سوچے بغیر قبول ہو جاتی ہیں یا سبھی کی طرف سے قبول کی جاتی ہیں۔ ٹروازم کی کچھ مثالیں دیکھیں، ”احتیاط علاج سے بہتر ہے“ ۔ ”اتفاق میں برکت ہے“ ۔ ”زمین سورج کے گرد گھومتی ہے“ وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح پاکستان میں بھی کچھ باتیں ”ٹرو ازم“ بنتی جا رہی ہیں۔ یہ باتیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے سچ ہیں اور ان پر کم او بیش تمام لوگ متفق بھی ہیں۔ ایسی ہی ٹرو ازم کی کچھ مثالیں دیکھیں، ”فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے“ ۔ ”مقبولیت نہیں قبولیت ضروری ہے“ ۔ ”پاکستان اپنی خارجہ پالیسی بنانے میں آزاد نہیں ہے“ ۔ ”فوج کا بجٹ پاکستان کی معیشت پر بوجھ ہے“ وغیرہ وغیرہ۔ اب چونکہ ان باتوں پر سب ہی متفق ہیں لہذاء یہ بھی بہت بد مزہ سی سچائیاں بن کر رہ گئی ہیں کیونکہ ان میں نہ تو بات کرنے کو کچھ نیا ہے اور نہ ہی تلاش کرنے کو کوئی نئی حجت ہے۔ یہ سب ”ٹروازمز“ پچھلے دو تین سالوں سے زبان زدِ عام ہیں۔ ہر کوئی ان پر اپنی رائے دے رہا ہے اور بات کر رہا ہے۔ اِن سبھی پر ایک آرٹیکل میں بات کرنا ممکن نہیں ہے البتہ ان کی جوہرِ بنیاد یا core essence پر بات کی جا سکتی ہے اور آج یہ کوشش بھی کر کے دیکھتے ہیں۔
ان سبھی ٹروازمز کی بنیاد اس ٹروازم پر ہے کہ ”پاکستان کی ترقی نہ کرنے کی بنیادی وجہ اسٹیبلشمنٹ ہے (جس کے لیے ہم زبان زدِ عام لفظ“ فوج ”کہیں گے، البتہ اسٹیبلشمنٹ صرف فوج نہیں ہوتی) ، اور اگر سیاست میں فوج کا عمل دخل ختم ہو جائے تو پاکستان ترقی کی راہوں پر دوبارہ گامزن ہو جائے گا“ ۔ یہ بات اصولی طور پر درست ہے، کیونکہ فوج کی مداخلت شفاف جمہوریت کا راستہ روکتی ہے۔ [ویسے یہاں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا جمہوریت واقعی ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہے؟
اور کیا ترقی، خوشحالی اور جمہوریت میں بل واسطہ یا بلا واسطہ کوئی تعلق ہے؟ یہ کہانی پھر کبھی۔ ] یہ بات ہمیشہ ضروری نہیں ہوتی کہ جو بات اصولی طور پر درست ہو وہ ہر ملک کے زمینی حقائق کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو۔ اس کی ایک مثال دیکھ لیجئیے۔ ”ٹِم مارشل“ اپنی کتاب ”prisoners of geography“ میں لکھتے ہیں کہ ”
Islam, cricket, the intelligence services, the military, and fear of India are what hold Pakistan together ”.
گویا کہ اسلام، کرکٹ، انٹیلیجنس
ایجنسیز اور ہندستان کا خوف وہ گوند ہیں جو پاکستان کو اکھٹے جوڑے رکھتی ہیں۔ ”ٹم مارشل“ ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ بتا گئے کہ ان میں سے ایک کو بھی نکال دو تو پاکستان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ یارو! نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان سے فوج کا کردار ختم کرنے سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا، تو یہ اُسکی خام خیالی ہے۔ اگر ایک دم سے فوج کا کردار ختم ہو جائے تو ملک بھی ختم ہو جائے گا۔ تو پھر ہونا کیا چاہیے۔
1) سیاسی جماعتیں فوج کو ملکی معاملات سے نکلنے کے لیے ایک محفوظ باعزت راستہ فراہم کریں۔
2) فوج کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کبھی ایک اور کبھی سیاسی جماعت کو اسپورٹ کرنے سے فوج کا محکمہ بدنام ہو رہا ہے۔ اب یہ کھیل بند ہونا چاہیے۔
3) ملکی سیاسی جماعتیں اس بات پر پر اتفاق کریں کہ حالات جیسے بھی ہوں نہ فوج کو سیاست میں گھسیٹیں گیں اور نہ ہی اقتدار کی سیڑھی چڑھنے کے لیے فوج کا کندھا استعمال کریں گیں۔
4) سیاسی جماعتیں پہلے اپنے اپنے اندر سے، اور پھر باقی اداروں کو اندر سے ایسے لوگوں کو نکال باہر کریں جو غیر سیاسی طاقتوں کے اہلکار بنتے رہے ہیں۔


