تاحیات ایکسٹینشن سے میر جعفر تک
اس میں اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ عمران خان کا ہدف آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہے۔ عمران خان دانستہ طور پر تیسری مرتبہ جنرل عاصم منیر کے خلاف ادارہ جاتی بغاوت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ پہلی بغاوت لانگ مارچ کی صورت میں سامنے آئی۔ دوسری بغاوت نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ تھی اور تیسری بغاوت کا پیش خیمہ عمران خان کا حالیہ جنرل عاصم منیر کے متعلق بیان ہے۔ عمران خان کی اس حد تک جنرل عاصم منیر کے خلاف عداوت، بغض اور تعصب کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ مبینہ طور پر جنرل عاصم منیر نے بطور ڈی جی آئی ایس آئی اپنے فرائض کی انجام دہی کرتے ہوئے عمران خان کو آگاہ کیا کہ آپ کی بیوی آپ کا نام استعمال کر کے کرپشن کر رہی ہے۔
یہ بات آج تک عمران خان کو کھٹک رہی ہے۔ جب بشری بی بی توشہ خانہ سے 74 کروڑ روپے کے تحائف مفت چوری کر کے گھر لے گئی تب عمران خان پر ریاست مدینہ بنانے کا جنون سوار تھا انہی دنوں بشری بی بی کے لیے ملک ریاض کی بیٹی صبا سے پانچ قیراط ہیرے کی انگوٹھی لینے کی آڈیو لیک ہوئی جس میں فرح گوگی ملک ریاض کی بیٹی سے پانچ قیراط ہیرے کی انگوٹھی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بشری بی بی خاتون اول ہیں۔ ان کے سٹیٹس کا کچھ خیال رکھا جائے دو قیراط کم ہے کم از کم پانچ قیراط کی انگوٹھی ہونی چاہیے اور کیا ملک ریاض نے القادر ٹرسٹ کے لیے 460 کنال زمین سخاوت کے طور پر بشری بی بی کو عنایت کی تھی؟
یہ وہ واقعات ہیں جن کی بنیاد پر عمران خان مسلسل جنرل عاصم منیر کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف عمل ہے۔ عمران خان کے نزدیک ہر وہ شخص ایماندار ہے جو اس کا ساتھ ہے۔ اس بات کی تصدیق موجودہ آئی ایس آئی چیف جنرل ندیم انجم بھی کر چکے ہیں انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ عمران خان نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن کی آفر کی تھی اس کے بدلے میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی طریقے سے اپوزیشن کو میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے سے روکا جائے۔
جب جنرل باجوہ نے عمران خان کی غیر آئینی مدد کرنے سے انکار کیا تو انہوں نے جنرل باجوہ کو جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میر جعفر کہہ کر مخاطب کیا۔ پھر جب فوجی ترجمان کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تو عمران خان نے پینترا بدلا اور کہا کہ میں نے تو یہ بیان نواز شریف کے لیے استعمال کیا تھا۔ آج بھی عمران خان کی آخری امید کچھ ججز ہیں۔
یاد رہے جو جج صاحبان آج دباؤ کا الزام لگا رہے ہیں یہ تمام ججز اس وقت خاموش تھے جب سابق جسٹس شوکت صدیقی نے جنرل فیض حمید کی مداخلت کا الزام لگایا تھا۔ عمران خان اس وقت شدید مایوسی کا شکار ہے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ عمران خان جیل میں رہ کر خود کو بدل لیں گے اور محاذ آرائی کی مزید سیاست نہیں کریں گے لیکن یہ تمام تجزیے غلط ثابت ہوئے۔ عمران خان آج بھی موجودہ فوجی قیادت کے خلاف ہے۔
بظاہر دیکھا جائے تو عمران خان فوج کے خلاف نہیں ہے کیونکہ یہ ایک موقع پرست آدمی ہے اگر صبح موجودہ فوجی قیادت عمران خان کے سر پر ہاتھ رکھ دے تو یہ ان کو بھی قوم کا باپ قرار دے گا لیکن فی الحال ایسی کوئی گنجائش نظر رہی کیونکہ نو مئی کے واقعات کے بعد دو فار فارمیشن کمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ نو مئی کے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں کو کسی طور پر معافی نہیں ملے گی ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ تمام سیاست دانوں کو آپس میں اتفاق رائے سے سیاسی مسائل حل کرنے چاہیے لیکن بد قسمتی ہے کہ عمران خان کسی بھی سیاستدان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں عمران خان جب تک اپنی انا کے گھوڑے پر سوار رہیں گے یہ جیل میں رہیں گے۔
سمجھدار سیاست دان وہی ہوتے ہیں جو بات چیت کے دروازے کھلے رکھتے ہیں جو تن تنہا اپنی ٹانگ اوپر رکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں وہ ریس سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ خود کو عقل کل سمجھنا بھی شیطانی عمل ہے۔ اگر آپ جنگل میں رہتے ہیں تو آپ کو اپنے ارد گرد گھومتے حشرات، کیڑے مکوڑے اور باقی جانوروں کی فکر نہیں ہوگی جب آپ انسانوں کے درمیان رہتے ہیں تو یقیناً آپ کو باقی انسانوں کے بھی احساسات، جذبات اور عزت نفس کا خیال رکھنا پڑے گا۔
اگر آپ ہر کسی کی پگڑیاں اچھالیں گے تو یقیناً یہ پگڑی آپ کی بھی کچھ لے گی پھر جب آپ کی پگڑی اچھلے گی تو کوئی اسے اٹھانے والا نہیں ملے گا۔ عمران خان کہ لب و لہجے سے نظر آ رہا ہے کہ وہ کسی بھی سیاستدان کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہے اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو پاکستان میں سیاست کرنے کے مستقل اہل نہیں رہیں گے۔


