بہاولپور کے نوجوان کی کہانی


خدمت خلق میں بنیادی بات یہ ہے کہ خدمت محض خدمت کے جذبہ سے ہو کوئی ذاتی غرض نہ ہو۔ شہرت، دکھلاوا اور نام و نمود شامل نہ ہو داد تحسین، لوگوں کی واہ واہ مقصود نہ ہو۔

اور حسیب اقبال صاحب کا شمار بھی ایسے ہی خدمت خلق کے مالک انسانوں میں ہوتا ہے آپ نہ صرف بہاولپور اور پاکستان کے دیگر شہروں میں انسانی حقوق کے لیے کام کر رہیے ہیں بلکہ بیرون ملک بھی جاکر آپ نے انسانی حقوق کے لیے آپ نے اپنی آواز بلند کی ہے۔

حسیب اقبال صاحب ایک رحم دل رکھنے والے سوشل ایکٹوسٹ ہیں جو اپنی نرم زبان و لہجے اور اعلی اخلاق حسن سلوک کے مالک ہیں۔ آپ بہت محنتی اور مشکل حالات کا بہادری سے لڑنے والے سوشل ایکٹویسٹ ہیں۔

انھوں نے بین المذاہب ہم آہنگی پہ بھی کام کیا ہے اور اس کے لیے آواز بھی اٹھائی ہے۔

جبکہ بین المذاہب ہم آہنگی پہ آواز اٹھانا بہت مشکل کام ہے کیوں کہ ایسا کرنے پہ مختلف رویوں کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لیکن حسیب صاحب نے بہادری کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہوئے اپنے طے کیے ہوئے راستے پر سفر کرتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول کی منازل طے کی ہیں۔ اور انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے کے مشن کو کامیابی سے لے کر منزل کی طرف گامزن ہیں۔

اس سفر میں ان کے بہت سے قریبی دوست احباب نے بھی بڑی حوصلہ افزائی کی اور مشکل حالات میں ساتھ دیا اور آپ کے جب بھی قدم ڈگمگائے آپ کا سہارا بن کے سنبھالا اور ہمت بندھائی۔

حسیب صاحب اپنے بلند حوصلے اور ہمت کی وجہ سے ہی یہ سنگ میل طے کرسکے۔ حسیب اقبال صاحب نے آٹھ ممالک کا سفر کیا بے شمار ایوارڈز اپنے نام کے ساتھ منسوب کروائے۔ جن میں ہیومن رائٹس 2022 کا ایوارڈ قابل ذکر ہے۔

آپ نے بہت سارے ممالک میں جا کر انسانی حقوق کے بارے میں کام کیا ہے لیکن وہ اپنے افریقہ کے سفر کے بارے میں ایک دل سوز واقعہ اکثر سناتے ہیں کہ میں نے صحیح معنوں میں غربت افریقہ کے ممالک میں دیکھی ہے۔

وہاں میں نے ایک خاتون اور اس کے بچوں کو دیکھا کہ اس خاتون کے پاس ایک مرغی کا ٹکڑا تھا جو اس نے اپنے آٹھ معصوم بچوں میں بھی تقسیم کیا اور خود بھی اسی میں سے کھا کر اللہ کا شکر ادا کیا۔

جب کہ میں اپنے ملک میں بہت سی جگہ رزق کی بربادی ہوتے دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور وہ لوگ یاد آتے ہیں جو غربت سے بھی نیچے کی لکیر میں اپنی زندگی کے دن بسر کر رہے ہیں اور ہم لوگ اتنے ناشکرے ہیں کہ اللہ کی حاصل کردہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ رزق ضائع کر کے نعمتوں کا ضیاع کرتے ہیں۔

حسیب اقبال صاحب انسانی حقوق کے لیے کام اپنا ایمان سمجھ کر کرتے ہیں اور اپنے نوجوانوں کو بھی کہتے ہیں آئیں مل کر امن، انسانی حقوق اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کام کریں لوگوں میں محبتیں بانٹیں اور نفرتوں کو نکال باہر کریں تاکہ اللہ تعالی اس کے رسول اللہﷺ کی خوشنودی حاصل کریں۔

 

Facebook Comments HS