یاسر پیرزادہ اور یونیورسٹی آف نارووال


چند دن قبل یاسر پیرزادہ صاحب نے ”رئیس الجامعات اور ان کی نالائقیاں“ کے نام سے کچا پکا کالم لکھ مارا، جو رئیس الجامعات کی تو کم، یاسر پیرزادہ کی کم از کم اس کالم کی حد تک نالائقی سے زیادہ پردہ اٹھاتا ہے۔

یاسر پیرزادہ نے کالم کے آغاز میں ملک کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی ہے، جو قرض میں ڈوبا ہوا ہے، جس کے تیرہ بچے ہیں، جن کو پالنے کے لالے پڑے ہیں۔ کمائی کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں جاتا ہے اور وہ شخص چاہتا ہے کہ بچے امریکی جامعات میں پڑھیں۔ اس شخص کے جذبے کی تو تحسین کی جاتی ہے لیکن سب یہی کہیں گے کہ پہلے بچے سکول تو پڑھا لو۔ یہیں سے یاسر پیرزادہ نے قلابازی لگائی اور ملک میں چپے چپے پر قائم ہونے والی یونی ورسٹیوں کا رونا رویا اور ساتھ ہی ایک اور قلابازی لگائی اور بتایا کہ سوا دو کروڑ بچے سکول نہیں جاتے اور ہم نے یونی ورسٹی آف نارووال بنا دی۔

یاسر صاحب چلیں مان لیتے ہیں کہ ملک کی حالت اس مقروض شخص جیسی ہی ہو گی اور نارووال اسی ملک کا حصہ ہے تو اس کی بھی یہی حالت مان لیتے ہیں، لیکن نارووال کے طلبہ نے کب امریکی جامعات میں پڑھنے کا مطالبہ کر دیا؟ آپ نے اسی کالم میں ملک کی 154 جامعات کا تذکرہ کیا، تو کیا نارووال جامعہ کا حق نہیں رکھتا؟ کیا یہ حق صرف بڑے شہروں کو ہی حاصل ہے؟ آپ نے لکھا کہ اس مقروض شخص کو مشورہ ہے کہ پہلے بچے اسکول میں تو پڑھا لے، تو آپ کو بتاتے چلیں کہ نارووال کا شمار پنجاب کے خواندگی کے لحاظ سے بہتر اضلاع میں ہوتا ہے۔

یہاں کے طلبہ گوجرانوالہ بورڈ میٹرک لیول پر گزشتہ تین برس سے لگاتار ٹاپ کر رہے ہیں۔ تو کیا یہ طلبہ اعلی تعلیم سے محروم رہیں؟ یا بڑے شہروں کا رخ کریں؟ آپ لاہور، اسلام آباد کے کالجوں خاص کر جامعات میں زیر تعلیم طلبہ سے پوچھیں، ان کی اکثریت آپ کو نارووال اور اس جیسے چھوٹے اضلاع سے ہی ملے گی۔ تو اگر نارووال کے طلبہ کی سہولت کے لیے یونی ورسٹی بنا دی گئی ہے تو آپ کو دیگر 153 یونی ورسٹیاں تو نظر نہیں آئیں۔

اسی یونی ورسٹی آف نارووال میں اس وقت کم و بیش سات ہزار طلبہ زیرتعلیم ہیں جن میں سے اکثریت طالبات کی ہے۔ ان جیسی بہت سی طالبات ماضی میں صرف اس بنیاد پر اعلی تعلیم سے محروم رہ جاتی تھیں کہ ان کے والدین دیگر شہروں میں تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر پاتے تھے یا انھیں اجازت نہ ملتی تھی۔ پاکستان میں پانچ کروڑ سے زائد طلبہ اس وقت مختلف لیول پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اگر ان میں سے دس لاکھ بھی جامعات میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوتے ہیں تو فی جامعہ تقریباً ساڑھے چھ ہزار طلبہ بنتے ہیں۔ لہذا 154 جامعات کس طور زیادہ ہیں؟

پیرزادہ صاحب نے آگے چل کر پاکستانی جامعات کی ریسرچ پر سوال اٹھایا ہے اور بتایا ہے کہ جب بھی ریسرچ کارکردگی پر بات ہو جواب یہی ملتا ہے کہ ہمارے پاس وافر بجٹ نہیں اور اس کا تقابل اسٹینفورڈ اور آکسفورڈ جیسی جامعات سے کیا ہے، جنھوں نے سلیکون ویلی اور کووڈ ویکسین تیار کی ہیں۔ (کووڈ کی ویکسین سے اربوں ڈالر کمانے کا تو پیرزادہ صاحب نے لکھ دیا لیکن یہ لکھنا بھول گئے کہ کتنے ملین ڈالر اس ویکسین کی تیاری میں صرف ہوئے ) اگر ان دونوں جامعات کا بجٹ اور ہماری ان 154 جامعات کا بجٹ بھی وہ لکھ دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ یقیناً ان دونوں کا بجٹ ہماری تمام جامعات کے بجٹ سے کہیں زیادہ ہو گا۔ ہماری یہ جامعات تو یورپ امریکا کی جامعات کے سامنے ابھی کل کے بچے ہیں۔ آکسفورڈ کو بنے نو سو سے زائد برس بیت گئے، اسٹینفورڈ بھی انیسویں صدی میں بنی۔ ہماری ایک آدھی کے علاوہ تمام جامعات 1947 ء کے بعد وجود میں آئی ہیں۔

رئیس الجامعات کا نہ ہونا یا کسی ایک جامعہ میں کسی نا اہل پروفیسر کو رئیس الجامعہ کا وقتی چارج مل جانا کیسے ثابت کرتا ہے کہ یہ جامعات بے مقصد ہیں؟ یاسر صاحب یہ بھی گلہ کرتے ہیں کہ کوئی بھی جامعہ حکومت کو ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے منصوبہ نہ دے سکی جب کہ مردان سے نارووال تک ہر گلی میں معیشت کے پی ایچ ڈی موجود ہیں۔ پتہ نہیں یاسر پیرزادہ کن گلیوں میں پھرتے رہے ہیں جہاں ہر سو پی ایچ ڈی کے چراغ روشن تھے، ہمیں تو ہر گلی تو دور ہر دسویں یا بیسویں گلی میں بھی اندھیرا نظر آیا۔

یاسر پیرزادہ شاید بھول گئے کہ ہماری حکومتیں جامعات کے مشوروں پر نہیں چلتیں بلکہ انھیں تو افسر شاہی (بیوروکریسی) چلاتی ہے، جس کا وہ قابل فخر حصہ ہیں۔ پچھتر برس میں ہمارے زوال کو روکنے کے لیے افسر شاہی نے کیا منصوبے پیش کیے؟ وہ ان کا ہی تذکرہ فرما دیتے۔ افسر شاہی کے یہ سفید ہاتھی ایک برس میں کتنا بجٹ لیتے ہیں اور یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کے اس نوعیت کے افسران کتنا بجٹ لیتے ہیں؟ اس تقابل پر بھی پیرزادہ صاحب لکھ دیتے تو آسانی رہتی۔ ہمارے ڈی سی او لیول کے افسران کی رہائش گاہوں اور 10 ڈاوئننگ سٹریٹ کا موازنہ بھی کر دیتے تو قارئین کے لیے آسانی رہتی کہ مسائل کی جڑ کہاں ہے

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments