ڈاکٹر رؤف پارکھ: لسانیات کے بنیادی مباحث کا تعارفی مطالعہ
رؤف پارکھ نے لسانیات پر انتہائی اہم کتاب لکھی ہے بنیادی طور پر یہ ایک تحقیقی کتاب ہے، جس میں ڈاکٹر موصوف نے دیگر ماہرین لسانیات کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا انتہائی سکون قلبی اور مدلل انداز میں جواب دیا ہے۔ موصوف نے زبان اور لسانیات کی بنیادی اکائیوں مثلاً صوتیہ، لفظ اور بولی تک کے مباحث کو عمیق توجہ سے برتا ہے۔ کتاب چودہ ابواب پر مشتمل ہے جس کے تمام ابواب کا درجہ بدرجہ ہم مختصر تعارف پیش کرتے ہیں۔
”لسانیات (Linguistics) کا اردو ترجمہ ہے۔ فلالوجی (Philology) کی اصطلاح
بھی لسانیات کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ لیکن فلالوجی نسبتاً ایک وسیع تر
اصطلاح ہے جس کے مفہوم میں زبان کے سائنسی مطالعہ کے علاوہ ادبیات کا سائنسی مطالعہ
بھی شامل ہے۔ ” ( 1 )
پہلے باب کا عنوان ”زبان اور لسانیات ہے“ جس میں زبان اور لسانیات کا مکمل تعارف پیش کیا گیا ہے۔ زبان اور لسانیات کے حوالے سے دلچسپ حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ لسانیات کے موضوعات کی وضاحت کی گئی ہے۔ فطری مباحث کے عنوان کے تحت، قواعد، علم اصوات، مارفیمیات، نحو، ذخیرۂ الفاظ، معنیات، املا، کے مطالعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ تشریحی لسانیات کے عنوان کے تحت، تاریخی، تقابلی لسانیات، صوتیات اشتقاقیات اور سماجی لسانیات کی بات کی گئی ہے۔
اطلاقی لسانیات کے عنوان کے تحت، اکتساب زبان، زبان دوم، قانونی لسانیات، تعلیم زبان، کمپیوٹری لسانیات اور نفسیاتی لسانیات کی بات کی گئی ہے۔ زبان کے مطالعے کی سائنسی بنیادیں بیسویں صدی کے آغاز میں اس وقت شروع ہوئیں جب سویٹزرلینڈ کے Feridanand de sasure) (کی کتاب منظرِ عام پر آئی۔ ساسور نے پہلی بار زبان کے تقریری روپ کی جانب اہلِ علم کی توجہ مبذول کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ماہرین لسانیات کی ایک صحت مند تحریک نے جنم لیا اور اس طرح سے جدید لسانیات کے شعبے کا قیام عمل میں آیا۔
لسانیات، زبان کے سائنسی مطالعے کا نام ہے۔ تعلیمی نظام میں لسانیات کی سب سے بڑی دین یہ ہے کہ اس نے زبان کی ماہیت کے شعور کو عام کیا ہے یعنی یہ بتانے کی کوشش کی ہے کی زبان کیا ہے۔ زبان کو اسطور کی دنیا سے نکال کر معروضیت کی روشنی میں پیش کیا۔
دوسرے باب کا عنوان ”لسانی مطالعات کی تاریخ: ایک مختصر جائزہ“ ہے جس میں ابتدا سے اٹھارہویں صدی تک کے مطالعات کی تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے۔ لسانیات میں زبان کے مطالعے کے دو طریقہ کار وضع ہیں 1۔ تاریخی لسانیات 2۔ توضیحی لسانیات تاریخی لسانیات: (Historical Linguistics ) : تاریخی لسانیات میں زبانوں کی تاریخ کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے ان کی عہد بہ عہد تبدیلیوں کا کھوج لگایا جاتا ہے۔ یہاں ان اصولوں اور قواعد کا مطالعہ کیا جاتا ہے جن کے سبب زبانوں میں مختلف قسم کی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں یہ تبدیلیاں تلفظ کے اعتبار سے بھی ہو سکتی ہے معنی کے اعتبار سے بھی ہو سکتی ہیں۔
”زبان سے متعلق مطالعات کا باقاعدہ آغاز یوں تو تقریباً ڈھائی ہزار سال قبل یونان میں ہوا
لیکن زبان اور اس سے متعلق مسائل و مباحث کا باقاعدہ آغاز تو اسی وقت ہو گیا تھا۔ جب انسان
زبان کے عملی استعمال میں مسائل اور سوالات سے دوچار ہوا اور اس نے زبان میں دلچسپی لینی
شروع کی۔ اس دلچسپی کے ثبوت کے طور پر ملنے والے ابتدائی نقوش آج سے کوئی چھے ہزار سال
پہلے کے ہیں۔ 2
اس باب میں، لسانی مطالعات قدیم عراق میں، میخی خط قدیم ایران میں، قدیم ہندوستان میں لسانی مطالعات، قدیم یونان میں، قدیم چین میں، رومن تہذیب اور لسانیات، عرب دنیا میں، لسانیاتی مطالعات اور فلولوجی اور لسانیات کا دور جدید کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
تیسرے باب کا عنوان ہے ”مارفیم، مارفیمیات اور اردو“ اس باب میں مارفیم: معنی کی اکائی مارفیم کی تعریف اور اہم نکات، لغوی مارفیم، قواعدی مارفیم، لغوی لفظ اور قواعدی لفظ یک مارفیمی الفاظ، کثیر مارفیمی الفاظ، دو مارفیمی الفاظ کی مثالیں، سہ مارفیمی الفاظ، چہار مارفیمی الفاظ، پنج مارفیمی الفاظ، مارف، ایلو مارف، صفر مارف، مارفیمیات: مارفیموں کا علم، مارفیم کی قسمیں، آزاد مارفیم، پابند مارفیم، آزاد مارفیم کی قسمیں، کھلا مارفیم، بند مارفیم، پابند مارفیم کی قسمیں تصریفی مارفیم، اشتقاقی مارفیم کی بابت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
چوتھے باب کا عنوان ہے ”تعلیقیہ، مادہ، ساق اور اردو کے مارفیم“ اس باب میں تعلیقیہ، تعلیقیوں کی قسمیں، سابقہ، لاحقہ، وسطانیہ، مادہ، ساق، اردو میں ساق کی مثال، مارفیم اور صرفی تبدیلیاں، زبانوں کی نوعیاتی گروہ بندی اور تعلیقیے، غیر ترکیبی زبان، امتزاجی زبان، تصریفی زبان کی مکمل صراحت کی گئی ہے۔
پانچواں باب: ”معنی، نحو اور تداولیات“ کے عنوان سے ہے جس میں نحو، تداولیات، لفظ کے معنی: من مانے اور متفق علیہ، صوتی علامتیت، نحو کی خودمختاری اور معنویات، معنوی خاصیت، معنوی خاصیتوں کا ثبوت، کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ نحویات (: (Syntaxنحویات، کسی زبان میں الفاظ کی مخصوص اور با معنی ترتیب کو کہتے ہیں۔ زبان میں جملوں کی ساخت اور جملوں میں لفظوں کی ترتیب کے قاعدوں کا مطالعہ نحویات کے ذیل میں آتا ہے۔ مثلاً ( احمد نے کھانا کھایا) ۔
یہ اردو نحو کے اعتبار سے الفاظ کی صحیح ترتیب ہے۔ اگر اس کے بدلے یوں کہا جائے کہ ( کھانا کھایا احمد نے ) تو اس کے معنی کی ترسیل پیچیدگی کا باعث بنے گی۔ صرف و نحو کو ملا کر زبان کی قواعد کہا جاتا ہے۔ معنیات (: (Semenaticsلفظوں اور جملوں کے مطالب اور معانی کا مطالعہ معنیات کہلاتا ہے۔ ان مطالب کا زبانوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔ لفظ اور معنی کے درمیان کیا رشتہ ہے۔ یہ رشتہ منطقی ہے یا علامتی۔ ان سب حقائق کا کھوج علم ِ معنیات سے لگایا جاتا ہے۔
چھٹا باب: ”لغوی معنویات اور لغوی رشتے“ کے عنوان سے ہے جس میں معنوی خاصیت، معنوی میدان، لغوی یا معنوی رشتہ، لغوی رشتوں کی اقسام، ترادف، ذیلی اسمیت، کل اسمیت، تجنیس تام کی تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے۔
ساتواں باب: ”صوت، صوتیات اور صوتیہ“ کے عنوان سے ہے جس میں صوت تکلم، صوتیات، صوتیات کے شعبے، تلفیظی صوتیات، ترسیلی یا سمعیاتی صوتیات، سمعی صوتیات، آواز کی اکائی: صوتیہ یا فونیم، تلفیظ، جوف دہن، صوتی قطعہ، تنگی، صوتیہ کیسے بنتا ہے؟ صوتیے کی قسمیں : مصوتے اور مصمتے، مصوتہ، مصمتہ، مصوتے سے متعلق دو غلط فہمیوں کا ازالہ، دو اہم باتیں، کے عنوان کے تحت صوتیات کی تفصیل وضاحت کی گئی ہے۔ صوتیات: (Phonetics) : اسے لسانیات کی کلید بھی کہا جاتا ہے۔
زبان آوازوں کے علامتی اور تصوراتی نظام کا نام ہے۔ انسانی دہن مختلف قسم کی آوازوں کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک آواز دوسری آوازوں سے مل کر زبانوں کو جنم دیتی ہیں۔ صوتیات لسانیات کا وہ علمی شعبۂ ہے جس میں انسانی اعضائے تکلم سے پیدا ہونے والی ان آوازوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے جو مختلف زبانوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس مطالعے میں آوازوں کی تشکیل، ادائیگی، ترسیل، نیز آوازوں کی ان کے مخارج اور دیگر اعتبار سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔
آٹھواں باب: ”اصوات مقام تلفیظ اور انداز تلفیظ“ کے عنوان سے ہے جس میں ہوائی بہاؤ کا نظام کار، تلفیظ کار، مفعولی تلفیظ کار، مصمتے اور ان کی تلفیظ مقام تلفیظ، مصمتے، مقامات تلفیظ اور مصمتوں کا جدول، انداز تلفیظ، انداز تلفیظ کا جدول، مقام تلفیظ اور انداز تلفیظ کا مشترک جدول، مصوتے اور ان کی تلفیظ، مصوتوں کی محرف ہندسی شکل، مصوتوں کے جدول کی بابت تفصیل بیان کی گئی ہے۔
نواں باب: ”اردو کے مصوتے اور مصمتے“ کے عنوان سے ہے۔ اس باب میں علم اصوات یا فونیمیات، فونیمیات اور صوتیات میں فرق، صوتیے کا وجود اور اقلی تخالفی جوڑے، اردو اور اقلی تخالفی جوڑے، اردو کے صوتیوں یا فونیموں کی تعداد، اردو کے اساسی مصوتے، اردو کے کچھ اضافی مصوتے، انفی مصوتے، کی تفصیلی وضاحت کی گئی ہے۔ یہ باب اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ جو لوگ اردو کے مصوتے اور مصمتے کی بابت کسی ابہام کا شکار ہیں۔ اس باب کے مطالعے سے وہ اردو کے مصوتوں اور مصمتوں کی بابت حتمی طور پر جان سکتے ہیں۔
ایک زبان میں استعمال ہونے والی آوازوں کی تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے لیکن فونیمات کی تعداد محدود اور مقرر ہوتی ہیں۔ اردو میں فونیمات کی صحیح تعداد کے بارے میں بھی علمائے لسانیات کے مابین ذرا سا اختلاف رائے پا یا جاتا ہے۔ کوئی ان کی تعداد ( 58 ) کوئی ( 48 ) اور کوئی ( 44 ) قرار دیتا ہے۔ ملاحظہ کیجئے : 1۔ اردو کی تعلیم کے لسانیاتی پہلو از: گوپی چند نارنگ 2۔ خلیل احمد بیگ از: اردو زبان کی تاریخ 3۔ اردو لسانیات کی تاریخ از: درخشاں زریں۔ 3
دسواں باب: ”صوت رکن، صوت رکنی ساخت اور صوتیاتی حروف تہجی“ کے عنوان سے ہے جس میں صوت رکن، صوت رکنی تحریر، اردو الفاظ کی صوت رکنی تحریر: یک، دو سہہ، چہار رکنی الفاظ مصمتی خوشے، اردو کے صوت رکنوں کی ساخت اور خصوصیات، اردو کے صوت رکنوں کی ساخت میں ہونے والی تبدیلیاں، مصوتوں کی تحریری شکل اور تلفظ، بین الاقوامی صوتیاتی حروف تہجی: آئی پی اے، اردو کے بعض حروف تہجی کی دہری حیثیت، اردو کا نیم مصوتہ کی تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے۔
گیارہواں باب:سماجی لسانیات سے متعلق ہے جس کا عنوان ”زبان اور معاشرہ“ ہے۔ اس باب میں، زبان اور شناخت، سماجی لسانیات کی تعریف اور تعارف، سماجی لسانیات اور زبان کی سماجیات، ترجمہ، لسانی جبریت اور لسانی اضافیت، لسانی فرق، لسانی تغیر، تغیر اور فرق کی مثالیں، لسانی فرق کی صورتیں، زبان کی نوع، بولی یا ڈائیلکٹ، بولی یا ڈائیلکٹ کی قسمیں، معیاری زبان اور ڈائیلکٹ، ڈائیلکٹ لہجہ نہیں ہے۔ بولیوں کا علم، لسانی نقشے، کی تفصیلی وضاحت کی گئی ہے۔
بارہواں باب: ”کثیر لسانی معاشرہ مشترک زبان اور قومی زبان“ کے عنوان سے ہے۔ یک لسانیت، دو لسانیت اور کثیر لسانیت، مشترک زبان یا لنگوافرینکا، قومی زبان، اردو کو قومی زبان بنانا کیوں ضروری ہے؟ سرکاری یا دفتری زبان، مادری زبان، زبان اول، اردو بطور قومی اور دفتری زبان، پجن اور کری اول، لسانی ثنویت یا ڈائگلوسیا، ٹرائگلوسیا، تبدیلیٔ زبان یا کوڈ سوئچنگ، سک یا اسٹائل، سلینگ، رجسٹر، کے حوالے سے مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے۔
تیرہواں باب: تاریخی لسانیات کے حوالے سے ہے جس کا عنوان ہے ”تاریخی لسانیات: زبانوں کے خاندان“ ۔ اس باب میں تاریخی اور تقابلی لسانیات، پروٹو لینگویج یا قبل ترین زبان، زبانوں کے خاندان، زبانوں کے خاندان کے ضمن میں اہم باتیں، تقابلی طریقہ، کثیر زمانی اور یک زمانی مطالعہ، اردو میں لسانیات کی تدریس: ایک بنیادی غلطی، کی بابت تفصیل بیان کی گئی ہے۔ تاریخی لسانیات میں زبان کے ماخذ ’ارتقا اور تشکیل یا بازیافت سے بحث ہوتی ہے اس میں الفاظ کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیا جاتا ہے اور ان گروہوں کے مطالعے کے ذریعے زبان کے اصل وطن کی شناخت اور اس کی خصوصیات معلوم کی جاتی ہیں۔
جس خاندان کے اصل روپ کی تحقیق کرنی ہو اس کی موجودہ زبانوں کے علاوہ پرانی شاخوں کے الفاظ بھی سامنے رکھے جاتے ہیں۔ مفرد الفاظ کے علاوہ قدیم زبانوں کے پھیلاؤ ’علاقے اور وجود سے بہت سے تاریخی نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ تہذیبی اور مذہبی حالات کو دریافت کرتے وقت ان سے متعلق علوم پربھی نظر رکھی جاتی ہے۔ پروفیسر گیان چند جین کے بقول:
”تاریخی لسانیات کے تحت ہم کسی زبان کا ارتقا بیان کرنے کے لیے اس کی قدیم تر منزل
کا تجزیاتی بیان پیش کرنے کے لیے مجبور ہیں یعنی یہ کہ ماضی میں اس کی اصوات، اس کی
قواعد، اس کے چسپیے (Affixes) وغیرہ کیا تھے۔ اس طرح تاریخی لسانیات تجزیاتی
لسانیات سے استفادہ کرتی ہے اور جہاں تک تقابلی لسانیات کا سوال ہے وہاں بھی تجزیاتی
لسانیات سے کنارہ کشی ممکن نہیں۔ دو مختلف زبانوں کی اصوات یا ان کی تعریف کے قواعد
کا مطالعہ تبھی تو جا سکتا ہے جب ہم ان میں سے ہر ایک کی بناوٹ سے واقف ہوں۔ اس
طرح تقابلی لسانیات بھی تجزیاتی لسانیات کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہے۔ ”4
چودھواں باب: نفسیاتی لسانیات کے حوالے سے ہے جس کا عنوان ہے ”ذہن اور زبان“ اس باب میں نفسیاتی لسانیات، نفسیاتی لسانیات کا دائرۂ کار، نفسیاتی لسانیات کے تحقیقی مباحث، نفسیاتی لسانیات کے آغاز، کی بابت تفصیل بیان کی گئی ہے۔
”لسانیات کے بنیادی مباحث“ علم لسانیات کے حوالے سے ایک بے حد مفید کتاب ہے جس میں طلبا کی درسی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے مشکل سے مشکل لسانی مباحث کو آسان اور عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ایک تحقیق ہے۔ اس میں تمام منابع اور مصادر کے مکمل حوالے دیے گئے ہیں۔
حوالہ جات:
1۔ ابوالاعجاز حفیظ صدیقی ’کشاف تنقیدی اصطلاحات‘ اسلام آباد:مقتدرہ قومی زبان ’1985 ء‘ ص 156۔
2۔ رؤف پارکھ، ڈاکٹر، لسانیات کے بنیادی مباحث، ص 15
3۔ گیان چند جین، پروفیسر، عام لسانیات، ص 25۔
4۔ محمد حسین، ڈاکٹر، اردو لسانیات ایک تعارف، اردو ریسرچ جرنل، جو لائی 2017 ء


