برطانیہ کے ایک منفرد ٹیکسی ڈرائیور
پاکستان میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے عمومی رویوں پر سب مسافر شاکی رہتے ہیں۔ ویسے پاکستان میں اب پرانی روایتی ٹیکسیاں خال خال ہی نظر آتی ہیں کیونکہ اب اوبر اور کریم جیسی کمپنیوں نے ٹیکسی کا کاروبار سنبھال لیا ہے۔ موجودہ دَہائی میں بہت سے بیرون ممالک کا سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ یورپ مشرق وسطی اور مشرق بعید کے ممالک کی سیر کرنے کے دوران ٹیکسیوں پر بہت سے سفر کیے۔ سبھی ممالک میں ٹیکسی ڈرائیور کے رویے ایک جیسے ہی پائے۔ چین کے شہر بیجنگ کا تجربہ تو انتہائی خراب تھا۔
میں پہلی دفعہ برطانیہ 2004 ء میں آیا تھا۔ پچھلے سالوں میں متعدد چکر لگائے اور اب تو بچوں کی وجہ سے ہر سال آنا پڑتا ہے۔ یہاں بہت دفعہ ٹیکسی میں سفر کرنے کا اتفاق بھی ہوا۔ یورپ اور مشرق وسطی کے مقابلے میں برطانیہ کے ٹیکسی ڈرائیوروں کا رویہ مجھے بہت بہتر محسوس ہوا۔ برطانیہ میں بسنے والے پاکستانی نژاد تارکین وطن کا زیادہ تر تعلق آزاد کشمیر کے ضلع میرپور سے ہے۔ ملازمت پیشہ اور کاروبار کے علاوہ بہت سے لوگ ریستوران اور ٹیکسی کے بزنس سے وابستہ ہیں۔ چند سال پہلے میری دو ایسے ٹیکسی چلانے والوں سے ملاقات ہوئی تھی جنھوں نے اپنے تجربات سے مجھے آگاہ کیا۔ ان کی کہانیاں میں اپنی کتاب ”مشاہدات و تاثرات“ میں لکھ چکا ہوں۔
لوگوں کے رویے آپ کی سوچ بدل دیتے ہیں، ایسا ہی واقعہ میرے ساتھ دو دن پہلے پیش آیا۔ میں چند دن پہلے ہی برطانیہ پہنچا ہوں۔ ماں جیسی بڑی بہن سے ملنے دوسرے شہر جانا تھا۔ بچے اپنے کاموں میں مصروف تھے اس لیے ہم ہفتہ وار چھٹی کے دن ہی وہاں جا سکتے تھے۔ جب کہ میں ان سے فوری ملنا چاہتا تھا، اس لیے صبح بچے جب کام پر چلے گئے تو میں گھر سے نکلا اور برمنگھم سے پچاس میل دور شہر جانے کے لیے کوچ پر سوار ہو گیا۔ اس شہر میں بسنے والے اپنے ایک دوست سے وہاں کے ایک ٹیکسی بیس کا فون نمبر لیا اور ان سے ٹیکسی بک کروا لی۔
انھوں نے بتایا کہ جب آپ کی بس کوچ سٹیشن پر پہنچے گی تو ٹیکسی آپ کو سٹیشن سے باہر تیار ملے گی۔ انھوں نے گاڑی کا نمبر اور ڈرائیور کا فون نمبر بھی مجھے بھیج دیا۔ ہماری کوچ گیارہ بجے سٹی سینٹر میں واقع کوچ سٹیشن پر پہنچی۔ میں کوچ سٹیشن سے باہر نکلا تو سامنے ایک کالے رنگ کی نئے ماڈل کی مرسڈیز گاڑی کھڑی تھی۔ پچاس پچپن سال کا ایک بندہ گاڑی کے ساتھ کھڑا تھا۔ کلین شیو، سمارٹ، بہترین تراش خراش کا سوٹ پہنے، خوبصورت ٹائی لگائے، بیلٹ کے ہم رنگ جوتے پہنے، کسی مہنگے برانڈ کا دھوپ کا چشمہ لگائے وہ کوئی شہزادہ لگ رہا تھا۔
اسے دیکھ کر یوں لگا جیسے وہ کسی کا انتظار کر رہا تھا۔ میں بھی کھڑا ہو کر ٹیکسی کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد میرے فون کی گھنٹی بجی اور کسی نے بڑی شستہ انگریزی میں پوچھا کہ آپ پہنچ گئے ہیں میں کوچ سٹیشن کے باہر کھڑا ہوں۔ کالے رنگ کی مرسڈیز گاڑی ہے اور ساتھ ہی گاڑی کا نمبر بھی بتایا۔ تب میں اپنے سامنے کھڑی گاڑی کی طرف چل پڑا۔ اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر مرسڈیز گاڑی کے ساتھ کھڑا آدمی بھی الرٹ ہو گیا اور آگے بڑھ کر میرا نام پوچھا۔
میں نے اپنا نام بتایا تو اس نے بتایا کہ وہ مجھے لینے آیا ہے۔ میں بڑا حیران ہوا اور گاڑی کے پیچھے جا کر اس کا نمبر چیک کیا وہ وہی تھا جو مجھے فون پر ملا تھا۔ ای کلاس کی سیاہ رنگ کی مرسڈیز ایک سال ہی پرانی تھی۔ اس نے مجھے گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھایا اور مجھ سے میری منزل کا پتہ پوچھا۔ میرے بتانے پر اس نے گاڑی چلا دی۔ گاڑی چلنے پر میں نے اندر کا جائزہ لیا۔ گاڑی کے سیاہ رنگ کی مناسبت سے اندرونی سجاوٹ، صاف ستھری گاڑی سے خوشگوار مہک آ رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستانی ہو یا انڈین۔ اس نے اردو میں جواب دیا کہ پاکستانی ہوں۔ پاکستان میں اس کے شہر کا نام پوچھا تو پھر چند لمحے میں ہماری گفتگو اپنی مادری زبان پہاڑی میں ہونے لگی۔ وہ میرپور کے نواحی قصبے کا رہنے والا تھا۔
میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر جب اسے پتہ چلا کہ میں نے بھی کتابیں لکھ رکھی ہیں تو وہ بہت خوش ہوا اور بتایا کو وہ بھی کتابوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ اردو ادب اور تاریخ سے گہری دلچسپی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس اپنی لائبریری ہے، جس میں تین ہزار سے زیادہ کتابیں ہیں۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا
” میں نوے کی دہائی میں برطانیہ آیا تھا۔ مشکل وقت تھا۔ بہت سی نوکریاں کیں۔ تنگ آ کر آخر ٹیکسی کا لائسنس لیا اور پچھلے پچیس سال سے ٹیکسی چلا رہا ہوں۔ ہمیشہ اچھی گاڑی رکھتا ہوں۔ اپنے ہر مسافر کی عزت کرتا ہوں۔ جو ایک دفعہ میرے ساتھ سفر کر لیتا ہے دوسری بار سفر کرنے کی تمنا رکھتا ہے۔ بچوں کو اعلی تعلیم دلائی ہے۔ اپنے کام کے اوقات ایسے رکھے ہیں کہ زیادہ وقت بچوں کے ساتھ گزارنے کا موقع مل سکے۔ میں نے ٹیکسی ڈرائیوروں کے رویوں کی بات کی تو اس نے کہا کہ اس شعبے میں زیادہ تر اچھے افراد ہیں لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کی وجہ سے یہ شعبہ بدنام ہے۔ باتوں میں مسافت کا پتہ ہی نہیں چلا اور ہم منزل مقصود پر پہنچ گئے۔ میں نے بیس پاؤنڈ کا نوٹ اسے دیا لیکن اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ کہنے لگا کہ سر آپ اس شہر میں ہمارے مہمان ہیں اور ہم مہمانوں سے کرایہ نہیں لیتے۔ میرے حد درجہ اصرار کے باوجود اس نے کرایہ نہیں لیا
مجھے گھر کے سامنے اس نے اتارا، خود گاڑی سے نیچے اتر کر میرے گلے ملا اور گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔ میں چند منٹ تک حیران سڑک پر کھڑا رہا۔ جہاں کچھ افراد پر لوگوں کا شکوہ ہے تو وہیں اس جوان جیسے بندے بھی اس شعبے میں موجود ہیں۔


