انسانیت کی ترقی اور ہماری ذمہ داریاں
جب بھی انسان کو کوئی انہونی چیز یا خیال ملتا ہے، تو اس سے پہلے پہل خوف کھا جاتا ہے اور اپنے آپ سے تقابل کرتا ہے کہ اگر اس کا مقابلہ کر سکتا ہے تو روک کر اس پر غور کرتا ہے، کہ کس طرح اس کو پکڑ کر اپنے قابو میں لایا جا سکتا ہے اور اگر کامیاب نہیں ہوتا تو اس سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر وہ چیز یا خیال بالکل اس کے گلے میں ڈل جائے تو اس کو خدائی نزول سمجھ کر ساتھ رکھ لیتا ہے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرتا ہے۔
اور اگر اپنے کھودے ہو گڑھے سے خزانہ کے بجائے کوئی دیوے ہکیل جاندار نکل آئے تو اپنے طاقت کے مطابق مقابلہ کرتا ہے۔ اگر نہیں کر سکتا تو اپنے ملکیت کو چھوڑ کر اس سے دور بھاگتا ہے۔ یہ تو ہوئی ان چیزوں کی بات جو کسی فرد یا کسی ایک قبیلے کے ساتھ پیش آتی ہیں اور ان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوجاتی ہیں۔ مگر آج کل زیادہ تر انسان کے لئے خطرہ بننے والی چیزیں قدرتی آفات ہوتی ہیں جن کا اختیار انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔
تو انسان نے ان سے بچنے کے لئے کئی طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔ اب زلزلہ ہونے سے پہلے پتہ لگ جاتا ہے اور لوگ چھتوں سے باہر نکل آتے ہیں اور ان کی جان بچ جاتی ہے۔ مگر اب انسانیت کے لئے انسان کے بنائے ہوئے اپنی چیزیں خطرہ ثابت ہو رہی ہیں۔ بیسویں صدی کی شروع میں ایجاد کرنی والی ایٹم بم سے آج کا انسان خوف کھاتا ہے اور اس طرح ایک اور مصیبت انسان کے سامنے آتی ہے۔ اگر اس کے اچھے پہلوں کو دیکھیں تو انسان بغیر کسی خاص محنت کے راہ نجات پا سکتا ہے مگر جب اس کے منفی پہلوں پر نظر ڈالیں تو آج کے انسان کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے۔
اگر اب بھی ہم مصنوعی ذہانت ( اے آئی) سے دور بھاگے تو شاید یہ ہمارے لئے وبال جان بن سکتی ہے جتنی تیزی سے دنیا بھر میں اس کی اہمیت کو تسلیم کر کے اپنے استعمال میں لایا جا رہا ہے۔ آج کی گلوبل منڈی کی ترسیل زر کی بڑھوتری ان ممالک کی طرف چلی جا رہی ہے جہاں لوگوں نے آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس کو سمجھا اور اس کو اپنے استعمال میں لایا۔ اب کئی دفاتر میں کلرکی کام اے آئی سے کروایا جا رہا ہے۔ ڈرائیونگ کا کام بھی بخوبی انجام دیتا ہے۔
علاج معالجے کے معاملات میں درست فیصلہ کی شرح بھی کافی درست ثابت ہو رہی ہے۔ چین میں تعلیمی نظام کے حصہ بن چکی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو اے آئی سے متعارف کرائیں اور ان کو سوال کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ وہ اس سے سوال کر سکیں اور اس سے بہت کم عرصے میں بہت کچھ جان سکیں۔ اب ہمیں اپنے نوجوان نسل کو جنوں اور بھوتوں کی کہانیوں سے نکال کر ایک تشخیصی سوچ کے حامل شخص بنانا ہے تاکہ یہ معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔


