کہانی باغ کے رنگ
’شجرِ حیات‘ ریاظ احمد کا ناول ہے جسے مارکسی فریم میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اسے ایک دور افتادہ مشرقی یورپی فضا کا ناول کہا جا سکتا ہے مگر اپنے نقطۂ نظر بیان کرنے اور تعمیم لانے کے لیے ایک فنتاسی میں رکھا گیا ہے جس کا مکانی دائرہ ’کہانی باغ‘ ہے اور اس کے باسی ’شوق‘ اور ’جنون‘ ہیں یا وہ ’ادراک‘ کہ جس میں کردار کو اپنے ’سایہ‘ ہونے کا اس لیے معلوم ہے کہ اس نے ہزاروں لوگوں کو مرتے دیکھا ہے، پہلے ان کا شوق مرتا ہے، پھر ذوق اور آخر میں وہ خود مر جاتے ہیں، اور دفن ہونے سے پہلے تک وہ فقط ’سایہ‘ کی صورت موجود رہتے ہیں۔
تاہم اس ’کہانی باغ‘ میں وہ رنگ زندہ رہ جاتے ہیں جو مکان کی اس اینٹ سے ہوں جس کی قیمت ایک روٹی کی قیمت کے برابر ہوتی ہے یا پھر وہ رنگ زندہ رہ جاتے ہیں جو ہر ماہ اس احساس میں دکھائی دیتے ہیں کہ کرایہ دار گھر کا نہیں بل کہ زندہ رہنے کا کرایہ دیتا ہے۔ اس لیے اس رمز کا راز اس تصویر میں جا کھلتا ہے جہاں سبز اشجار کو نیلا، سرخ سیبوں کو سیاہ اور نیلے آسمان کو سرخ کر کے رنگوں کی تبدیلی سے معنویت بدل دی جاتی ہے اور وہ رنگ دکھائی دیتے ہیں جو تصویر کے اصل رنگوں کی موجودگی میں دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
اس سے یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے کہ سرخ رنگ بہ یک وقت خطرے، انقلاب اور خوشی کے لیے کیوں مخصوص ہے۔ انھی رنگوں کی کہانی میں خوب صورتی کو مصور کرنا لامحدود کو چھونے کے مترادف ہو جاتا ہے مگر کہانی کے پاس بیاں ہونے کے لیے کتنے رنگ ہوتے ہیں، یہ ایک مصنف اور اس کا قلم ہی طے کرتے ہیں۔ ’شجرِ حیات‘ کے ناول نگار نے کہانی کے رنگ کے لیے آغاز الہیاتی منظر نامے سے کیا ہے جس میں ’کتابِ مقدس‘ کے متن میں باغِ عدن کا مکان ہے اور ازلی وقت کی پیدائش کا زمان۔
خداوند مخاطب ہے کہ ”آدمی نیک و بد کی پہچان میں ہماری مانند ہو گیا ہے، اور اب کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے، اور شجرِ حیات سے بھی کچھ لے کر کھائے، اور ہمیشہ جیتا رہے۔“ یہ الہیاتی خدشہ جس پیغمبر کی زبانی دنیا کو معلوم ہوا تھا، یہ وہی پیغمبر ہے جس نے لاچاروں اور غلاموں کو آزادی کے خواب دکھائے تھے اور لوگوں کو مرنے نہیں دیتا تھا، وہ ایسا معجزہ رکھتا تھا کہ جس سے مردہ جسموں میں جان آ جاتی تھی جب کہ اس کے مقابل وہ ذہنیت تھی جو غلاموں کو اس لیے زندہ رکھتی تھی کہ وہ بدلے میں مرتے دم تک ان کے دیے گئے روٹی کے ٹکڑوں کی قیمت پر غلامی کریں اور اپنے زندہ رہنے کی قیمت میں اپنے آقاؤں کے وفادار رہیں۔
یوں جب اس پیغمبر نے غلامی کی کوکھ سے نکلی وفاداری کے فریب سے نکال کر سچی محبت کی آگہی دی تو آقاؤں نے محبت کے پیام بر کو مصلوب کر کے تاریخ کو اپنی مرضی سے موڑنا چاہا مگر تاریخ اور وقت کے فیصلے اپنے ہوتے ہیں۔ اس ناول میں وقت کے رحم و کرم پہ آئے ہوئے انسان کی بے بسی اور اس کی نیت کے بل بوتے پر بنتی تقدیر کا ’ہونا‘ اس ناول میں اس انداز میں پیش کیا گیا کہ لگتا ہے ابنِ مریم، بہزاد، نیلو فر، چاند، سمندر، مذہب، کہانی اور خداوندِ خدا ایسے کردار ہیں جو معنوی صورت میں اس ناول کی دنیا میں دوبارہ نئے لباس میں اس طور سامنے آئے ہیں کہ ان کے پاس اپنے پرانے عہد کا مختص شدہ وظیفہ بھی موجود ہے اور نئے عہد کا اُسی سانچے میں نبھانے کو نیا کردار بھی۔
ناول میں انھی کرداروں سے بُنی بہ ظاہر تو محبت کی وہی ایک کہانی ہے جسے لفظ بدل کر بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔ مگر۔ اس ناول کی خوبی اس کا اسلوب اور ناول نگار کی برجستگی اور زیرکی ہے۔ حیات و کائنات کے کتنے ایسے گنجلک ہیں جو ہر ہر صفحے پہ کھلتے جاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جملوں کے لیے فضا بنانا اور پھر ان جملوں کا بر محل استعمال کر کے اس فضا کو تحلیل کرنا اتنا لطیف احساس اور چاشنی آسا ہے کہ قاری پہ ایک طرف زیست کے کئی راز کھلتے چلے جاتے ہیں تو دوسری طرف قاری بار بار اس کہانی کار سے اسی بات کی توقع کرتا ہے۔
مگر جب ناول نگار کو قاری کی اس طلب کا اندازہ ہو جاتا ہے تو یہاں پہنچ کر جہاں اس کے پاس چونکانے کا پورا پورا موقع ہوتا ہے، وہ اپنی کہانی سے خود ہی آگے نکل کر چغلی کھانا شروع کر دیتا ہے۔ قاری چونکنا چاہتا بھی ہے تو یہ اسے اس لطافت سے محروم کر دیتا ہے۔ پہلے لگتا ہے کہ سابقہ تجربے کو بار بار نہیں دہرانا چاہتا تاکہ اس ہنر کی طلب بڑھائے مگر پھر گماں ہوتا ہے کہ شاید اس کے نزدیک یہ لطافت کی بجائے کوفت یا اذیت ہو، جس سے مصنف کی طبعِ نازک کی طرف گماں ہوتا ہے کہ وہ خود کے بارے میں جتنا حساس ہے دوسروں کے بارے میں بھی اتنا ہی حساس ہے۔
یہ دوسری بات مان لیں تو یہ ایثار کی وہ صورت ہے جس میں فن کی قربانی ہوئی ہے۔ ورنہ اس ناول نگار کے پاس بے ساختگی اور اچانک پن کے اتنے حربے موجود ہیں کہ آپ ناول میں کئی کئی موقعوں پہ اش اش کر اٹھتے ہیں اور داد دیے بنا نہیں رہ پاتے۔ ہاں! اکثر جگہیں ایسی ضرور ہیں کہ جہاں اسلوب اپنی چستی کے تمام امکان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے مگر ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ناول نگار نے جان بوجھ کر ایسے کھانچے چھوڑے ہیں کہ اس سے ناول کی اٹھان لینے کا تجربہ قاری بھرپور طرح سے کر پائے۔
اس طرح اس نے کہیں کرداروں کو ایک دوسرے سے اوجھل کیا اور کہیں قاری کو کرداروں کی جزوقتی خاموشی کی آڑ میں اوٹ میں رکھ کر کہانی کو دلکش بنانے اور جاذبیت کا طلسم بھرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ کہیں یہ مد و جذر ناول کے اندر سمندر اور چاند کے بیچ ہوتی ہے اور کہانی کے باہر کہیں قاری اور اسلوب کے درمیان۔ کہانی میں عالمِ رویا میں ہیرو کو عارضی موت کا سامنا کرنے کے وقت پیغمبر کی صورت میں اپنے نفس سے سامنے ہوتا ہے تو ہیروئن کو اپنی ہم زاد کی صورت میں ماں اور پھر اس کے ساتھ ہی چاند کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمیں بوس ہونے کی صورت میں سمندر سے آشنائی اور مد و جذر کی ساری کہانی سمجھ آتی ہے کہ ان ٹکڑوں کو سمندر کے سپرد کرنے سے آسمان کیوں کر روشن ہو گا۔
یوں یہ دونوں الگ الگ دیکھے گئے ٹالٹک کے نظریۂ خواب سے جا برآمد ہوتے ہیں جہاں زندگی کی کُلی حقیقت عالمِ بیداری کی بجائے عالمِ رویاء ہے۔ جہاں انسان سوتے سمے ہی ارضی خواب کے بڑے عالم میں پہنچ کر ایک دوسرے سے جڑتا ہے۔ اسی لیے تصور، تصویر، مصور اور مصوری کی رمزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کی جو پانچ حالتیں اس ناول میں دکھائی گئی ہیں ان میں ایک صورت کچی نیند میں دیکھنے کی بھی ہے، جس سے دیکھنے والے پر وہ کچھ منکشف ہو سکتا ہے جو لفظوں اور حواس میں ممکن نہ ہو، یعنی لفظوں کا تقلب رنگوں میں ہو جائے تو یہ ماورا کے گھپ اندھیرے میں دائمی زندگی کی رمک پکڑنے کا ہنر ہے جس سے ہر تصویر اپنے مبدائے خیال کے اُس سرے پہ تخیل کی بصارت کو لے جاتی ہے جہاں تجریدی ساخت عدم سے امکان کا لباس زیبِ تن کرتی ہے۔
اور یہ سارا کھیل شجرِ حیات سے جڑا ہے، اس لیے ایک مصور اور نفیس و نستعلیق انسان ہی اس شجر کی دریافت میں ایسا لکھ سکتا ہے جو اصلی صورت میں ایک تصویر کو اور تصور کو سمجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسی کاوش میں لفظوں سے تصویر بنا کر دکھانے کا تجربہ بھی کر سکتا ہے۔ یہ تجربہ ہر قاری کی اپنی حسِ جمالیات سے جڑا ہے۔ جو اس تصویر کو پڑھنا چاہتا ہے تو کھلا ہے بابِ سخن۔ اور اپنی اپنی توضیح و تشریح کرنا چاہتا ہے تو صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے۔


