شمسی توانائی کا حصول
پہلے تو جو کچھ صرف فلموں میں ہوتا تھا اب سائنسی ترقی کے بدولت عملاً ممکن ہو چکا ہے۔ اب ساری دنیا میں توانائی کے حصول کی خاطر ہر ملک کی جدوجہد جاری ہے کہ وہ اپنے عوام کے لیے کوئی نت نئی سہولت مہیا کرے۔ ماحولیاتی تبدیلی کی بدولت وقت کا تقاضا ہے کہ شمسی توانائی پہ توجہ دی جائے اور عوام کو انتہائی سستی بجلی مل سکے اسی لئے اب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اومان مل کر ایک نیا منصوبہ ترتیب دے رہے ہیں۔ یہ منصوبہ توانائی کے حصول لئے ایک اہم ترین سنگ میل ثابت ہو گا اس سے خلاء کے اندر کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہو گا اس سے پیشتر صرف ٹیلی مواصلاتی کاروبار ہی کسی قدر ہو رہا تھا۔
آئیے سمجھتے ہیں کہ یہ کام ہو گا کیسے؟ اس میں دو طریقے ہوسکتے ہیں اول اگر کوئی سیٹلائٹ خلاء میں معلق ہو اس میں فوٹو وولٹیک پینل لگے ہوں گے تو وہ سورج کی روشنی منعکس کریں گے وائرلیس نظام کے تحت جو زمین پہ ہمارے کام آئے گی۔ اس کی خوبی یہ ہوگی کہ اس سٹیلائٹ کو خلاء کے مدار میں گردش کرتے ہوئے سورج کے طلوع و غروب ہونے کا بھی کوئی خدشہ نہیں ہو گا نہ بادل یا فضائی آلودگی سد راہ بنے گی یوں دن رات اس کے فیوض و برکات حاصل ہو سکیں گے۔
دوئم اس نظام کی بہتری اور مزید فائدہ مند بنانے کے لئے انسانی تحقیق و ایجاد کا عمل بھی جاری ہے تاکہ اس نظام کا زیادہ سے زیادہ دائرہ زیادہ لمبے عرصے تک فائدہ پہنچ سکے۔ اس کے برعکس سورج کی براہِ راست روشنی حاصل کرنے کے لئے زمین پہ سولر شیشے لگائے جائیں جو اس کی کرنوں کو منعکس کر کے براہِ راست شمسی توانائی میں تبدیل کر دیں گے۔ توقع ہے کہ اس طریقے سے سالانہ ساٹھ فیصد زائد بجلی مفت میں مل جایا کرے گی۔ ایسے تجربات و مشاہدات روس پہلے ہی زانامییا میں 1990 سے کرتا آ رہا ہے۔
اس میں شیشے کی بڑے بڑے گلوب سورج کی روشنی کو منعکس کر کے میل ہا میل علاقہ روشن کردینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب سورج کی اس نعمت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے جہاں فوائد ہی فوائد ہیں وہاں کچھ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں مگر ان پہ ابھی تحقیق جاری ہے اور آنے والے دنوں میں اس پہ قابو پایا جاسکتا ہے۔ خلائی سولر انرجی سے دو گیگا واٹ انرجی پیدا ہو سکتی ہے جو ایک نوکیلئیر پاور اسٹیشن کے برابر پیداوار ہوگی۔
اس نئے مقابلے میں بڑی بڑی کمپنیاں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے پرعزم ہیں جو اس وقت موجود ہیں ان میں ائربس، نارتھراپ، گرومن، او ایچ بی ایس ای، تھیلیز ایلینا اسپیس اور بوئینگ شامل ہیں۔ برطانیہ میں اس نئی ٹیکنالوجی پہ بہت تیزی سے کام ہو رہا ہے اس ترقی میں ماحول دوست 8,500 میگا ٹن توانائی کی بچت ممکن ہوگی جو ہماری فضائی ماحول کو یکسر بہتر بنا دے گی۔
دنیا ترقی و خوشحالی کے راستے پہ بگٹٹ بھاگ رہی ہے۔


