وفور کا ایک تجزیاتی مطالعہ


ہر تخلیق چا ہے وہ منظوم ہو یا منثور، پھر نثر میں ناول ہو یا افسانہ اس کا ایک خاص وصف یا ایک الگ خاصیت ہوتی ہے۔ اور اس ناول کی بنیادی خاصیت یہ ہے کہ یہ اپنا آغاز پانچویں باب سے کرتا ہے۔ اور یہ جو گزرے ہوئے چار ابواب ہیں وہ کسی ریسٹورنٹ میں دیے ہوئے سٹارٹر کی طرح ہے کہ یہ بھی کھانے کے تمام لوازمات میں شامل ہوتا ہے لیکن بنیادی خوراک سے چونکہ پہلے یا ریسیپشن کے طور پر یا پھر بھوک کی اشتہا بڑھانے کے لئے دیا جاتا ہے تو یہ چار ابواب بھی بالکل بقیہ ناول کے پڑھنے اور مطالعے کی بھوک یا ہوس کو ابھارنے میں ویسے ہی معاون ثابت ہوتے ہیں جیسے سٹارٹر کھانے کی اشتہا میں۔

اس باب میں مرکزی کردار پہلی بار اپنی سوانح عمری بیان کرنے لگتا ہے اور ذاتی سوانح عمری سے زیادہ ادبی سوانح عمری کو سامنے لاتا ہے جس سے کردار پس پردہ چلا جاتا ہے اور اصل تخلیق کار پردے پر نمودار ہونے لگتا ہے۔ اس ناول میں زمانی دائرے میں کراچی میں جو سیاست ہوئی ہے اور اس دوران جو بین الاقوامی، مقامی، سیاسی، معاشی، سماجی، اخلاقی، لسانی، صنفی اور منفی اونچ نیچ ہوئی ہے اس کی سچائی کو اس ناول میں بڑے احسن طریقے سے سمویا گیا ہے جس سے یہ ناول مصنف کی ذاتی زندگی ہی کی نہیں پورے کراچی شہر کا ایک دردناک قصہ بن جاتا ہے۔ اور پھر خصوصی طور پر وہ قارئین جو تخلیق کار کو جانتے ہیں تو وہ اس ناول میں ریئلزم کی چاشنی کو بھی اتھاہ گہرائیوں تک محسوس کر لیتے ہیں۔

دراصل یہ ناول بے شمار کہانیوں کا مجموعہ ہے جو اکثر ناولوں میں ہوتا ہی ہے۔ لیکن ہر باب کو عنوان دے کر ہر عنوان شروع سے لے کر آخر تک ایک مکمل افسانہ یا کہانی بھی ہوتی ہے جو منفرد اور مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ جاری و ساری بھی ہوتی ہے جس میں مخصوص کرداروں کی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی کہانی کے تسلسل کو ایک مکمل ناول کی طرف بڑھاتا ہے، جو ایک خاص پیک یا عروج پر براجمان ہو کر اختتام کی راہ لیتا ہے، جس میں دھیمے اور بھینے سسپنس کی موجودگی اور آنکھوں اور ذہنوں کو خیرہ اور جھنجھوڑنے والی منظر کشی کی فراوانی قاری کو بور ہونے نہیں دیتی بلکہ پڑھتا اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔

اس ناول میں کرونا کے دور کے حالات و واقعات کو بڑی سنجیدگی اور بالیدگی سے اجاگر کیا گیا ہے اور کرونا سے متعلق لوگوں کے تحفظات، انکشافات، اختلافات، میلانات اور زیست و وفا کے محسوسات تک بڑی صداقت اور پوری ذمہ داری کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔

چونکہ ناول دو ایسے کرداروں سے متعلق ہے جو دونوں ادیب ہیں تو دونوں کے مکالموں میں کسی معروف شاعر یا ادیب کے نام کا تذکرہ ضرور ہوتا رہتا ہے جیسے کہ اس ناول کا مرکزی کردار علی جمال انتظار حسین کو پسند کرتا ہے تو نبیلہ جہاں منٹو کی دیوانی ہے، وہ اگر عصمت چغتائی کی فین تھی تو علی جمال غلام عباس کو بڑا افسانہ نگار سمجھتا تھا۔ البتہ ممتاز شیریں پر دونوں متفق تھے۔ اسی طرح ہمہ جہت تخلیقی شخصیت گلزار بھی دونوں کے لئے محترم تھے۔

وہ شاعروں میں جون ایلیا کا دیوانہ تھا تو نبیلہ جہاں کو جون ایلیا سے چڑ تھی کیونکہ وہ احمد فراز سے متاثر تھی۔ فیض کی شخصیت اور کلام پر ان دونوں کا مکمل اتفاق تھا۔ وہ عبداللہ حسین کو بڑا ناول نگار سمجھتا تھا تو وہ قرة العین حیدر کو بڑا سمجھتی تھی۔ اس طرح مغربی رائٹر کے حوالے سے بھی ان دونوں کے درمیان بہت سے اختلافات موجود تھے۔ اس کو روسی ناول نگار دوستوفیسکی کا شان دار اسلوب متاثر کرتا تھا تو وہ چیخوف کی کہانیاں پسند کرتی تھی۔

اسے کافکا کی وجودی کہانیوں میں ڈوبے رہنا اچھا لگتا تھا تو وہ سارتر کے وجودی فلسفے اور تحریروں کو بہتر سمجھتی تھی۔ اسی طرح اس کو جیمس جوائس پسند تھا تو وہ شیکسپئر کے پلیز کو اوپر رکھتی تھی۔ اب جہاں تک گیبریئل گارشیا مارکیز کے میجک ورلڈ کی بات ہے تو علی اس کا بہت بڑا مداح تھا تا ہم وہ میلان کنڈیرا کی دیوانی تھی۔ یہ اور اسی طرح کی پسند ناپسند اور ادبی مباحث دونوں کے درمیان ایک سطح پر وقتی چھیڑ چھاڑ کو ہوا دیتے تھے۔ دوسری جانب وہ دونوں ایک دوسرے کے جداگانہ اور مشترکہ مطالعے سے استفادہ بھی کرتے تھے۔

اس ناول میں علی کو جو نفسیاتی عارضہ یا جو ڈپریشن ہے اس کے طفیل ادبی سیاست کے درون خانہ اور بیرون خانہ کارستانیوں کی جو خبر لی گئی ہے وہ مشاہدے اور تجربات کا بین ثبوت ہی نہیں صداقت کا بھی آئینہ دار ہے۔ اسی طرح کالج میں پروفیسر حضرات اور کامن روم کو بھی نہیں بخشا گیا اور کیوں بخشتا کیونکہ یہ برائی ان میں موجود تھی اور اس عمل یا برائی کے لئے وہ معتوب تھے اور جب تک وہ توبہ تائب نہیں ہوتے وہ بخشنے کے روادار بھی نہیں تھے۔

اس ناول میں مکالموں میں ادب و آداب کا پاس رکھا گیا ہے، جملوں میں رکھ رکھاؤ ہے، جگہ جگہ نثر میں نغمگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میچور مکالمے، تخلیقی اور قافیہ بند جملوں کے ساتھ ساتھ انگریزی کے مستعمل اور غیر مستعمل الفاظ مانوس اور قدر نامانوس ترکیبات، جگہ جگہ ایڈیٹنگ کی سنجیدہ محتاجی خصوصی طور پر جب یہ کسی مصنف کا دوسرا ایڈیشن ہو اور ناول کے مصنف کی ایک قسم کی بیزاری کی کیفیت ابھر کر سامنے آ رہی ہو تو قاری بھی اکتاہٹ محسوس کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کبھی کردار یک دم مصنف کا لہجہ بولنے لگتا ہے یا پھر مصنف کردار کے لہجے میں رطب اللسان ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ یا مزید پھر مخالف مرکزی کردار جو نائمہ کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے متعدد بار صائمہ کے نام سے لکھا اور پکارا جاتا ہے جس پر قاری پھر سے ورق گردانی شروع کرتا ہے کہ وہ یہ نام غلط پڑھ رہا ہے یا پھر لکھنے لکھانے میں کوئی بھول چوک ہوئی ہے۔

اس ناول میں بنیادی طور پر ایک تخلیقی اور شعوری امیچورٹی یا نا بلوغت نظر اتی ہے۔ اور یہی اس ناول کی ریئلیٹی یا حقیقت پسندی ہے کیونکہ اس ناول کی دروبست جوانی کی زیست پر ہے جہاں ہوتی ہے جذباتیت اور امیچورٹی ہے ورنہ ناول کے مصنف کی موجودہ زمانی بلوغت، ذہنی و جسمانی میچورٹی ان سے بہت سنجیدہ موضوع پر ناول لکھنے کا تقاضا کرتی ہے۔

 

Facebook Comments HS