’خدا نے کائنات کو تخلیق نہیں کیا‘: سائنسدان سٹیون ہاکنگ


نوٹ: سٹیون ہاکنگ کی کتاب BRIEF ANSWERS TO BIG QUESTIONS سے لیے گئے ایک باب کی تلخیص اور ترجمہ

جدید سائنس نے ان سوالوں کے جواب دینے شروع کر دیے ہیں جو ایک طویل عرصے تک مذہب کے دائرہ اختیار میں تھے۔ مذہب نے ان سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی تھی جو ہم سب انسان اپنے آپ سے پوچھتے ہیں

ہم اس دنیا میں کیوں آئے ہیں؟
ہم یہاں کہاں سے آئے ہیں؟
اور
کائنات کو کس نے تخلیق کیا ہے؟
صدیوں سے مذہب نے ہمیں بتایا کہ یہ سب خدا کا کرشمہ ہے۔ یہ کائنات خدا نے تخلیق کی ہے۔

مذہب نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ کائنات میں کچھ مافوق الفطرت ہستیاں ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں بجلی کڑکتی ہے ’طوفان آتے ہیں‘ موسم بدلتے ہیں اور گرہن لگتے ہیں۔ لیکن پھر سائنس نے ان حادثات و واقعات کو سمجھنے اور سمجھانے کے بہتر اور مدلل نظریات پیش کیے۔ یہ علیحدہ بات کی ان سائنسی نظریات کے باوجود لوگ آج بھی مذہبی عقائد کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ لوگ یا تو سائنسی نظریات کو سمجھ نہیں پا رہے اور یا ان لوگوں نے ابھی تک سائنس پر اعتماد و اعتبار کرنا نہیں سیکھا۔

چند سال پیشتر مشہور و مقبول عالمی اخبار THE TIMES نے اپنے سرورق پر چھاپا تھا ’ خدا نے کائنات کو تخلیق نہیں کیا‘ سٹیون ہاکنگ

اس سرخی سے یوں لگتا تھا جیسے میرا خدا سے کوئی جھگڑا ہو۔ اس مضمون کے چھپنے کے بعد میں نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری زندگی اور سائنسی تحقیق کا موضوع خدا نہیں بلکہ قوانین فطرت کے سربستہ راز جاننا ہے۔

صدیوں سے بہت سے لوگ یہ بھی سمجھتے تھے کہ مجھ جیسے معذور لوگ خدا کے عذاب کی وجہ سے بیمار ہوئے ہیں۔ اس بات کا امکان تو ہے کہ عالم بالا میں کوئی مجھ سے ناراض ہو لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ مذہبی توجیہہ سے یہ توجیہہ بہتر ہے کہ انسانی بیماریاں خدا کے عذاب کی بجائے صحت کے اصولوں کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔

اگر آپ میری طرح سائنس کو مانتے ہیں تو آپ یہ جانتے ہیں کہ یہ ساری کائنات قوانین فطرت سے چل رہی ہے۔
جب ہم سائنس کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ جانکاری ہوتی ہے کہ

یونانی فلسفیوں اور سائنسدانوں نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ چاند کو گرہن خدا نہیں لگاتا بلکہ چاند کو گرہن اس وقت لگتا ہے جب اس پر زمین کا سایہ پڑتا ہے۔

یونانی سائنسدانوں نے ہمیں بتایا کہ چاند اور سورج گرہن خدا کے معجزے نہیں بلکہ قوانین فطرت کی کرامات ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ قوانین فطرت کے راز جاننا انسانوں کی قابل قدر دریافتیں ہیں۔

اگر کائنات قوانین فطرت سے چل رہی ہے جن سے ہم کائنات کا ماضی اور حال سمجھ سکتے ہیں اور مستقبل کی پیشن گوئی کر سکتے ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا کا اس کائنات میں کیا کردار ہے خاص طور پر جب وہ ان قوانین کو کبھی بدلتا بھی نہیں۔

جب ہم کائنات پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق کے لیے تین چیزوں کی ضرورت تھی:

پہلی چیز مادہ ہے۔ ہمارے ارد گرد چھوٹی سے بڑی تمام چیزیں ’چھوٹی چھوٹی چٹانوں سے بڑے بڑے سیاروں تک‘ سب مادے سے بنے ہیں۔

دوسری چیز توانائی ہے۔ ہمارے چاروں طرف توانائی موجود ہے جس کی ایک مثال سورج کی روشنی ہے۔
تیسری چیز ہر طرف پھیلا خلا ہے۔ کائنات میں جگہ اور خلا کی بہتات ہے۔
چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کائنات مادہ ’توانائی اور خلا سے مل کر بنی ہے۔

بیسویں صدی کے ایک سائنسدان نے ان تین چیزوں کو اس وقت دو چیزوں میں بدل دیا جب انہوں نے ثابت کیا کہ مادہ توانائی میں اور توانائی مادے میں بدل سکتی ہے۔ اس نابغہ روزگار سائنسدان کا نام البرٹ آئن سٹائن تھا۔ بدقسمتی سے میں کبھی ان سے نہیں ملا کیونکہ ان کی وفات کے وقت میری عمر صرف تیرہ برس تھی۔ آئن سٹائن کی تحقیق کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ کائنات توانائی اور خلا سے مل کر بنی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کائنات بنانے کے لیے یہ توانائی اور خلا کہاں سے آئے؟

سائنسدانوں کی تحقیق نے ہمیں بتایا کہ اس کائنات کی ابتدا اور توانائی اور خلا کی پیدائش اس لمحے ہوئی جسے ہم بگ بینگ کا نام دیتے ہیں۔

بگ بینگ وہ لمحہ تھا جب یہ کائنات معرض وجود میں آئی اور پھر ایک غبارے کی طرح پھیلتی چلی گئی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کائنات کیسے پیدا ہوئی؟
وہ کسے عدم سے وجود میں آئی؟

خدا کو ماننے والے کائنات کی تخلیق کے اس لمحے کا رشتہ خدا سے جوڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق خدا کے حکم سے ہوئی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کائنات کی تخلیق کی یہ واحد مذہبی توضیح ہے یا اس کی کوئی متبادل سائنسی توضیح بھی ممکن ہے؟

جب میں طالب علم تھا تو یہ سنا کرتا تھا کہ زندگی میں کوئی چیز مفت نہیں ملتی لیکن اب دہائیوں کی سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمیں یہ وسیع کائنات مفت میں ملی ہے۔

بگ بینگ کے وقت یہ کائنات کیسے عدم سے وجود میں آئی اس راز کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک اور سائنسی تصور کو سمجھنا ہو گا جسے ہم

منفی توانائی کا نام دیتے ہیں۔
منفی توانائی کے تصور کو میں ایک مثال سے واضح کرنا چاہتا ہوں۔

ایک شخص زمین پر ایک پہاڑی بنانا چاہتا ہے اور اس پہاڑی کو بنانے کے لیے وہ گڑھا کھودتا ہے اور پھر اس گڑھے سے مٹی نکال کر ایک پہاڑی بناتا ہے۔ جتنا گہرا گڑھا ہو گا اتنی ہی اونچی پہاڑی ہوگی

اگر پہاڑی کی مٹی کائنات کی مثبت توانائی ہے تو
زمیں میں گڑھے کا خلا منفی توانائی ہے۔
اگر آپ مثبت اور منفی دونوں توانائیوں کو ملا دیں تو ان کا ماحصل صفر ہے۔

بہت سے لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ بگ بینگ کے وقت کائنات میں جتنی مادے کی مثبت توانائی پیدا ہو رہی تھی اس وقت کائنات میں منفی توانائی بھی پیدا ہو رہی تھی اور دونوں توانائیوں کا ماحصل صفر تھا۔ یہ بھی قوانین فطرت میں سے ایک قانون ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ منفی توانائی کہاں ہے؟

جواب یہ ہے کہ وہ منفی توانائی ہماری کائنات کے خلا میں ہے۔ اور وہ اتنی زیادہ ہے کہ اگر اسے مثبت توانائی میں ملایا جائے تو دونوں کا ماحصل صفر ہو گا۔

اگر کائنات کی سب مثبت اور منفی توانائیوں کا ماحصل صفر ہے تو پھر اس سارے کھیل میں خدا کا کیا کردار ہے؟ اور کیا اس کے کردار کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟

بعض لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ کائنات کی پیدائش کی اور دنیا میں مثبت اور منفی توانائیاں کی موجودگی کی آخر ضرورت کیا تھی؟

مذہبی لوگ کہتے ہیں خدا چاہتا تھا اس لیے اس نے یہ کائنات تخلیق کی؟
سائنسی لوگ کہتے ہیں اس کائنات کی تخلیق کی ایک اور توجیہہ بھی ہے۔
اور وہ توجیہہ یہ ہے کہ بگ بینگ کے وقت کائنات ہی نہیں وقت بھی پیدا ہوا۔
اس توجیہہ کی تفہیم ہم بلیک ہول کی مثال سے کر سکتے ہیں۔

کائنات کی فضا میں تیرتا ہوا بلیک ہول کیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہر بلیک ہول کسی زمانے میں ایک بڑا ستارہ تھا جو اپنی طویل زندگی کے اختتام پر ایک بلیک ہول بن گیا۔ بلیک ہول کی کشش ثقل اتنی زیادہ ہے کہ وہ نہ صرف روشنی کو بلکہ وقت کو بھی کھا جاتی ہے۔

اگر ایک گھڑی بلیک ہول کی طرف سفر کرے تو وہ جتنی بلیک ہول کے قریب جاتی ہے اس کی سوئیوں کی رفتار کم ہوتی جاتی ہے اور جب بہت قریب جاتی ہے تو رک جاتی ہے۔ گھڑی اس لیے نہیں رکتی کہ وہ خراب ہو جاتی ہے بلکہ اس لیے کہ وقت رک جاتا ہے۔

بلیک ہول کے اندر وقت رک جاتا ہے یا یوں کہیں کہ بلیک ہول میں وقت موجود ہی نہیں ہوتا۔
کائنات کی پیدائش کے ساتھ وقت بھی پیدا ہوا۔
کائنات کی پیدائش سے پہلے وقت نہیں تھا۔
اور اگر وقت نہیں تھا تو خدا بھی نہیں تھا۔

جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کائنات کو خدا نے تخلیق کیا ہے تو میں کہتا ہوں کہ کائنات کی پیدائش سے پہلے نہ وقت تھا اور نہ خدا تھا۔

میرا موقف یہ ہے کہ نہ تو کسی خدا نے کائنات کو تخلیق کیا ہے اور نہ ہی کوئی خدا اسے چلا رہا ہے۔

اس سوچ سے ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ نہ تو کوئی حیات بعد الموت ہے اور نہ ہی کوئی دوزخ جنت۔ جنت ہماری خوش خیالی سے زیادہ کچھ نہیں۔

[ہاکنگ کے یہ جملے پڑھتے اور ترجمہ کرتے ہوئے مجھے مرزا غالب کا یہ شعر یاد آ رہا ہے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے ]

ہاکنگ فرماتے ہیں کہ میرا موقف یہ ہے کہ ہم سب کے پاس ایک ہی زندگی ہے اور ہم سب اس زندگی کو بامعنی بنا سکتے ہیں اور کائنات کے راز جاننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔

نوٹ: ہاکنگ کا یہ مقالہ ترجمہ کرتے ہوئے جب مجھے جون ایلیا کا ایک شعر یاد آیا تو میں دل ہی دل میں مسکرایا۔ آپ بھی شعر سنیں ’مسکرائیں اور جون ایلیا کو داد دیں

حاصل ’کن‘ ہے یہ جہان خراب
یہ ہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
جون ایلیا

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail