فیض آباد دھرنا رپورٹ: شہباز شریف استعفیٰ دیں
2017 کے فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد شہباز شریف وزارت عظمی پر فائز رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ رپورٹ میں آئی ایس آئی یا اس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس دھرنے کی ساری ذمہ داری اس وقت کی پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ پنجاب میں اس وقت شہباز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔
واضح رہے سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے 2019 میں دیے گئے فیصلے میں دھرنے کے حوالے سے فوجی اداروں کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ ایسے فوجی اہل کاروں کے خلاف کارروائی کی جائے جو اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی معاملات میں مداخلت کے مرتکب ہوئے تھے۔ عدالتی حکم میں سڑکیں بلاک کرنے اور نقص امن کے مسائل پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے جاری کیا تھا۔ فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا تھا۔
اس فیصلہ کے محض تین ماہ بعد تحریک انصاف کی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نا اہل کرانے کے لئے صدارتی ریفرنس دائر کیا تھا۔ اس ریفرنس کو عام طور سے فیض آباد دھرنا کیس میں فوج کے خلاف دیے گئے ریمارکس کے تناظر میں دیکھا گیا تھا اور عام طور سے یہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ عمران خان کی حکومت چونکہ پاک فوج کے ساتھ ’ایک ہی پیج‘ پر تھی لہذا فیض آباد دھرنا کیس میں فوج کو فریق بنانے اور اس پر تنقید کرنے پر جسٹس فائز عیسیٰ کو نشان عبرت بنانے کا اقدام کیا گیا تھا۔ اس وقت وفاقی وزیروں نے بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف شدید نکتہ چینی میں حصہ لیا تھا۔ جسٹس فائز عیسیٰ اس ریفرنس کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ جیت گئے تھے اور اپنے عہدے پر فائز رہے تھے اور اب ملک کے چیف جسٹس ہیں۔
یہ کمیشن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیض آباد دھرنا کیس میں فیصلے پر عدم عمل در آمد کے حوالے سے دھرنے کے انعقاد اور ذمہ داران کے تعین کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) اختر علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن میں سابق آئی جی طاہر عالم اور خوشحال خان شامل تھے۔ انکوائری کمیشن نے لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید اور دھرنا ختم ہونے پر مظاہرین میں پیسے تقسیم کرتے ہوئے ویڈیوز میں دکھائی دینے والے ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل نوید اظہر حیات کو الزامات سے بری کیا ہے۔ رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرِ صدارت میٹنگ میں دی گئی ہدایات پر عمل کیا تھا۔
کمیشن رپورٹ کے مطابق اس وقت کی وفاقی کابینہ نے آئی ایس آئی کو اس دھرنے کے حوالے سے ذمہ داری تفویض کی تھی جس کا اعتراف اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے بیان میں کیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے کمیشن کو اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ’حکومت نے 22 نومبر 2017 کو وزیراعظم کی سربراہی میں دھرنا ختم کرنے کی ذمے داری دی تھی۔ دھرنا منظم نہیں، ختم کرایا تھا۔ تحریکِ لبیک معاہدے پر آرمی چیف کے دستخط چاہتی تھی۔ معاہدے پر دستخط کی اجازت آئی ایس آئی چیف اور آرمی چیف نے دی تھی‘ ۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ’کسی بھی سیاسی و سرکاری شخصیت نے کسی ایجنسی یا ریاستی ادارے کے دھرنے سے متعلق کوئی بیان یا ثبوت نہیں دیا۔ لہٰذا کمیشن دھرنے سے کسی ادارے یا ریاستی اہلکار کا تحریک لبیک کے دھرنے کو منظم کرنا ثابت نہیں کر سکتا۔ کمیشن نے شہباز شریف، احسن اقبال، زاہد حامد، آفتاب سلطان سے بھی ایجنسیوں کے کردار کا پوچھا گیا۔ تمام گواہان نے کسی بھی ادارے یا شخصیت کے کردار سے انکار کیا۔ لہذا کمیشن کے لئے کسی بھی ایجنسی یا شخصیت کو دھرنے سے جوڑنا ممکن نہیں‘ ۔
کمیشن نے البتہ ملک میں انٹیلی جینس اداروں کے بارے میں قانون سازی کی سفارش کی ہے۔ اور کہا ہے کہ فوج ریاست کا مقدس ادارہ ہے اسے تنقید سے بچانے کے لیے سول امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ اس سے ادارے پر عوامی اعتماد بڑھے گا۔ کمیشن نے انٹرنل سیکورٹی کے حوالے سے آئی بی کو لیڈ رول دینے کی سفارش کی ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ انٹیلی جینس ایجنسیوں کے لیے کوئی طریقۂ کار موجود نہیں ہے۔ لہٰذا ضروری قانون سازی اور قواعد و ایس او پیز کی ضرورت ہے۔ کمیشن نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا اور یہ بھی سفارش کی کہ سپریم کورٹ، وزیراعظم کے انتظامی اختیارات کے بارے میں فیصلے پر از سر نو غور کرے۔
دھرنے کے حوالے سے پنجاب حکومت کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کمیشن کا کہنا ہے کہ ’پنجاب حکومت نے ووٹ بینک بچانے کے لیے مظاہرین کے خلاف کارروائی نہیں کی جو قابل تعریف نہیں ہے۔ یہ ذمہ داری سے انحراف اور مس کنڈکٹ ہے لہٰذا قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے‘ ۔ کمیشن نے سفارش کی کہ رینجرز اور ایف سی کو واپس سرحدوں پر بھیجا جائے اور انہیں شہری علاقوں میں آنے سے روکا جائے۔ ان پر خرچ ہونے والے وسائل پولیس کو دیے جائیں۔
انکوائری کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس وقت کی پنجاب حکومت نے سیاسی مقاصد کے لئے امن و امان کے ایک معمولی واقعہ پر قابو پانے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔ رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کی حکومت اس دھرنے کو فیض آباد پہنچنے سے پہلے روک سکتی تھی لیکن اس نے ایسا قدم اٹھانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ کمیشن نے اس طریقہ کو ذمہ داری سے انحراف اور مس کنڈکٹ قرار دیا ہے۔
بدقسمتی سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہونے والا شخص اس وقت ملک کا وزیر اعظم ہے اور اپنے ہی بقول ملکی معیشت کو بحال کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔ تاہم انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے بعد شہباز شریف کے لیے بدستور وزارت عظمی سے چمٹے رہنا اخلاقی اور سیاسی لحاظ سے ناقابل قبول اور غلط ہو گا۔ ملک میں اگر واقعی جمہوری نظام موجود ہے تو شہباز شریف کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کو جان لینا چاہیے کہ جمہوریت میں کسی بھی حکومت کو سیاسی و انتظامی فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنی پڑتی ہے۔
اب سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ہونے والے کمیشن نے ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے اسے شہباز شریف کی سربراہی میں پنجاب حکومت کی کوتاہی اور نا اہلی قرار دیا ہے۔ بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس فیصلہ کی سیاسی وجوہات تھیں۔ ایسا لیڈر جو وقتی سیاسی مفادات کے لیے شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے اور امن و امان کا سنگین مسئلہ پیدا کرنے کا مرتکب ہوا ہو، کسی صورت قابل اعتبار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسے ملک کی وزارت عظمی پر فائز رہنے کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ ایک قانونی معاملہ بھی ہے۔ سپریم کورٹ فیض آباد دھرنا کیس پر عمل درآمد کے معاملہ میں ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کرچکی ہے۔ کئی سال تک سیاسی عناصر اس تاثر کے درپردہ خود کو ’سرخرو‘ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ فیض آباد دھرنا مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے آئی ایس آئی نے منظم کیا تھا۔ فوج نے اس دھرنے کو ناکام بنانے میں کردار ادا نہیں کیا، بعد میں دھرنا ختم کرانے کے لیے ’ثالث‘ بن کر معاہدہ کرایا اور سیاسی قیادت کو کمزور کیا۔ دھرنا ختم ہونے کے بعد ایک فوجی افسر اس غیر قانونی اجتماع میں شرکت کرنے والوں میں نقدی کے لفافے بھی تقسیم کرنے پہنچے۔ لیکن کمیشن نے جو معلومات فراہم کی ہیں، ان کے مطابق آئی ایس آئی اور فوجی افسروں نے یہ سب اقدام وفاقی کابینہ میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں کیے تھے اور کسی عہدیدار نے اپنے طور پر کوئی کام نہیں کیا۔ اس کی بجائے پنجاب کی منتخب سیاسی حکومت قانون کے مطابق اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔
کمیشن نے اس کوتاہی کے قصور واروں کو سزا دینے کی سفارش کی ہے۔ سپریم کورٹ کے 2019 فیصلے اور اب اس فیصلہ پر عمل درآمد کے تقاضے میں بھی اسی نکتہ پر زور دیا جا رہا ہے کہ 2017 میں فیض آباد کے مقام پر جو غیر قانونی اجتماع ہوا تھا، اس کے تمام ذمہ داروں اور سہولت کاروں کو سزا ملنی چاہیے۔ تحقیقات اگر اس وقت کی پنجاب حکومت کی طرف نشاندہی کر رہی ہیں تو اس حکومت کے سربراہ اور انتظامی عہدوں پر فائز اعلیٰ افسروں کے خلاف کارروائی ملکی قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق ضروری ہے۔ اصولی طور سے سپریم کورٹ اس رپورٹ کے بعد شہباز شریف کو مجرمانہ کوتاہی اور سیاسی مقاصد کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے کا ذمہ دار سمجھتے ہوئے سزا کا مستحق سمجھ سکتی ہے اور ان کے خلاف متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کرنا ہی قانون و انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔
پنجاب حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے تحقیقاتی کمیشن فوجی قیادت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کسی کوتاہی کی نشاندہی نہیں کر سکا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ہر سطح کے سیاسی و انتظامی فیصلوں میں فوجی اداروں یا اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت عام ہو، یہ نتیجہ مضحکہ خیز حد تک سادہ لوحی کا پرتو ہے۔ تاہم کمیشن کے اس بیان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کسی سیاسی لیڈر یا انتظامی عہدیدار نے کسی بھی ایجنسی کے ملوث ہونے کا اعتراف نہیں کیا اور نہ ہی اس بارے میں معلومات فراہم کیں۔
اس سے ایک نتیجہ تو یہ اخذ جا سکتا ہے کہ سیاست دان ملک کے وسیع تر مفادات کی بجائے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ’افہام و تفہیم‘ ہی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ درحقیقت عوام کو ایسے سیاسی لیڈروں کے چہرے پہچاننے چاہئیں جو سیاسی تقریروں میں اسٹیبلشمنٹ کی زور زبردستی کے متعلق بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن حکومت ملنے کے بعد اختیارات استعمال کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہوتے۔ اور بعد از وقت جیسا کہ زیر بحث معاملہ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے، سچ بتانے سے گریز کرتے ہیں۔
کمیشن نے ایجنسیوں اور رینجرز کو سیاسی فیصلوں سے الگ رکھنے اور سول معاملات میں ایجنسیوں کے کردار کے حوالے سے قواعد و ضوابط بنانے کی جو سفارش کی ہے، اس سے بھی یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ کمیشن کو بھی ایجنسیوں کی ’غیر قانونی‘ سرگرمیوں کے بارے میں اندازہ تھا۔ لیکن اس کے پاس فیض آباد دھرنا کیس میں اسے براہ راست ملوث کرنا ممکن نہیں تھا کیوں کہ اس وقت جن لوگوں کے پاس اقتدار تھا، وہ بدستور پردہ پوشی کرنے اور عوامی حق حکمرانی سے کوتاہی برتنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔


