ترکی میں حضرت موسیٰ کے عصا سے پھوٹنے والا درخت

شجر موسیٰ یعنی ”موسیٰ کا درخت“ دوسرے لفظوں میں وہ درخت جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے منسوب ہے۔ ترکیہ کے صوبے حتائی کے علاقے صمانداع کے گاؤں خضر بے میں موجود اس درخت کو ”شجر موسیٰ“ کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چنار کا یہ درخت 3 ہزار سال قبل حضرت موسیٰ علیہ السلام نے لگایا تھا۔
ایک روایت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام اکٹھے سفر کر رہے تھے کہ سمندر کے قریب حضرت موسیٰ علیہ السلام صمانداع کے پہاڑ پر چڑھنے کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں پیاس محسوس ہوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر مارا۔ جس سے یہاں سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پانی پیا اور صمانداع کے پہاڑ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب وہ واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ جہاں انہوں نے اپنا عصا زمین پر مارا تھا وہاں عصا ہری بھری شاخوں اور پتوں میں تبدیل ہو کر ایک پودے اور درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس لیے لوگ اسے شجر موسیٰ کہتے ہیں۔
دوسری روایت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سفر کے دوران جب پیاس لگی تو انہوں نے اپنا عصا عین اسی جگہ زمین پر گاڑھا جہاں شجر موسیٰ موجود ہے اور وہ قریبی جگہ سے پیاس کی شدت بجھانے کے لیے چلے گئے۔ جب وہ واپس آئے تو ان کا عصا ہرے بھرے درخت میں بدل چکا تھا۔
جبکہ ایک دیگر روایت کے مطابق حضرت موسیٰ نے اس درخت کو خود اپنے ہاتھ سے لگایا اور اس کو آب حیات میسر ہے۔
غرض شجر موسیٰ کے بارے میں مختلف حکایات مشہور ہیں۔ وجہ جو بھی ہو اس دیوہیکل اور قدیم درخت کی اہمیّت مسلمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق شجر موسیٰ کی عمر 1000 سے 1200 سال کے درمیان ہے۔
شجر موسیٰ کو دیکھنے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔ یہی نہیں سیاح بھی اس درخت کو خصوصی طور پر دیکھنے کے لیے یہاں کا سفر کرتے ہیں۔
شجر موسیٰ کے تنے کی موٹائی 7.5 میٹر، لمبائی 7 میٹر اور اس کی شاخوں نے ایک 1000 میٹر کا علاقہ گھیر رکھا ہے۔
شجر موسیٰ کو ترکیہ میں تاریخی اور قومی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ وزارت ثقافت و سیاحت اور مقامی ادارے شجر موسیٰ کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اور خصوصی اقدامات کر رہے ہیں۔
محلے کے بوڑھے بڑے اس درخت کے نیچے اکثر آ بیٹھتے ہیں۔ دکھ سکھ کرتے ہیں، چائے پیتے ہیں اور اکثر اوقات یہاں آ کر اپنا وقت گزارتے ہیں۔ یہاں بینچ بھی موجود ہیں جن پر لوگ بیٹھتے ہیں۔
شجر موسیٰ کی وجہ سے اس علاقے کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ شجر موسیٰ کی وجہ سے اس علاقے کی سیاحت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ لوگ دور دراز کا سفر کر کے شجر موسیٰ کو دیکھنے آتے ہیں اور اسے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔
شجر موسیٰ کی وجہ سے اس علاقے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کوئی تہوار ہو یا کوئی خصوصی پروگرام، لوگوں کا یہاں اکثر جمگھٹا اور رش رہتا ہے۔ یہ سماجی اور معاشرتی مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

