اپریل میں فول یا پھول
لاہور کی ٹھنڈی سڑک (مال روڈ) سے گزرتے ہوئے راحت بیکرز سے محض چند میٹر کی دوری پہ یکم اپریل کو اچانک سے فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ دوسری طرف سے مژدہ سنایا گیا کہ پاکستان کی ایک بہترین نجی کمپنی میں کام کرنے کا موقع مل رہا ہے تو فلاں تاریخ تک دفتر آ جائیں اور ملازمت کے باقاعدہ آغاز سے قبل کی ضروری رسمی اور کاغذی کارروائیاں پوری کر لیں۔ دل بلیوں اچھل پڑا کہ کیا ہی زبردست خبر ملی ہے۔ اس سے قبل کے خوشی کی ساری کونپلیں پھوٹتیں، فوراً ہی یہ خیال گزرا کہ آج تو یکم ایریل ہے۔ کسی زیاں کار نے ’اپریل فول‘ کا منصوبہ ہی نہ ترتیب دیا ہوا ہو۔
نئی جہتوں کی جستجو میں جب سمت اور منزل کا پتا نہ ہو تو دوسروں کی نقالی ہی کرنے کو واحد کام رہ جاتا ہے۔ تو کئی وسوسے آئے کہ یہ فون کال کہیں ہماری منزل ہی کھوٹی نہ کر دے۔ پہلی بہاروں کے ہی اثرات ابھی باقی تھے کہ یہ نئی بہار کسی اور افتاد کا روپ دھار لے۔ شفقت کاظمی کا کیا خوب شعر ہے کہ:
نئی بہار کا مژدہ بجا سہی لیکن
ابھی تو اگلی بہاروں کا زخم تازہ ہے
لہذا اس کال اور اس سے متعلقہ سب خیالات کو جھٹکنے ہی میں عافیت جانی۔ نوکری تو ایک جگہ پہلے ہی سے جاری تھی، تو ’اپریل فول‘ کے شک کی بنیاد پر اس بکھیڑے میں نہ پڑنے کا فیصلہ کیا۔
لفظ ’اپریل‘ کی بابت کچھ یوں کہ یہ لاطینی زباں کے لفظ ’اپریلس‘ سے ماخوذ ہے۔ جس کا معانی ”کھولنا“ کے ہیں۔ اس سے مراد پھولوں اور نئی کونپلوں کے کھلنے یا کھلنے کا وقت ہو سکتا ہے۔ بالفاظ دیگر اس کو بہار کے موسم سے بھی منسوب کر سکتے ہیں کہ یہی وقت ہے جس میں نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں، نئے پھول کھلتے ہیں اور نئے پودے اور درخت لگائے جاتے ہیں۔ جہاں دھرتی پھولوں اور پودوں کے مختلف رنگوں سے مزین نظر آتی ہے وہیں اس موسم میں ہمارے ہاں گندم پک کے تیار ہو جاتی ہے۔ اور پنجاب میں ’بیساکھی‘ کے تہوار کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یعنی کہا جا سکتا ہے کہ اس موسم میں جہاں نئے امکانات، نئے مواقع بنتے اور ملتے ہیں وہیں اس موسم میں پہلے سے کی گئی کاوشوں کا ثمر بھی ملتا ہے۔
کچھ دن گزرے تو پورن چند وڈالی والا ہاتھ ہمارے ساتھ بھی ہو گیا۔ بھارتی سرکار پورن چند وڈالی کو پدم شری ایوارڈ سے نوازنا چاہتی تھی۔ انہوں نے چٹھی بھیجی تو وڈالی صاحب نے سنبھال کے تکیے کے نیچے رکھ لی۔ کھول کے دیکھا ہی نہیں کہ اصل ماجرا کیا ہے۔ اگلے سال پھر چٹھی آ گئی تو کسی نے پڑھ کے بتایا کہ حکومت ایوارڈ دینا چاہتی ہے اور آپ جاتے ہی نہیں۔ اگلی فون کال پہ ہمیں بھی یہی کچھ سننے کو ملا کہ ہم نوکری دے رہے ہیں اور آپ آتے ہی نہیں۔ تو پھر سماعتوں کو یقین آیا کہ یہ کوئی زیاں کار نہیں اور نہ ہی اپریل فول والا کوئی معاملہ ہے بلکہ سیدھا سیدھا رزق کا نیا بندوبست ہے۔
ضمناً بات آ گئی کہ مالک دو جہاں نے وہاں رزق متعین کر رکھا تھا۔ پہلی کال کو نظرانداز کرنے کے باوجود بھی وہ منتظر رہے۔ چاہتے تو کسی اور امیدوار کو موقع دے کے فوراً ہی اپنے حصے کا کام نپٹا دیتے لیکن لکھے کو کون ٹالے۔ وہ مقولہ سچ ثابت ہوا کہ جیسے موت تلاش کرتی ہے، رزق بھی ویسے ہی بندے کو تلاش کرتا ہے۔
بتائی گئی تاریخ پہ دفتر پہنچے، سب رسمی کارروائیاں پوری کیں اور اگلے دن سے باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی۔ پینتالیس ( 45 ) روزہ تربیتی پروگرام میں پہلے ہی دن ملاقات نہایت محترم آصف ذوالفقار صاحب سے ہو گئی۔ پہلے تعارفی سیشن میں ہلکی پھلکی اور معمول کی بات چیت ہوئی۔ وہیں یہ واقعہ بھی سنایا کہ فون کال کرنے کے لئے یکم اپریل ہرگز بھی موزوں تاریخ نہ تھی۔ جس کی وجہ سے دفتری امور میں نا صرف تاخیر ہوئی بلکہ یہ سنہری موقع ہاتھ سے نکلنے کے بھی امکانات تھے۔ اس بات پہ قہقہے جو لگے سو لگے لیکن محترم آصف ذوالفقار صاحب نے بات خوب سنبھالی۔ عندلیب شادانی نے خوب ترجمانی کی کہ:
دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو
آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو
محترم آصف ذوالفقار صاحب ایسی باغ و بہار شخصیت ہیں کہ جن کی باتیں کام کرنے کا نیا عزم بخشتیں تو ان کے تربیتی کورس ٹیم ورک کے نئے معانی و مفہوم اور اس کی اہمیت و افادیت سے روشناس کرواتے۔ ان کے اپنے بنائے ہوئے اکھان (محاورے ) ہوتے تھے۔ محترم آصف ذوالفقار صاحب نے اپریل کے موسم کی مناسبت سے ہم نو آموزوں میں نئے بیج ضرور بو دیے کہ اپنی مستقل اور مسلسل محنت سے یہ بیج ایک دن ضرور پھل دینے والے درخت کا روپ دھار لیں گے۔ اگر ہم اپنی توانائی دوسروں کو ’فول‘ بنانے کی بجائے، محنت کے ’پھول‘ چننے پہ لگائیں تو یقیناً زیادہ کارگر ثابت ہو سکیں گے۔


