کاریزوں میں بہتا پانی

علامت جب واضح ہو تو علامت نہیں رہتی اور علامت جب چھپی ہوئی یا محتاج ابلاغ ہو تو ملامت نہیں ہوتی البتہ اگر تنقید کی نئی تھیوری کے مطابق اس کو ڈسٹرکٹ کر کے اس کے مترادفات کے مترادفات پر غور کیا جائے تو یہ کاریز، کاریز نہیں بلکہ انسانی رگوں سے مشابہ اور اس میں بہتا پانی انسانی خون کی صورت میں دکھنے لگتا ہے۔ اور پھر جب یہ کاریز اجتماع کی حالت میں ہو تو یہ پورے سماج کی علامت بن جاتی ہے۔
دراصل صادق مری اپنے وجود میں بغاوت رکھتا ہے۔ ان کے احساسات باغیانہ ہیں لیکن یہ باغیانہ پن منفی نہیں بلکہ مثبت ہے کیونکہ یہ منفی سوچ اور منفی قدغنوں کے خلاف بغاوت ہے۔ جس کے لئے وہ اساطیر کا حوالہ اور فن کا لامحالہ اس طرح استعمال کرتا ہے کہ آج کی ہر رعایا، دور حاضر کا ہر شہری اصحاب کہف کا ساتھی لگنے لگتا ہے، اور اصحاب کہف کے زمانے کے با اختیار موجودہ لمحات کے خود مختاروں کے روپ میں جلوہ گر نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ نظم محض کہانی نہیں، محض پیغام نہیں یا فکری واہمہ بھی نہیں بلکہ کلی طور پر ایک فنی مرقع یا شاہکار بھی ہے۔
صادق مری کی ہر نظم ایک کہانی ہے اور ہر کہانی ایک نظم ہے۔ جس میں تجریدی یا علامتی افسانوں کی طرح تجریدیت یا علامت نگاری ہے۔ اور قاری کے لئے لطف اور مزہ بھی اسی میں ہے کہ وہ اس سے نظم اور کہانی کا دوہرا مزہ لیتا ہے۔ لیکن یہ کہانی نثر نہیں اور نہ نثر کہانی ہے یہ نثری نظم ہوتی ہے۔ جو اپنے تمام تر آہنگ میں ایک بہاؤ یا غورزنگ پر منتج ہوتی ہے۔
کباڑ خانے اور سوچ کی رائیگانی کا جو منظر صادق مری بناتا ہے یا جو موازنہ کباڑ خانے اور الجھے ہوئے خیالات کاوہ کرتا ہے، بوسیدہ روایت اور موزوں یا اور کوٹ کو جو وہ دوبدو لاتا ہے۔ لا مکانی، لایعنی اور رائیگانی کی تثلیث کا امتیاز اور اسے نثری نظم کے پیرائے میں اگر سمونے کا نمونہ کسی نے دیکھنا ہو تو وہ یہ نظم رائیگانی کا کباڑ خانہ ضرور پڑھیں! ۔
صادق مری جب باغی انقلابی کی وصیت نظم کر رہا ہوتا ہے تو وہ خود کو ایک شہید کی روپ میں نمایاں کرنا چاہتا ہے جو اپنے مرنے پر نوحہ نہیں بلکہ سلگتے گیت سننا چاہتا ہے۔ وقت کے ہر نمرود اور زمین کے ہر خدا سے باغی، پائل کی جھنکار، پرچم کشائی کے عوض زلف کشائی اور دعا کے بجائے نغمہ خواں ہے۔
صادق مری کے ساتھ بے مقصد یاسیت نہیں بلکہ شدید گھٹن یا پھر جبر کے موسم میں اندرونی جذبات کی تپش سے بھی پھول کھلنے کی امید رکھتے ہیں لیکن یہ صرف ان کی خواہش یا دلاسا نہیں بلکہ ایک مجاہدے اور دلیل سے بھرپور تجربے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ وہ محض خوش بین نہیں اور نہ وہ تماش بین ہے بلکہ مہا کے رئییلسٹ اور سختن برداشت ہے۔
صادق مری کی وہ نظمیں جو وطن پرستی یا خاک سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ اپنی زمیں پر براجمان رہنے کی بھی ترجمان نظمیں ہیں جو خارجی اور زمینی حقائق اور تعلق کا باطنی احساس شدت مگر رکھ رکھاؤ کے ساتھ بیان کرتا ہے جس میں تخیل۔ فن۔ جملوں کی جڑت اور روانی ایک غضب کی ہوتی ہے جو بار بار بلکہ ہر بار پڑھنے پر اکساتی ہے۔ صادق مری کی نظمیں جتنی فنی لحاظ سے مکمل نظمیں ہوتی ہیں بالکل اسی طرح معنی، پیغام، ابلاغ روانی، تخلیقیت، فکرو نظر، متشابہات، مماثلات، تشبیہات کے لحاظ سے بھی جامع اور کمپلیٹ ہوتی ہیں۔
صادق مری کی کاوش کی خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے مثنویوں کو آزاد اور نثری نظموں کا لیپ دیا ہے۔ اساطیر کو نغمگی اور ابلاغ دیا۔ عالمی افق کو مقامیت اور مقامیت کو عالمی افق سے بغلگیر کیا، کہانی یا افسانے کو نظمیہ رنگ اور آہنگ میں ڈالا، ملی داستان گوئی کو جدید نظم میں پیش کیا۔ صادق مری کے ساتھ سیاسی موضوع کی نظموں کی بھی فراوانی ہے لیکن اس میں سیاسی نعرہ، سیاسی پروپیگنڈا یا سیاسی شوروغل یا سیاسی پراگندگی محسوس ہی نہیں ہوتی لیکن اس میں جو فنی بھنبھناہٹ ہے وہ تجربوں پر محیط ہے۔ جس میں یادیں، عقیدت، تقدیس، ہوا کا گہرا سکوت خاک کے مقروض ہیں۔
صادق مری کی نظموں میں پرندہ ایک زندگی اور چلتی زیست کی علامت ہے اور پرندے ادھر ہی لوٹ کے آتے ہیں جہاں زیست ہو، زندگی ہو اور سکون و وقار بھی ہو، گئے سائے اور بجھے ہوئے چراغ گزری ہوئی عمر کی علامتیں ہیں اور یہ سائے تب واپس آتے ہیں اور چراغ تب ٹمٹماتے ہیں جب واپسی کے امکانات ہوں اور تاریکیوں میں جان نہ ہو، پرندے لوٹ کر آئے نہیں نظم مدھم اور مرجھائی ہوئی زندگی کا مخالف نوحہ ہے جو چلتی زندگی کو پکارتی ہے اور زیست بیدار کو دعوت دیتی ہے۔
صادق مری کی نظموں کا دائرہ جادۂ پرکار پر ایک رقص کا آغاز بھی ہے اور اختتام بھی اور اس کے بیچوں بیچ ایک توازن بھی، جو جھومتے بازوں، سرکتے دائروں، مچلتی ایڑیوں، ٹوٹے پیکر کے ساتھ آہنگ میں ایک گرداب میں کہکشاؤں اور سیاروں کے رقص میں ایک آدمی کا عکس ہے، ایک کائناتی اور زمینی چکر ہے جو بظاہر ہے تو زمیں سے فلک تک لیکن دکھائی دیتا نہیں بلکہ محسوس بھی نہیں ہوتا لیکن ہے حقیقت کیونکہ سب کا مرکز اور مدار ایک ہے۔
صادق مری کی مزاحمتی نظمیں نعرے نہیں فن پارے ہیں۔ مثنوی جس کا اپنا ایک آہنگ، قافیہ بندی اور نظمیہ انداز ہوتا ہے لیکن حانی مری میں وہ مثنوی کو آزاد نظم میں اس کے رومانوی محسوسات اپنے جذبات میں اتھاہ گہرائیوں میں ڈبونے کے بعد جب واپس سطح تخلیقیت پر لاتے ہیں تو یہ کلاسیکی داستان جدید بلکہ جدید تر دور کی آزاد نظم کی ہیئت میں اس طرح ڈھل چکی ہوئی ہوتی ہے کہ بالکل بھی کلاسک یا فوک لور ہی معلوم نہیں ہوتی بلکہ ایک جدید فن پارہ معلوم ہوتی ہے۔
صادق مری کی نظموں میں جو نفسیاتی تخلیقیت ہے اس کا شکار تخلیق کار خود ہوتا ہے کیونکہ تار عنکبوت خود ایک دام عنکبوت ہے جس میں تخلیق بھی ہے اور عدم یا فنائے تخلیق بھی جس میں پھنسنا بھی ہے اور نکلنا بھی بھنور کی طرح اترنا بھی ہے اور ابھرنا بھی۔
صادق مری کی نظموں میں جو تلازمے ہیں وہ بڑے پر اثر اور زود اثر ہے جیسے گرداب اور دل آویز آنکھوں میں ڈوبنا، وہ مضمحل ملتجی نگاہیں کہ جیسے چشمے ابل پڑے ہوں، سینہ نمناک میں موج طرب، کاریزوں میں بہتا پانی تیز رگ و پے میں ہے جیسے سرخ لہو کی کل کل کرتی میٹھی بانی اور اس طرح کے اور۔
صادق مری کی نظموں میں کبھی کبھار اتنی شدت آجاتی ہے کہ وہ خود کو دہرانے لگتا ہے تکرار پر اتر آتا ہے شاید یہ اپنی مٹی کی تاریخ ہے، اپنی مٹی کی مزاحمتی داستانیں ہیں اپنی مٹی کا کردار ہے، اپنی مٹی کی رومانوی، غازیوں، شہیدوں اور عشاق کی حقیقت نگاری پر مبنی مثنویاں ہیں جو اگر دہرائی نہ جائیں تو اس کے ابلاغ کا قرض اور فرض پورا نہیں ہوتا۔

