پنجاب کے وزیرِ صحت: مضرِ صحت


مریم نواز نے پنجاب حکومت کی جو کابینہ تشکیل دی ہے اُس میں کچھ نئے چہرے ہیں جو نسبتاً نوجوان ہیں جبکہ کچھ اتنے پرانے چہرے ہیں جنہیں دیکھ کر شک ہوتا ہے جیسے فراعینِ ِ مصر کی کابینہ میں بھی یہی لوگ وزیر تھے۔ اِن پرانے چہروں میں ایک چہرہ مریم نواز کے وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا بھی ہے۔

موصوف کے پاس 2008 سے اِس وزارت کا چارج ہے جب شہباز شریف وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے، گویا دس برس سے وہ اِس وزارت کی گھٹی میں پڑے ہیں اور اِن کا واحد کارنامہ یہ ہے کہ وہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن یعنی وائی ڈی اے کے ”سرپرست اعلی“ بنے۔ جی ہاں، پنجاب کے ہسپتالوں پر یہ عذاب مسلط کرنے کا اگر کوئی ایک شخص ذمہ دار ہے تو وہ خواجہ سلمان رفیق ہیں اور یہ کوئی ایسی ڈھکی چھپی بات نہیں اور نہ ہی میں کوئی ایسا انکشاف کر رہا ہوں جو اِس پہلے لوگوں کو نہیں پتا تھا۔

آپ آج پنجاب کے کسی بھی ہسپتال کے ایم ایس سے پوچھ لیں وہ آپ کو یہی بتائے گا کہ ینگ ڈاکٹرز کے سر پر وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا ہاتھ ہے۔ یہ وہی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ہے جس کی بدمعاشی کی بے شمار ویڈیوز ہم نے ٹی وی پر دیکھی ہیں جن میں یہ لوگ اپنے نام نہاد مطالبات منوانے کے لیے ہسپتالوں کی ایمرجنسی کو تالہ لگاتے ہیں، علاج کے لیے تڑپتے مریضوں کا علاج نہیں کرتے اور جو شخص اِن کی راہ میں آنے کی کوشش کرتا ہے اسے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

خواجہ سلمان رفیق اُس وقت بھی وزیر صحت تھے جب ینگ ڈاکٹرز بدمعاشی کیا کرتے تھے، وزیر موصوف ٹی وی پر آ کر انہیں ”اپنے بچے“ کہا کرتے تھے اور آج بھی خواجہ صاحب ہی وزیر ہیں اور اُن کا مائنڈ سیٹ نہیں بدلا۔ اب بھی وزارت سنبھالنے کے بعد جب موصوف ہسپتالوں کے دورے پر گئے ہیں تو ایم ایس سے ملنے سے پہلے انہوں نے ہسپتال میں وائی ڈی اے کے عہدے داروں سے ملاقاتیں کی ہیں، پنجاب کارڈیالوجی میں انہوں نے یہ کام کیا اور انتظامیہ کو بالواسطہ یہ میسج دیا کہ وائی ڈی اے سر پر میرا دست شفقت آج بھی اسی طرح ہے جس طرح دس سال پہلے تھا۔

خواجہ سلمان رفیق ویسے تو ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں مگر اُن کی اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اپنی طرف سے ڈاکٹرز میں تحریک انصاف کی حمایت کا توڑ کرنے کے لیے ینگ ڈاکٹرز کی حمایت شروع کی اور شہباز شریف کو یہ تاثر دیا کہ اِس طرح ہم ڈاکٹرز کے طبقے میں تحریک انصاف کا پتہ صاف کر دیں گے۔ تحریک انصاف کا پتہ کیا صاف ہونا تھا، اُلٹا انہی ینگ ڈاکٹرز نے 2018 کے انتخابات میں اپنے نسخوں میں دوائی لکھنے کے ساتھ ساتھ مریضوں کو یہ ہدایت بھی کی کہ پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالیں۔

ایک مرتبہ ینگ ڈاکٹرز کا عہدے دار امتحان میں فیل ہو گیا، ممتحن کی اس گستاخی کا نتیجہ وہی نکلا جس کی توقع تھی، ینگ ڈاکٹرز نے بلیک میلنگ شروع کر دی، احتجاج کیا، معاملہ اوپر تک پہنچا، جہاں ایک مرتبہ پھر خواجہ سلمان رفیق اِن کے حامی بن کر سامنے آئے اور اُس ممتحن ڈاکٹر کو سرزنش کی کہ جب آپ کو پتا تھا کہ یہ ینگ ڈاکٹرز ہیں تو پھر آپ نے اِن سے پنگا کیوں لیا۔ بالآخر اس ینگ ڈاکٹر کو پاس کرنا پڑا، آج خواجہ سلمان رفیق کے تعاون سے وہ ڈاکٹرز عوام کا علاج کر رہے ہیں اور انہیں آخرت کا راستہ دکھا رہے ہیں۔

مریم نواز پہلی مرتبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ بنی ہیں، اُن کے علم میں شاید یہ باتیں اِس طرح سے نہیں ہوں گی، انہیں تو یہی بتایا گیا ہو گا کہ خواجہ صاحب نے شروع سے صحت کی وزارت سنبھالی ہے لہذا اِن سے بہتر کوئی چوائس نہیں ہو سکتی کیونکہ اِن کا تجربہ سب سے زیادہ ہے۔ ویسے تو مریم نواز کو میرے مشورے کی ضرورت نہیں، ماشا اللہ وہ خود بہت سمجھدار ہیں، لیکن وہ جتنی جلدی اِن ”تجربہ کار“ وزیروں سے جان چھڑا لیں اتنا ہی اچھا ہے، لوگ اِن کے چہرے دیکھ دیکھ کرے تنگ آ چکے ہیں، یا تو اِن کی کارکردگی قابل رشک ہوتی تو سوال نہ اٹھتا، لیکن وزیر موصوف کی کارکردگی کا واحد ثبوت یہ ہے کہ جناب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلٰی ہیں۔

ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے اُس کی کارکردگی کے متعلق پوچھا جائے تو وہ جواب میں یہ بتانا شروع کر دیتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے دور میں فلاں مقدمے میں جیل گیا تھا۔ جی ہاں، اِس بات سے کوئی انکار نہیں، اِس کے نمبر سیاسی کارکنوں اور لیڈروں کو علیحدہ سے ملتے ہیں، جیسے کہ خواجہ برادران کو ایم این اے اور ایم پی اے کے ٹکٹ دیے گئے، اِس مرتبہ کا تو مجھے علم نہیں مگر گزشتہ انتخابات میں اُن کے گھر کی خواتین کو مخصوص نشستوں پر اسمبلی میں لایا گیا۔ لہذا جیل کاٹنے کے عوض یہ ٹکٹیں کم نہیں، پھر انہیں وزیر بھی بنا دیا گیا، بطور وزیر خواجہ سلمان رفیق کو کارکردگی دکھانی تھی نا کہ وائی ڈی اے کا لیڈر بن کر پنجاب میں ایک پریشر گروپ حکومت اور عوام کے سر پر مسلط کرنا تھا۔

مجھے پوری امید ہے کہ مریم نواز بطور وزیر اعلیٰ پنجاب یہ برداشت نہیں کریں گی کہ اُن کے دور حکومت میں سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بدمعاشی کرے اور اپنے سینئر ڈاکٹرز کو بلیک میل کر کے مریضوں کی صحت کو داؤ پر لگائے۔ یہ وہ آخری کام ہو گا جس کی مریم نواز اجازت دیں گے۔ اگر وہ چاہتی ہیں کہ پنجاب میں بالعموم اور ڈاکٹرز کے طبقے میں بالخصوص نون لیگ کی حمایت واپس آئے تو وائی ڈی اے کی سرپرستی کرنے کی بجائے سینئر ڈاکٹرز سے مشاورت کریں، اِن کا دم غنیمت ہے، یہ لوگ آپ کو پورے خلوص کے ساتھ پنجاب کے ہسپتالوں کی حالت بدلنے اور صحت پالیسی میں تبدیلی سے تعلق معاونت کریں گے، خواجہ سلمان رفیق کے بس کا یہ کام نہیں۔

بہت ساری باتیں ابھی اور بھی لکھنے والی تھیں، جیسے 1122 ریسکیو سروس کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے، ڈاکٹرز کے امتحانات کا طریقہ کار فرسودہ ہے، نجی میڈیکل کالج سے کس قسم کے غیر معیاری ڈاکٹرز پیدا ہو رہے ہیں، اور اِس نوع کے دیگر معاملات جو وزیر موصوف کی ناک کے عین نیچے ہیں، مگر جگہ کی تنگی کے باعث نہیں لکھ سکا، اُن کا ذکر کسی دوسرے کالم میں کروں گا، انشا اللہ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).