متنوع سماجی طبقات کی موثر سیاسی نمائندگی
جمہوری سیاسی ادارے اشرافیت و جمود کو ابھرنے اور کسی فرد، گروہ یا ادارے کے ظلم و جبر کو روکنے کے لیے ہوتے ہیں۔ وہ تمام سماجی گروہوں کی یکساں اور موثر نمائندگی کرتے ہیں۔ اگر وہ اس مقصد کو پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو وہ شریک اور موثر نمائندہ سیاسی ادارے کے زمرے میں نہیں آتے۔ ایسے سیاسی اداروں کو اشرافیہ کے مفادات کی خدمت کرنے والے ادارے یا چند افراد کی نمائندگی کرنے والے ادارے کہا جائے گا، اگر ان میں موجود عوامی نمائندے اس طبقے کے اندر سے اور متعلق نہیں ہیں جن کی وہ نمائندگی کر رہے ہیں۔ ایسے نمائندہ ادارے پالیسی سازی کے عمل میں صرف چند لوگوں کے مفادات کی نمائندگی کرنے والی قابل نفاذ پالیسیوں کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔
جدید اور موثر جمہوری طرز حکمرانی کے اندر پارلیمنٹ ایک ایسا سیاسی ادارہ ہے جو تمام سماجی گروہوں کو حقیقی سیاسی نمائندگی کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔
پارلیمانی طرز حکمرانی کے اندر پارلیمنٹ کی بالادستی اور خودمختاری آئین کی اصل ہوتی ہے جو پارلیمنٹ کی بالادستی، یکساں طبقاتی نمائندگی اور قانون سازی کا اختیار فراہم کرتا ہے۔ پارلیمانی خودمختاری آئین پاکستان کا سب سے اہم حصہ ہے۔ 1973 کے آئین کے تحت پارلیمنٹ آف پاکستان کے بطور وفاقی سیاسی ادارہ تین بنیادی کردار ہیں : قانون سازی، حکومت وقت کا احتساب، اور موثر و یکساں عوامی نمائندگی۔
قانون سازی سے مراد پارلیمنٹ کی جانب سے جمہوری طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے نئے قوانین کی تیاری، مجوزہ قوانین کا جائزہ لینا اور ترمیم کرنا شامل ہے۔ احتساب کے عمل میں حکومت وقت کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ وہ اپنے فیصلوں اور پالیسیوں کی وضاحت، نیز پارلیمنٹ کو سیاسی جوابدہی شامل ہے۔ سیاسی نمائندگی سے مراد ’تمام سماجی طبقات کی بلا تفریق مذہبی، نسلی اور جنسی وابستگی یکساں و موثر سیاسی نمائندگی کے ہیں۔
سیاسی اداروں کی موثر جہت اس میں موجود عوامی نمائندوں کے درمیاں ایک وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرتی ہے۔ یہ اجتماعی اتفاق رائے اس ادارے کے قانون سازی کے نتائج میں بہتر کارکردگی پیدا کرتا ہے۔ یہ قانون سازی کے طریقہ کار اور معیار میں بہتری لاتا ہے جو شہریوں کی سیاسی و سماجی منشاء کی نشاندہی و نمائندگی کرتا ہے۔
جب بات موثر ’سیاسی نمائندگی‘ کی ہو، تو یہ، ایک سیاسی ادارے کی کارکردگی کے برعکس، اس میں نمائندگی کے لیے سیاسی گروہوں کے تنوع کو تسلیم کرتا ہے۔ ایسا نمائندہ ادارہ تمام سماجی گروہوں کے اظہار اور اس میں ان کی ترجیحات اور دلچسپیوں کا اظہار کے موزوں مواقع فراہم کرتا ہے۔ اور ایسی یکساں سماجی گروپوں کی سیاسی نمائندگی ہی موثر قانون سازی کے با معنی نتائج پیدا کرتا ہے جو ہر دو سماجی گروہوں کے درمیان توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک حقیقی جمہوری سیاسی ادارے کی پہچان اس کی موثر اور یکساں سیاسی نمائندگی کی خصوصیات ہی کی بنیاد پر اسے صحیح معنوں میں سیاسی نمائندہ ادارہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کا نمائندہ ادارہ اس ’موثر‘ جہت اور ’سیاسی‘ جہت کے درمیان توازن کی تجویز کرتا ہے جو سیاسی شعور سے حاصل ہوتی ہے اور اس ’سیاسی‘ جہت کے درمیان جو معاشرے کے ہر سماجی گروہوں کی یکساں طبقاتی نمائندگی میں نظر آتی ہے۔ ایک لفظ میں، اس دوہرے فعل کے لیے ایک متوازن سیاسی پالیسی کی ضرورت ہوتی ہے جس پر پالیسی سازوں کی طرف سے غور کیا جاتا ہے۔ یہ اجتماعی سیاسی شعور ہی حقیقی جمہوری نمائندگی کو فروغ کے ساتھ ساتھ متنوع سماجی طبقات کی قومی پالیسی سازی میں نمائندگی میں بنیادی کردار ادا کر تا ہے۔ ایسا نمائندہ ادارہ اجتماعی یا انفرادی انتخاب اور جمود کو چیلنج کرتا ہے اور اشرافیت کو ابھرنے سے روک کر جمہوری اور متنوع و موثر سیاسی نمائندگی فراہم کرتا ہے۔
سیاسی ادارے کے اس طرح کے افعال کثیر طبقاتی نمائندگی اور نمائندہ شرکت کے درمیان مساوات بناتا ہے۔ کثیر طبقاتی سماجی سیاسی نمائندگی ہر ایک مفاداتی گروہ یا طبقے کی نمائندگی کرنے کی اجازت دیتی ہے جو اس مخصوص طبقے کے اندر سے ہے یعنی یہ کہنا کہ اس طبقے یا پیشے سے تعلق رکھتا ہے۔ نمائندہ شرکت ایک کسان کو ایک کسان کی طرف سے نمائندگی کرنے کی اجازت دیتا ہے ؛ ایک تاجر جس کی نمائندگی تاجر کرے گا۔ ایک مزدور جس کی نمائندگی مزدور کے ذریعہ کی جائے گی، یونیورسٹی کے اساتذہ کی نمائندگی یونیورسٹی کے پروفیشنل الو اساتذہ کے ذریعہ کی جائے گی۔ اور، ایک طالب علم جس کی نمائندگی ایک طالب علم کرے گا۔ پیشے یا انجمن کی نمائندگی نمائندگی اس انجمن کے متعلق رہنما سے ہوتی ہے۔ ایسی متنوع سیاسی نمائندگی ہی واقعی طبقاتی شراکت داری اور موثر جمہوری نمائندگی کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ متعلقہ ایسوسی ایشن، ایک پیشے اور طبقے کے مفادات کے لیے بہترین اور موثر پالیسی سازی کے لے لازم ہے کیونکہ متعلقہ گروہ سے تعلق رکھنے والا شخص ہی کلی طور پر اس کے مسائل و مفادات کا ادراک رکھتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ہی اس مخصوص طبقے یا پیشے کے لوگوں کے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کو اجاگر کر کے ان کے موثر حل پیش کر کے ان کو حقیقی تحفظ فراہم کرنے کی اصل صلاحیت رکھتا ہے۔
بد قسمتی سے ہمارا سیاسی نظام یا تو سرے سے متنوع سماجی طبقات کی موثر و یکساں سیاسی نمائندگی کے مواقع فراہم نہیں کرتا۔ اور جو آئین پاکستان کے اندر درج موثر سیاسی نمائندگی کی نشاندہی ہے وہ یا تو واضح نہیں یا پھر اس پر عمل درآمد میں مسائل درپیش ہیں۔ مثال کے طور پر مزدور، کسان، تاجر، اساتذہ، ذہنی و جسمانی معذور افراد اور خوا جہ سراؤں سمیت دیگر سما جی طبقات کی سیاسی نمائندگی کی کوئی خاطر خواہ اقدامات کی وضاحت موجود ہی نہیں۔ اسی طرح خواتین اور مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی تو موجود ہے لیکن ان کے انتخابات کا طریقہ کار ہی حقیقی و موثر سیا سی نمائندگی کی راہ میں میں سب سے بڑی رکاوٹ کا باعث ہے جہاں کوٹہ سسٹم اور پارٹی لسٹ کے ذریعے سیاسی جماعتیں بطور خاص ان کے سربراہ اپنے رشتہ داروں و اقربا میں خواتین کی سیٹوں کی بندر بانٹ کرتے ہیں۔ اسی طرح مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی بھی سوائے چند کے ایک مخصوص دس سے پندرہ کا گروہ اپنی سیاسی وابستگی بدل بدل کر اشرافیت کا با قاعدہ شراکت دار بن چکا اور موثر نمائندگی کرنے سے قاصر ہے۔ ہر دو گروپوں (خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے موجودہ نمائندے ) سیاسی اشرافیت کے کے آلہ کار بن چکے اور اپنے متعلقہ گروہ کے سیاسی و سماجی مفادات سے قاصر ہیں۔
پارلیمنٹ کے اندر متنوع و جمہوری طبقاتی سیاسی نمائندگی اور حقیقی معنوں میں ان کے پالیسی سازی میں موثر کردار کے لے اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ جن سماجی طبقات کی نمائندگی موجود نہیں ان کے لیے آئین پاکستان میں ترمیم کر کے اقدامات کیے جائیں اور جن کی پہلے سے موجود ہے ان کے انتخابات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان سیٹوں پر امیدوار ہونے کے لیے درکار اہلیت کے لیے متعلقہ سماجی طبقات کے اسٹیک ہولڈرز کے ذریعے لازم بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔ جو دراصل اپنی برادری یا طبقے کے مسائل کو جانتے ہوں۔
جدید جمہوری طرز حکمرانی کے رائج طریقہ کار کا مشاہدہ، پارلیمنٹ میں متنوع سماجی طبقات کی یکساں و موثر سیاسی نمائندگی کی دو مقبول شکلیں (مزدور و کسان یونین کے نمائندے ) کا پتہ بتاتا ہے۔ ایسی پارلیمنٹ جو تمام سماجی گروہوں کو یکساں سیاسی نمائندگی کے مواقع فراہم کرے گی وہی ایک حقیقی شراکت دار، متنوع اور جمہوری نمائندہ ادارہ ہو گا جو متعدد سماجی طبقات کے مفادات کے لیے کام کرے گا۔ ایک مخصوص پیشہ ور طبقے کی انجمنیں اپنی کمیونٹی کے اندر سے اپنا نمائندہ منتخب کریں اور اس مخصوص طبقے یا کمیونٹی کے لیے پالیسی بناتے وقت ان سے ضرور مشورہ کیا جانا چاہیے۔
طبقاتی نمائندگی یا ملازمین کی شرکت داری کی تکمیل کے لیے اجتماعی مشاورتی کمیٹیوں اور پالیسی سازی کے عمل کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرنے والی قانون سازی کو متعارف کروا کر ٹریڈ یونین کو حقیقی نمائندگی دے جا سکتی ہے۔ دوسرا، انجمنوں کو شامل کر کے، پالیسی ساز نہ صرف ایک مخصوص طبقے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بلکہ اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کی اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کرنے کے لیے ضروری معلومات کو حاصل کر سکتے ہیں۔


