لاپتہ افراد کے بارے میں حکومت کی طفل تسلیاں
حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ بعض افراد کو لاپتہ کرنے کے معاملے میں کچھ سرکاری ایجنسیاں ملوث ہو سکتی ہیں لیکن ایسے کسی الزام کو کبھی ثابت نہیں کیا جا سکا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومت اس مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کرنا چاہتی ہے لیکن چالیس سالہ پیچیدہ معاملہ طے ہونے میں وقت درکار ہو گا۔
وزیر قانون نے یہ نشاندہی بھی کی ہے کہ منتخب حکومتیں 2011 سے ہی اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوششیں کرتی رہی ہیں اور اس میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے پیپلز پارٹی کے دور میں بنائے گئے کمیشن کا حوالہ دیا جسے زبردستی لاپتہ کیے گئے افراد کی تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا۔ اس کمیشن نے 10200 لاپتہ افراد میں سے 7900 کا پتہ لگا لیا ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی افواج نے دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے سنگین صورت حال کا سامنا کیا ہے اور بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اس لیے لاپتہ افراد کے معاملہ کو محض ایک پہلو سے دیکھنا ممکن نہیں۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اس اہم مسئلہ کو حل کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔ اس حوالے سے عدلیہ کی مداخلت سے معاملہ درست نہیں ہو سکتا ۔ اس طرح ماضی میں سامنے آنے والی پیشرفت ضائع ہو سکتی ہے اور معاملہ جوں کا توں رہے گا۔ پریس کانفرنس میں وزیر قانون نے اس معاملہ میں حکومتی کمیٹی کو فعال کرنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ اس میں پارلیمنٹ کے نمائندوں کے علاوہ سب اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا تاکہ مل جل کر اس مسئلہ کو حل کیا جا سکے۔
ایک طرف یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت لاپتہ افراد کے معاملہ پر واضح موقف سامنے لائی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ لاپتہ افراد کا سراغ لگانے کا کام مستعدی سے کیا جائے گا۔ اس مسئلہ کا کوئی ایسا حل تلاش کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ لیکن دونوں وزیروں کی طرف سے اس معاملہ میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا حوالہ یوں ناقابل فہم ہے کہ غیر قانونی اور ناجائز طور سے لاپتہ کیے گئے لوگوں کے معاملہ میں ان لوگوں کے لواحقین کے علاوہ کوئی دوسرا فریق کیسے ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت اس میں فریق ہے تو اسے تو خود قانون کی بالادستی اور انصاف فراہم کرنے کا ذمہ دار ہونا چاہیے۔ اگر شہریوں کے خلاف غیرقانونی اقدام کرنے والے اداروں اور ان کے اہل کاروں کو اسٹیک ہولڈر کہا جا رہا ہے تو اسے قانون شکن عناصر کی حوصلہ افزائی کے سوا دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ اصولی طور پر کسی بھی حکومت کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا موقف ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی بھی ادارے یا اہلکار کو قانون ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے۔ ایسے میں سال ہا سال سے غائب کیے گئے شہریوں کا ذکر کرتے ہوئے ’اسٹیک ہولڈرز‘ کا ذکر کرنا درحقیقت مسئلہ کی سنگینی کم کرنے کے مترادف ہے۔ حکومت کو کھلے دل سے اعتراف کر لینا چاہیے کہ یہ معاملہ ملک میں قانون سے بالا اقدام کرنے والے بعض طاقت ور اداروں کی زور زبردستی سے تعلق رکھتا ہے۔ اب وہ قانون سازی یا سیاسی طور سے متعلقہ اداروں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اس طریقے کو ختم کروانے کی کوشش کرے گی۔ اس کے علاوہ کوئی بھی دوسرا موقف درحقیقت خلاف انصاف اور قانونی تقاضوں سے متصادم ہو گا۔
ایک طرف اگرچہ وزیر قانون کا یہ موقف درست ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والے کمیشن نے 10200 میں سے 7900 افراد کو بازیاب کروایا ہے۔ تاہم حکومتی نمائندے یہ اعتراف کرنے میں ناکام رہے کہ یہ کمیشن 2011 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس طرح ان لوگوں کو 13 سال میں بعض نامعلوم عناصر کے قبضہ سے ’آزاد‘ کروایا گیا ہے۔ ایک تو یہ بات نوٹ کرنی چاہیے کہ طاقت ور سرکاری کمیشن غیرقانونی طور سے اٹھائے گئے تمام لوگوں کو ایک دہائی سے بھی زائد مدت کے دوران میں بازیاب نہیں کروا سکا۔ دوسرے کمیشن یا حکومت نے کسی بھی ادارے یا فرد کو اس غیرقانونی طریقہ کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ نہ ہی کسی ادارے، محکمے یا فرد کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی دیکھنے میں آئی ہے۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جد و جہد کرنے والے لواحقین یا انسانی حقوق کی تنظیموں نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ ان لوگوں کو چھوڑ دیا جائے۔ بلکہ ان کا صرف یہی موقف رہا ہے کہ جن لوگوں کو ریاست کے خلاف جرائم کے الزام میں اٹھایا گیا ہے، ان کے خلاف ملکی قانون کے مطابق مسلمہ عدالتی طریقہ کے مطابق کارروائی کی جائے۔ لواحقین کو بتایا جائے کہ ان کے عزیزوں کو کس الزام میں کس ادارے نے گرفتار کیا ہے اور وہ داد رسی کے لیے کہاں رجوع کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں لاپتہ افراد کے لواحقین و سول سوسائٹی کے ارکان سمیت سب اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی نے قانون شکنی کی ہے اور کسی بھی طریقے سے ملکی مفاد کو نقصان پہنچایا ہے تو اسے اس کی سزا ملنی چاہیے۔ لیکن اس کے لئے ملکی قانون و ضوابط کے مطابق کارروائی کی جائے۔ جب ریاستی ادارے یا حکومت اس بنیادی اصول کو تسلیم کرنے کی بجائے الفاظ کے گورکھ دھندے میں معاملہ کو تہ دار، سنگین اور کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا بتا کر اپنی مشکل بتانے کی کوشش کرتی ہے تو اس سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت یا تو اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہے یا پھر وہ بے بس ہے اور لاپتہ افراد کے حوالے سے کوئی وعدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ یہ دونوں صورتیں کسی بھی حکومت کی اتھارٹی اور اعتبار کے بارے میں شبہات پیدا کرتی ہیں۔
ماضی میں دیکھا جا چکا ہے کہ لاپتہ افراد کے لواحقین نے جب کسی وزیر اعظم سے ملاقات کی یا کسی اجتماع میں استفسار کیا گیا کہ غائب کیے گئے لوگوں کے بارے میں مدد کی جائے تو وہ کوئی معقول جواب دینے میں ناکام رہے۔ شہباز شریف گزشتہ مدت کے دوران میں کوئٹہ کے ایک اجلاس میں ایسے ہی ایک سوال پر کہہ چکے ہیں کہ ’وہ اس معاملہ کو متعلقہ لوگوں تک پہنچائیں گے‘ ۔ کسی وزیر اعظم کے ایسے کمزور رویہ ہی کی وجہ سے یہ تاثر قوی ہوتا ہے کہ شہریوں کو اٹھانے والے لوگ شاید ملک کے وزیر اعظم سے بھی طاقت ور ہیں۔ اسی لیے وزیر اعظم کوئی وعدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ وزیر قانون اور وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس کا مجموعی تاثر بھی درحقیقت اسی بے بسی کا آئینہ دار ہے۔ اسی لیے حکومت کے وعدوں کا اعتبار کرنا مشکل ہو گا۔
لاپتہ افراد کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ انہیں ملک کی طاقت ور انٹیلی جنس ایجنسیاں اس عذر پر اٹھاتی ہیں کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص ریاست دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے یا دہشت گردوں کا ساتھی ہے۔ گویا ایجنسیوں کا خیال ہوتا ہے کہ کسی شخص کے خلاف الزام پر یقین کرنے کے لیے جو شواہد موجود ہوتے ہیں، انہیں کسی عدالت میں ثبوت کے طور پر مانا نہیں جائے گا۔ اس لیے خطرناک عناصر کی گرفت کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے قانون ہاتھ میں لینے کی بجائے حکومت کے ذریعے ایسی قانون سازی کروائی جا سکتی ہے جس میں مشتبہ افراد کی گرفت کرنے میں آسانی ہو۔ دہشت گردی یا سماجی انتشار پیدا کرنے والے عناصر صرف پاکستان میں ہی سرگرم عمل نہیں ہیں۔ بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک کو اس قسم کی صورت حال کا سامنا ہے لیکن تمام مہذب ممالک میں متعلقہ قوانین کے ذریعے ہی اس علت پر قابو پانے کی کوشش کی جاتی ہے اور نئی صورت حال کے مطابق قانون سازی کر کے قانون شکن عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر سرکاری ادارے خود ہی ’امن‘ قائم رکھنے کے لیے قانون ہاتھ میں لیں گے تو عام شہریوں سے کیسے قانون پر عمل کرانے کی امید کی جا سکتی ہے؟
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او ڈیفنس آف ہیومن رائیٹس کے مطابق 2023 کے دوران میں لاپتہ ہونے والے 51 افراد کے معاملات رپورٹ ہوئے۔ اس وقت ملک میں لاپتہ افراد کی تعداد 3120 ہے۔ اس مدت میں 595 افراد رہا کیے گئے، 246 افراد کا سراغ لگایا گیا جبکہ لاپتہ ہونے والے 88 افراد ماورائے عدالت قتل کا شکار ہوئے۔ وزیر قانون نذیر تارڑ کو اس رپورٹ پر غور کرتے ہوئے جاننا چاہیے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ چالیس سال پرانا نہیں ہے بلکہ اب بھی بعض ادارے اس ملک کے شہریوں کو غیر قانونی طور سے غائب کر دیتے ہیں، پھر ان کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اسی طرح جب ایک سال میں 88 افراد سرکاری اہلکاروں کے ہاتھوں کسی ناکردہ گناہ کی پاداش میں مارے جائیں اور حکومت ان کی بے بسی سمجھنے کو تیار نہ ہو تو اسے کیسے قابل قبول صورت حال مانا جاسکتا ہے۔ کسی شخص کو کسی الزام کے بغیر اٹھا لینا بھی بہت بڑا جرم ہے لیکن اسے غائب کرنے کے بعد کئی کئی سال تک حراست میں رکھنا، تشدد کرنا یا تشدد سے ہلاک کر کے مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا طریقہ غیر انسانی اور شرمناک ہے۔
کوئی بھی مہذب حکومت اپنے زیر انتظام کسی ادارے یا اہلکار کو ملک کے شہریوں کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ ایسے معاملات میں عذر خواہی کرنے والی حکومت کو نہ تو جمہوری کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی نیک نیتی پر یقین کرنا ممکن ہو گا۔ ماضی میں غیر قانونی طور سے لاپتہ کیے گئے لوگوں کا مسئلہ حل کرنے لیے اہم ہے کہ حکومت اس بات کا یقین دلائے کہ اب کسی بھی شہری کو قانونی کارروائی کے بغیر نہیں اٹھایا جائے گا۔ حکومت یہ وعدہ نہیں کر سکتی تو چالیس سال پرانا مسئلہ حل کرنے کی باتیں محض زیب داستان سمجھا جائے گا۔


