آئی اے رحمان کے مطالعہ کی وسعت
مسعود اشعر صاحب نے اپنے کالم میں آئی اے رحمان صاحب کی اردو ادب پر گہری نظر کی بات کی جس کا اندازہ انھیں ایک ادبی فیسٹیول میں ان کا خطبہ سن کر ہوا۔ اتفاق کی بات ہے جس روز رحمان صاحب کی رحلت ہوئی، معروف نقاد ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب سے فون پر بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ مجلس ترقیٔ ادب کے ناظم تھے تو ایک دفعہ وہ ان کے دفتر تشریف لائے تھے۔ ان کی فارسی شاعری میں دلچسپی سے فراقی صاحب کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ شاید فراقی صاحب کا بھی مسعود اشعر صاحب کی طرح یہ خیال ہو کہ ”سیاسی آزادیوں کے لئے کام کرنے والے عام طور پر ادب کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے۔“
رحمان صاحب کی فارسی شاعری سے دلچسپی کی بات سن کر خیال ان کی ایک تحریر کی طرف گیا جس میں انھوں نے بتایا ہے کہ ان کے زمانے میں نوجوانوں کے مہذب ہونے کی ایک شرط فارسی شاعری میں دلچسپی بھی تھی۔ ان کے بقول ”آج سے تیس چالیس برس پہلے مہذب کسے کہتے تھے؟ جسے تھوڑی سی فارسی آتی تھی، جو اپنی گفتگو میں سعدی، حافظ یا رومی کا کوئی شعر استعمال کرتا تھا۔ میری نظر میں وہ آدمی بھی مہذب ہوتے تھے جو اپنی گفتگو میں شاہ لطیف، رحمٰن بابا، خوشحال خان خٹک یا میاں محمد اور وارث شاہ کا کوئی شعر کہتے تھے۔ میں آپ پر یہ بات چھوڑتا ہوں کہ کیا آج کل کے نوجوان بھی اسی معیار کے مطابق مہذب ہیں جس حوالے سے چالیس سال پہلے کے نوجوان ہوا کرتے تھے۔“
مائیں تو مہذب ہی ہوتی ہیں لیکن مہذب انسان ہونے کے دو پیمانے جو رحمان صاحب نے مقرر کیے تھے، ان پر میری ماں بھی پوری اترتی تھیں جنھوں نے کبھی سکول کا منہ نہ دیکھا تھا لیکن بچپن میں ان سے میں نے اردو پنجابی کے بہت سے اشعار سنے۔ فلمی گیت بھی انھیں بہت یاد تھے۔ اخبار بھی شوق سے پڑھتی تھیں، انھی کے زیر اثر بچپن میں اخبار پڑھنے کی لت لگی۔ اخبار پڑھنے کا ذکر اس لیے کیا کہ رحمان صاحب کے نزدیک مہذب ہونے کی ایک علامت اخبار بینی بھی تھی۔
”مہذب ہونے کی ایک اور بات یہ تھی کہ آدمی دوسروں کے دکھ درد کا احساس کرتا تھا۔ اسی سلسلے میں ایک اور چھوٹی سی بات سے مجھے تعجب ہوتا ہے جب کسی ایسے گھر میں جاتا ہوں جہاں اخبار نہیں آتا۔ مجھے تعجب اس لیے نہیں ہوتا کہ میں اخبار نویس رہا ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اخبار نویس ہونا بہت بڑا کارنامہ اور اخبار پڑھنا بڑا ضروری ہے، نہیں! اخبار نہ پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنے معاشرے کے معاملات میں دلچسپی نہیں، آپ یہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ آپ کے پڑوسی کس تکلیف میں مبتلا ہیں، یہ جاننا نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں ایک ڈیم شروع کیا گیا ہے تو اس کے اثرات کیا ہوں گے؟ میں یہ کہتا ہوں جس کو اپنی قوم کے معاملات سے دلچسپی نہیں، وہ ہرگز مہذب کہلانے کا حق دار نہیں۔ کیسی تہذیب، کیسا تمدن؟ جب آپ یہ معلوم ہی نہیں کرنا چاہتے کہ آپ کے ہم وطن کو تکلیف کیا ہے؟“
رحمان صاحب پڑھنے کے رسیا تھے۔ مطالعہ کی چاٹ بچپن میں لگ گئی تھی۔ رتن ناتھ سرشار کا ناول ’فسانہ آزاد‘ ساتویں جماعت میں پڑھ لیا تھا۔ اسی زمانے میں گالزوردی کی مشہور کہانی The Apple Tree کے پطرس بخاری کے قلم سے ہوئے ترجمہ کا مطالعہ کیا، جو اردو کے مثالی تراجم میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں محمد خالد اختر نے لکھا: ”احمد شاہ بخاری پطرس کا گالزوردی کی کہانی “The Apple Tree” کا ترجمہ ابھی تک غالباً اردو زبان میں سب سے خوبصورت ترجمہ ہے۔ واحد ترجمہ جو اوریجنل کی شاعری اور لطافت کو دو چند کر دیتا ہے۔“
اردو کے صاحب طرز نثر نگار شیخ منظور الٰہی نے بھی یہ ترجمہ بچپن میں پڑھا۔ ان کے بقول ”گالزوردی کے ناول Apple Tree کا ترجمہ نقش اول معلوم ہوتا تھا۔ ترجمے میں پطرس نے اپنی قادر الکلامی کا جوہر دکھایا تھا۔ کہیں کہیں نثر میں شاعری کی جھلک تھی۔“
رحمان صاحب کی نوجوانی کے زمانے میں کرشن چندر بہت مقبول لکھاری تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سوچ میں تبدیلی آئی اور انھیں، اردو کے وہ ناول پسند آنے لگے جن میں ایسے واقعات اور کردار تھے جن سے وہ خود کو متعلق کر سکتے تھے۔ ان ناولوں میں وہ خدیجہ مستور کے ’آنگن‘ ، عبداللہ حسین کے ’اداس نسلیں‘ اور مستنصر حسین تارڑ کے ’راکھ‘ کا نام لیتے تھے کہ ان نے کرشن چندر کے ’شکست‘ کی نوع کے ناولوں سے زیادہ اپنی طرف کھینچا۔
ان ناولوں میں جن زمانوں کا ذکر ہے، ان سے رحمان صاحب کا براہ راست تعلق رہا، ان کے اثرات ان کی ذاتی زندگی پر بھی مرتب ہوئے اور فکر و نظر پر بھی، اس کی ایک بڑی مثال برصغیر کی تقسیم ہے۔
دوستوئیفسکی کے ناول ’جرم و سزا‘ اور ’کراما زوف برادران‘ نے بھی انھیں بہت متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹالسٹائی کے ’جنگ اور امن‘ سے لے کر شمس الرحمٰن فاروقی کے ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ تک، بہت سے ناولوں کا ان پر اثر رہا۔
رحمان صاحب وسیع المطالعہ آدمی تھے۔ ان کی وسعت مطالعہ کے لیے معروف صحافی عدنان عادل نے بی بی سی کو بتایا ”وہ بہت قاموسی (انسائیکلوپیڈک) شخصیت کے حامل تھے۔“
عبداللہ طارق سہیل نے اپنے کالم میں لکھا: ”اسلام کے عمرانی پہلو پران کا مطالعہ بہت سے علما سے بڑھ کر تھا۔“
رحمان صاحب کے کثیرالجہت مطالعے میں لگتا ہے ناولوں کو خاص مقام حاصل تھا۔ ناول پڑھنے والے تو بہتیرے ہوتے ہیں لیکن ناول کے اچھے قاری خال خال ملتے ہیں، جن میں یقیناً رحمان صاحب شامل تھے۔ اس کا مجھے صحیح معنوں میں اندازہ چند سال پہلے ’امراؤ جان ادا‘ کے بارے میں ان کے اس مضمون سے ہوا جس کا عنوان تھا:
A modern piece of writing
یہ ناول رحمان صاحب کو بہت پسند تھا۔ اس کا ان پر بہت گہرا اثر رہا۔ انھوں نے اس پر مضمون لکھنے کے لیے دوبارہ پڑھا تو ساتھ میں مصنف کے حالات زندگی پر بھی نظر ڈالی۔ بتایا کہ مرزا رسوا نے جب یہ ناول رقم کیا وہ مالی پریشانی میں گھرے تھے، انھیں قرض چکانا تھا، اس واسطے ان کی یہ تخلیق انڈر پریشر اور بہت عجلت میں لکھی گئی۔ رحمان صاحب کے خیال میں ذہنی تناؤ میں رہ کر ادبی شاہکار تخلیق کرنے سے ان کی بہت زیادہ ذہنی مستعدی اور اس کے برابر ہی ہنرمندی ظاہر ہوتی ہے۔
رحمان صاحب کے خیال میں مرزا رسوا بہت سے انگریزی ناول پڑھ چکے تھے، چند ایک کا ترجمہ بھی کیا، اس لیے وہ یورپی ناولوں سے کے سٹرکچر سے واقف تھے، دوسری طرف داستان کی مقامی روایت سے بھی ربط تھا، اس لیے ’امراؤ جان ادا‘ مقامی تہذیب میں گندھا اردو کا پہلا ناول کہا جاسکتا ہے جو یورپی معیارات پر بھی پورا اترتا ہے۔
رحمان صاحب کی دانست میں رسوا نے لکھنوی معاشرے کو معروضی اور باوقار انداز میں ناول میں پیش کیا ہے۔ ان کی دانست میں میں کہانی کے بیان کے لیے طوائف کا انتخاب اس لیے ہے کہ اس زمانے میں ملکاؤں اور طوائفوں کو ہی پبلک میں بات کرنے کی اجازت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ 1899 میں شائع ہونے والے اس جدید ناول سے اس کے کرداروں اور معاصر زمانے کے بارے میں اپروچ کی بنا پر موجودہ نسل بھی لطف اندوز ہو سکتی ہے۔



