بدمعاش
اِس علاقے کے سارے غنڈے بدمعاش اُس سے خوف کھاتے تھے اور اُس کا احترام کرتے تھے یہاں غنڈوں اور بدمعاشوں نے اپنے چیلے چانٹے بھی رکھے ہوئے تھے مگر وہ گھر سے اکیلا ہی نکلتا تھا۔ جب وہ چوک میں آ کر بیٹھتا تو پہلے سے بیٹھے غنڈے بدمعاش اُس کے لئے اپنی چادر بچھا دیتے تھے۔
اِس چوک میں ہر وقت گہما گہمی رہتی تھی اور علاقہ بھر کی خبروں کے لئے یہ جگہ بی بی سی کا کام کرتی تھی۔ یہاں شاعر بھی تھے، حکیم بھی، موچی بھی، جولاہے بھی، جواری بھی، بدمعاش بھی، نیک اور پرہیز گار سبھی یہاں بستے تھے۔
وہ بولتا کم مگر ُسنتا زیادہ تھا۔ وہ ایک بار یہاں چائے پیتا تھا جبکہ ایک ریشمی رومال میں رکھی ڈبی میں اُس کو سگریٹ پیش کیے جاتے تھے جو وہ وقفہ وقفہ سے سلگاتا اور دھواں ہوا کے سپرد کر دیتا تھا۔ یہ بات شاید اُس کو معلوم تھی کہ ہوائیں بھی ہماری سوچ کی طرح آوارہ ہوتی ہیں کوئی بھی بندش قبول نہیں کرتی ہیں سب سرحدیں پار کر جاتی ہیں۔ یہ اُس کا روز کا معمول تھا
اُس نے کئی بار جیل دیکھی تھی مگر ریل نہیں دیکھی تھی وہ ریل کا سفر کرنا چاہتا تھا۔ اُس کے ایک بدمعاش دوست نے اُس سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اکٹھے ریل پہ کراچی جائیں گے وہاں اُسے سمندر کی سیر بھی کروائے گا۔ یہ بات پورا علاقہ جانتا تھا کہ اُس نے کبھی بے جا لڑائی نہیں کی ہے مگر جب اُس کی کسی سے ٹھن جاتی تو پھر علاقہ بھر میں کئی کئی روز تک اُس کی لڑائی کا چرچا رہتا تھا۔ اِس علاقے کے کئی مالدار افراد اُسے اپنا محافظ رکھنا چاہتے تھے مگر یہ بات اُس سے کرنے سے ڈرتے تھے۔ وہ اکھڑ طبیعت تھا مگر اُس کے باوجود اُس میں بانکپن تھا۔
ایک دن اُس نے چوک میں ایک فیصلہ کرنا تھا دو گروہوں کی صلح کے لئے بات سُننا تھی جس میں علاقہ بھر کے بدمعاش اور معززین اکٹھے ہو رہے تھے علاقہ کے نامی گرامی بدمعاش اور علاقہ کے لوگ اُس کا انتظار کر ہے تھے مگر وہ ابھی تک چوک نہیں پہنچا تھا۔ اُس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ اُس نے کوئی بات کی ہو اور وہ پوری نہ کی ہو تو عین اُسی وقت مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے ایک اعلان ہونا شروع ہوا اعلان کرنے والے نے جب اپنا نام بتایا تو سب کے سب اعلان کی جانب متوجہ ہو گئے۔
میری یہ آواز جہاں تک پہنچ رہی ہے وہاں تک تمام لوگ میرا یہ اعلان غور سے سن لیں کہ آج صبح میری بہن گھر سے بھاگ گئی ہے۔ یہ بات میں اعلان کر کے بتا رہا ہوں کہ اِس بات پہ دھیان رہے کہ میں کوئی کھسر پھسر نہ سنو میں جو اُن کا حال کروں گا وہ آسمان بھی دیکھے گا اور زمین بھی مگر میں یہ نہ دیکھوں کہ میرے اِس اعلان کے بعد کسی نے کوئی کھسر پھسر کی ہے۔ یہ اعلان کا سننا تھا کہ چوک میں بیٹھے تمام لوگ دم بخود ایک دوسرے کی جانب دیکھنا شروع ہو گئے ایسے جیسے پتھر کے بت میں بدل گئے ہوں۔


