ظلم و بربریت کے دو سو روز مکمل
فلسطین اور اسرائیل کی حالیہ کشیدگی کو 200 ایام سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ 35 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں جن میں ساڑھے نو ہزار خواتین اور ساڑھے چودہ ہزار سے زائد بچے شامل ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ انسانی المیے کی سنگینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ غزہ میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے والے اسرائیل کو امریکہ سمیت بڑی عالمی طاقتوں کا مکمل تعاون حاصل ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق رفح پر ایک تازہ اسرائیلی فضائی حملے میں آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ جس کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھیں جس کی موت کے بعد ڈاکٹروں نے فوری آپریشن کر کے بچی کو بچا لیا ہے۔ نومولود کی چار سالہ بہن اور والد بھی حملے میں شہید ہو چکے ہیں اور گھر بھی مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ سبرین یودہ نامی ایک نومولود کا یہ حالیہ دل خراش واقعہ ہے۔
ایسے بیسیوں واقعات آئے روز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ماضی میں لڑی جانے والی مختلف جنگوں میں ظلم کی داستانوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ لیکن مہذب دور میں اپنی نوعیت کی واحد جنگ ہے جس میں نہتے اور بے گناہ لوگوں کا ایک سازش کے تحت قتل عام کیا جا رہا ہے۔ ہسپتالوں و اسکولوں پر بمباری اور سویلین آبادی کو نشانہ بنانے کے اس قدر واقعات شاید اس سے قبل کم ہی رونما ہوئے ہوں۔ 200 دنوں میں غزہ کے 32 ہسپتالوں اور 53 مراکز صحت کو تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ 126 ایمبولینسز اسرائیلی بربریت کا نشانہ بنائی گئیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 3 چرچ اور ساڑھے پانچ سو سے زائد مساجد کو شہید کیا گیا۔
پورا غزہ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دب چکا ہے۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق جنگ کے نتیجے میں غزہ میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تیس ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
سر زمین فلسطین کی آغوش ہزاروں اجتماعی قبروں سے بھر چکی ہے۔ پورے پورے خاندان ختم ہو چکے ہیں۔ شہداء کی نماز جنازہ اور تدفین کا معقول انتظام نہیں رہا۔ زندہ بچ جانے والے شہری بھی اپنے پیاروں کی جدائی کے صدمہ میں تڑپ رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو کر عارضی پناہ گاہوں اور خیموں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ غذا کی قلت کے باعث بچوں کی بے تحاشا اموات رپورٹ ہو رہی ہیں اور لوگ خوراک کے ایک ایک نوالے کو ترس رہے ہیں۔ افسوس کی بات کہ قابض ریاست جب چاہے امدادی سامان کی سپلائی بھی روک دے۔
اسلامی ممالک کے حکمران محض خانہ پری کے طور پر مذمتی بیانات جاری کر کے وقت گزار رہے ہیں۔ 35 مسلم ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد بھی مکمل خاموش ہے جیسے وہ غزہ کے حالات سے بے خبر ہو۔
اقوام متحدہ غیر متوازی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمہ میں ہمیشہ کی طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نسل کشی اور دیگر جنگی جرائم کے ارتکاب با الخصوص امداد کے منتظر فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت کی لیکن منظور ہونے والی قراردادیں بے سود ثابت ہوئیں تو مذمت کیا معنی رکھتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیلی ظلم و ستم کے جواب یا انتقام میں ہم کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ اور نہتے فلسطینی شہریوں کی کیا مدد کی جا سکتی ہے؟
سوشل میڈیا پر عوامی رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل فلسطین حالیہ کشیدگی پر ہمارے حکمرانوں کا کردار یا موقف عوامی توقعات کے مطابق نہیں ہے۔ بلکہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرنے والے مظاہرین کی گرفتاریوں ایسے اقدامات سے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مسلم ممالک کے عوام میدان جنگ میں اتر کر ایک فریق کی مدد اور دوسرے کا مقابلہ کرنے سے تو قاصر ہیں۔
روزمرہ کے اخراجات کا کچھ حصہ بچا کر جنگ سے متاثرہ لوگوں کی مالی مدد میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ غذائی قلت کے شکار غزہ کے شہریوں کے لیے انسانیت کے ناتے ہم کفایت شعاری اپنائیں۔ نفلی عمرہ، شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے فلاحی تنظیموں کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کی جا سکتی ہے۔ بچوں کی ضروریات پوری کرتے وقت غزہ کے بھوکے پیاسے بچوں کو بھی یاد رکھیں بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔
ممکن حد تک اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے متبادل اشیاء کی خریداری کی بھرپور کوشش کریں۔ تاجر حضرات اسرائیلی مصنوعات کی خریداری اور فروخت کی حوصلہ شکنی کریں۔ سماجی تنظیمیں اس بارے عوام کو زیادہ سے زیادہ آگاہی دینے کی کوشش کریں۔
پاکستان میں جماعت اسلامی، دیگر جماعتوں اور سول سوسائٹی کے زیر اہتمام تاریخی مظاہرے کیے گئے ہیں جن سے اسرائیلی جارحیت کے خلاف عوام نے غم و غصہ کا اظہار کیا۔ امت مسلمہ پر لازم ہے کہ بھرپور پر امن احتجاج جاری رکھے۔ مسلم حکمرانوں پر احتجاج کے ذریعے دباؤ بڑھایا جائے کہ وہ متحد ہو کر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل طے کریں۔ پر امن احتجاج کے ذریعے ہی حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں جاری احتجاج سے ہی اقوام متحدہ اور آؤ آئی سی سمیت دیگر عالمی اداروں پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے اور اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا کو بھی بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔


