فلسطینی بچوں پر قیامت گزر رہی ہے


ہم عا م انسان بالعموم  اور  بالخصوص بطو ر مسلمان بہت شور مچانے کے  عادی ہیں بلکہ یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ ہم ہر مسئلے کا صرف سر سری جائزہ لیتے ہیں اور دنیا کی رائے کو سن کر اسی کو اپنی رائے جان و مان کر اس کی اندھی پیروی کرتے ہیں اور اگر میں بات کروں پاکستانیوں کی تو نہ ان کی اپنے لئے، نہ ہی اپنے بچوں کیلئے کوئی نشان منزل ہے نہ نہ ہی بنانے کی کوئی سعی نظرآتی ہے ۔

ہمیں نہ اپنی فکر ہے نہ ہی اپنے بچوں کی باتیں کرنے ا میں توہمیں  زمین و آسمان کے قلابے ملانے کو کہا جائے تو ہم پاکستانی یقینا پوری دنیا کو پیچھے چھوڑ دینگے لیکن جہاں بات آئے گی عملی اقدامات کی ہم صف آخر میں ہی نظر آیئں گے ۔

بات کی جائے اہم ترین ، تیزی سے  جاری نسل کشی کی، بدلتی ہوئی جدید دنیا کی  دہری اقدار کی، اسلام دشمنی کی تو اس وقت اس کا بد ترین مظاہرہ انبیاء  کرام کی سر زمین  پر جاری ہے ۔ پوری دنیا بلعموم اور مسل دنیا بالخصوص خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور ہم پاکستانی سونے پہ سہا گہ کے اس بر بریت سے دور ریت میں منہ چھپائے اپنے ہی بھایئوں سے دست وگریبا ں ہیں۔

یوں تو ہر ذی شعور ہر انسانی مسئلے پر بات کرنا چاہتا ہے  لیکن جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات ہو اور اقوام عالم بھی جانب داری کا  کھلے عام مظاہرہ کریں وہاں معاشرے کے ہر حساس دل رکھنے والے فرد کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں  اور بحیثیت انسان اس کی ذات پر ایک قرض واجب الادا  ہو جایا کرتا ہے ۔

میرے ساتھ کچھ یھی مسئلہ ہے کہ اب ناقابل برداشت حد تک کہ سن سن کہ اور دیکھ دیکھ کر  اپنا و جود ضمیر کے بوجھ تلے دبتے ہوئے محسوس ہو رہا ہے۔

آیئے  کچھ اعداد و شمار دیکھتے ہیں کہ وہ فلسطین میں جاری ظلم وبربریت  پر کیا کہتے ہیں ان کی رائے جہ جانب دار ہو یا نہ ہو قابل قبول ضرور سمجھی جاتی ہے  اور یہ سب زیادہ تر ماضی قریب ہی کہ ہیں۔

غزہ میں تشدد سے بچ جانے والے بچے ناقابل بیان ہولناکیوں کو برداشت کر رہے ہیں، جن میں زندگی بدلنے والے زخم، جلنا، بیماری، ناکافی طبی دیکھ بھال، اور اپنے والدین اور دیگر پیاروں کو کھونا شامل ہیں۔ انہیں تشدد سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا ہے، اکثر بار بار، جانے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے، اور ایک غیر یقینی مستقبل کی دہشت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غزہ میں تقریباً 1,000 بچے اپنی ایک یا دونوں ٹانگیں کھو چکے ہیں، بہت سے بچوں کو بے ہوشی کی دوا کے بغیر کاٹ دیا گیا ہے، اور انہیں زندگی بھر طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی۔

یو نیسیف  کے مطابق  ہزاروں فلسطینی بچے ایک یا دونوں ٹانگوں سے محروم ہوئے

تقریباً 1.1 ملین بچے – غزہ میں بچوں کی پوری آبادی – مناسب انسانی امداد تک رسائی سے محروم

  • مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے سیو دی چلڈرن کے کنٹری ڈائریکٹر جیسن لی نے کہا

"کسی حتمی جنگ بندی کے بغیر ہر روز اوسطاً 100 بچے مارے گئے ہیں۔ بچوں کے قتل کا کوئی جواز نہیں بن سکتا۔ غزہ کی صورتحال خوفناک ہے اور ہماری عام انسانیت کے لیے تباہ کن ہے۔

تقریباً 100 دنوں سے، بچے اس تنازعہ کی قیمت ادا کر رہے ہیں جس میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ وہ خوفزدہ، زخمی، معذور، بے گھر ہیں۔ اسرائیل کی بمباری اور زمینی کارروائیوں سے غزہ کی ایک فیصد بچہ آبادی پہلے ہی ہلاک ہو چکی ہے۔ دوسروں کو بھوک اور بیماری سے ہلاک ہونے کا خطرہ ہے جب کہ قحط قریب آ رہا ہے۔ بچ جانے والے بچوں کے لیے ذہنی نقصان پہنچایا گیا اور بنیادی ڈھانچے بشمول گھروں، اسکولوں اور اسپتالوں کی مکمل تباہی نے ان کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے۔

ریکارڈ تعداد میں بچوں کی ہلاکت اور معذور ہونے کے باوجود عالمی برادری بار بار کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بچوں کے خلاف کی جانے والی ایک سنگین خلاف ورزی ایک بہت زیادہ ہے۔ پچھلے تین مہینوں سے، غزہ میں بچوں کو ہر روز سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جب کہ انہیں انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کے حالات وہاں موجود نہیں ہیں۔

اب حوالہ دیکھتے ہیں کہ بچوں کی زندگیوں پر کیسے کیسع اس مسئلے نے اپنا اثرورسوخ ڈالا ہے اور انسانیت کیلئے کیا کیا نئے مسائل انبار  اکٹھے کر لیئے ہیں

زندگی اور خاندان: فلسطین میں بچے اکثر تنازعات، تشدد اور نقل مکانی سے متاثرہ ماحول میں پروان چڑھتے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے خاندان کے افراد، گھروں اور تحفظ کے احساس کے نقصان کا تجربہ کیا ہے۔ مسلسل تنازعات کا ان کی نفسیاتی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے، بہت سے لوگ صدمے اور تناؤ کا شکار ہیں۔تعلیم:تنازعات کی وجہ سے فلسطین میں تعلیمی نظام کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسکولوں کو اکثر نقصان پہنچا یا تباہ کیا جاتا ہے، اور کرفیو، چوکیوں اور تشدد کی وجہ سے تعلیم تک رسائی محدود ہوتی ہے۔ بہت سے بچے باقاعدگی سے اسکول جانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، جس سے ان کے سیکھنے اور مستقبل کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔ مزید برآں، اساتذہ اور طلباء کو نفسیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو فراہم کردہ تعلیم کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔صحت:فلسطین میں صحت کی دیکھ بھال کی خدمات بھی تنازعات سے متاثر ہوئی ہیں۔ چیک پوائنٹس، بندشوں اور محدود وسائل کی وجہ سے طبی دیکھ بھال تک رسائی اکثر محدود ہوتی ہے۔ بچوں کو صحت کی ضروری خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے بیماریوں اور زخموں کا علاج ناکافی ہوتا ہے۔ فلسطینی بچوں میں غذائی قلت اور ذہنی صحت کے مسائل پائے جاتے ہیں، جو آبادی کو درپیش وسیع تر صحت کے چیلنجوں کی عکاسی کرتے ہیں۔مستقبل:غیر یقینی سیاسی صورتحال اور جاری تنازعات فلسطینی بچوں کے مستقبل کے امکانات کے لیے اہم چیلنج ہیں۔ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، اور اقتصادی مواقع تک محدود رسائی ان کی ترقی اور ترقی کی صلاحیت میں رکاوٹ ہے۔ خطے میں استحکام اور سلامتی کا فقدان بھی بے یقینی کا ماحول پیدا کرتا ہے، جو مستقبل کے لیے ان کی امنگوں اور خوابوں کو متاثر کرتا ہے۔خلاصہ یہ کہ فلسطین میں بچوں کی صورت حال پیچیدہ اور چیلنجنگ ہے، جس کا نشان ان کی زندگیوں، خاندانوں، تعلیم، صحت اور مستقبل کے امکانات پر تنازعات کے اثرات سے ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کی کوششوں کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت ہے جو تنازع کی بنیادی وجوہات کو حل کرے اور فلسطینی بچوں کی فلاح و بہبود اور ترقی میں سرمایہ کاری کرے جو کہ تا حال اسرایئلی ہٹ د ھرمی اور اس کے نام نہاد امن پر ستوں کو منظور ہی نہیں  نظر آتا۔

Facebook Comments HS