پانی کے خطرات و امکانات


پانی جس رفتار سے ختم ھورھا ھے اس سے انسانی زندگی اور ماحول کو شدید خطرات لاحق ھیں۔ اس کا اگر بروقت مناسب سدباب نہ کیا گیا تو اکیسویں صدی کے وسط میں ایک نہایت برا حال ھوگا جو بیوقت انسان ،حیوان ، چرند پرند اور ماحول کے لئے شدید نقصان کا باعث بن سکتا ھے۔
کئی ممالک اور علاقوں میں اس وقت ایک نہایت گھمبیر صورتحال ھے جس کے کئی اسباب ھیں جیسے کہ سیاسی ھل چل ، معاشی و اقتصادی نظام دھرم بھرم ھورھاھے ، معاشرتی بگاڑ اس ماحول کو مزید پراگندہ کردے گا۔ موسمی تغیرات نے پورے ماحول کو نہایت خطرناک کردیا ھے جو خطرناک صورتحال کی جانب تیزی سے بڑھ رھا ھے۔ اگر درجہِ حرارت مزید 4 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ گیا تو 2050 تک 75 فیصد زیر زمین پانی کی مقدار کم ھوسکتی ھے اور صدی کے اختتام تک ھوسکتا ھے کہ درجہِ حرارت 5 سینٹی گریڈ تک بڑھ جاۓ اور یوں زندگی انتہائی دشوار اور کھٹن ھوسکتی ھے۔ اس وجہ سے معاشروں میں بے چینی اور بے روزگاری بڑھ جاۓگی ، غربت میں اضافہ ھوگا اور لوگ بہتر ماحول دوست علاقوں کی جانب ھجرت کرنے پہ مجبور ھوجائیں گے اس وجہ سے زراعت اور دیگر شعبۂ ھاۓ زندگی شدید متاثر ھوسکتے ھیں۔ یہ تصور ھی ھولناک ھے کہ اس وجہ سے حکام کے لئے حاکمیت اور انتظام و انصرام کو برقرار رکھنا نہایت مشکل ھوگا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس کا زیادہ گہرا ور ھمہ گیر اثر خلیجی ممالک اور افریقہ میں شدید ھوگا۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے بے شمار لاینحل مسائل بڑھ رھے ھیں ، دیہاتوں سے شہروں میں منتقلی بھی زوروں پہ ھے۔جس وجہ سے شہری حکومتوں کے لئے مناسب پانی کا انتظام و انصرام کرنا زیادہ مشکل ھورھا ھے۔ یہی سبب ھے کہ پانی کی طلب و رسد میں فرق بڑھتاجا رھا ھے۔
حکام کو اس مسئلے سے نبٹنے کے لئے بروقت پیش بندی کرنا ھوگی ۔ ماحول دوست اقدامات کے لئے عالمی برادری کو ھاتھ جوڑنے کے لئے ایسے اقدامات کرنا ھونگے جس سے ماحول کو زندگی کے لئے سازگار بنایا جاسکے۔ گرین ھاؤس گیسس کے اخراج کو روکنا ھوگا ۔ بارشوں اور سیلاب کی صورت میں جو پانی سمندر برد ھورھاھے اسے مناسب طریقے سے روک کر زراعت کے فائدے کے لئے روکنا ھوگا اور اس کام میں مزید سرمایہ کاری کرنا ھوگی۔ اس جدوجہد میں حکومتوں اور نجی سیکٹر کو عوام کے ساتھ مل کر اور مستقبل کے تقاضوں کو سمجھنا اور مشترکہ تدابیر کرنا ھوں گی۔ ھر فرد ھے ملت کے مقدر کا ستارہ بننا ھوگا تاکہ آئیندہ نسلوں کو ایک بہتر ماحول دان کیا جاسکے ۔اس طرح ھی ان خطرات سے بچنے کی تدابیر کی جاسکتی ھیں۔

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments