ناکام تجربہ اور ڈیل


اگر اپ کسی پہلوان کو اکھاڑے سے نکال کر اس کے ہاتھ میں پین اور کاپی پکڑا دیں تو وہ صحافی نہیں بن جائے گا۔ اگر اپ کسی پنکچر لگانے والے کو کوئی موٹروے بنانے کا ٹاسک دے دیں تو وہ انجینئر نہیں بن سکتا پھر یہ کیسے ممکن ہے کوئی کرکٹر گراؤنڈ سے اٹھا کر وزیراعظم ہاؤس پہنچا دیا جائے اور وہ بہترین ایڈمنسٹریٹر بن جائے۔ اگر آپ کسی اناڑی کو گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا دیں جس کو گاڑی چلانے یا سنبھالنے کا تجربہ نہیں ہے تو یقیناً وہ گاڑی کسی دیوار میں دے مارے گا یہی کچھ عمران خان نے ملک کے ساتھ کیا ہے۔

مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ سکی کہ ماضی کی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان پر اس قدر بڑا جوا کیسے کھیل لیا؟ جس شخص کو اس کے پورے خاندان میں کوئی شخص پسند نہیں کرتا اس کے حوالے 25 کروڑ عوام کا پورا ملک کر دیا۔ اس کی خاطر ادارے کی عزت اور وقار داؤ پر لگا دیے گئے۔ اس کے اور اپنے مخالف تمام سیاست دانوں کو چن چن کر دیوار میں چنوا دیا گیا۔ اندر اور باہر سے جہاں تک ممکن ہو سکا اس کے لیے گراؤنڈ ہموار کر دی گئی لیکن یہ ایسا اناڑی نکلا ہر قسم کی سپورٹ ہونے کے باوجود بھی ڈلیور نہیں کر سکا۔

اس کا ذمہ دار یہ نہیں بلکہ اس کی خاطر اپنی عزت اور وقار داؤ پر لگانے والے تھے۔ پھر اس کو جیسے ہی پارلیمنٹ سے نکالا گیا یہ اپنے ہی آقاؤں کے گلے پڑ گیا، ڈھٹائی اور سینہ زوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے برملا عوامی جلسوں میں اپنے سب سے بڑے محسن قمر جاوید باجوہ کے خلاف زہر اگلنے میں رتی برابر بھی شرمندگی محسوس نہیں کی۔ بلکہ ان کے خلاف جس قدر ہو سکا ذہن سازی کی پروپیگنڈا کیا حتی کہ ان کو ملک دشمن تک بھی قرار دے دیا۔

اس سب کے باوجود بھی اسی قمر جاوید باجوہ کے ساتھ دو خفیہ ملاقاتیں بھی کی دونوں ملاقاتوں میں عمران خان نے ایک ہی مطالبہ کیا کہ کسی بھی طریقے سے دوبارہ میری حکومت بنوائے جبکہ قمر باجوہ نے ایک ہی بات کی کہ آپ شہباز شریف سے ملیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر اپنے سیاسی معاملات طے کریں لیکن موصوف چاہتے تھے کہ میری پھر سہولت کاری ہو میرے ناز اور نخرے اٹھائے جائیں لیکن اب بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا تھا۔

جب دونوں ملاقاتیں بے نتیجہ رہی تو وہی عمران خان اسی قمر باجوہ کے خلاف پھر جلسوں میں زہر اگلنے لگا۔ آج ایک بار پھر یہی زہر موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے خلاف اگل رہا ہے جیل میں بیٹھے ہونے کے باوجود بھی برملا دھمکیاں دے رہا ہے کہ میں جنرل عاصم منیر کو چھوڑوں گا نہیں ایسی ہی دھمکیاں نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو بھی دیتا رہا ہے لیکن دوسری جانب اس کی جماعت کے کرتا دھرتا آج کل جنرل عاصم منیر اور جنرل ندیم انجم سے ملاقات کے لیے وقت مانگ رہے ہیں پہلی بات یہ ہے کہ جنرل عاصم منیر کبھی بھی عمران خان یا تحریک انصاف کے کسی بھی سرکردہ رہنما سے ملاقات نہیں کریں گے اس کی ایک بڑی مثال چند ماہ قبل بلاول بھٹو نے بھی جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے لیے وقت مانگا تھا لیکن جنرل عاصم منیر نے ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔

جنرل عاصم منیر اگر تحریک انصاف کے کسی بھی رہنما سے ملاقات کرتے ہیں تو اس کی وہ سب سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف سے اجازت لیں گے اگر شہباز شریف نے اجازت نہ دی تو وہ ملاقات نہیں کریں گے اگر تحریک انصاف کی طرف سے جنرل عاصم منیر کو ملاقات کے لیے پیغام بھجوایا تو ان کی طرف سے واضح جواب ہو گا کہ آپ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں اور ان کے ساتھ اپنے سیاسی معاملات طے کریں کیونکہ اس وقت آرمی، چیف سے سپاہی تک، عمران خان کے ماضی اور حال سے بخوبی آگاہ ہو چکی ہے۔

سب جانتے اس نے فوج کے متعلق کیا کچھ کہا یہ ایک محسن کش آدمی ہے۔ جس نے جنرل باجوہ جیسے محسن کا لحاظ نہیں رکھا اور موجودہ آرمی چیف کو دھمکیاں دے رہا ہے تو کوئی بھی کور کمانڈر سے عام سپاہی تک اس کی حمایت یا طرفداری کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ فوج نے نیوٹرل ہونے کا فیصلہ کیا تھا تو لہذا وہ اسی بات پر بطور ادارہ قائم ہے۔ اگر جنرل باجوہ نے عمران خان کو شہباز شریف سے ملاقات کا مشورہ دیا تھا تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جنرل عاصم منیر یہ مشورہ تحریک انصاف کو نہ دیں؟

پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں تفریق ہو سکتی ہے لیکن فوج کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ یہ ایک ڈسپلن پر چلنے والی فورس ہے اور اس کی پابند ہے۔ اس کی بڑی مثال نو مئی کے واقعات ہیں۔ اس میں اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں نو مئی جنرل عاصم منیر کے خلاف ایک ناکام بغاوت تھی جس کو جنرل ساحر شمشاد مرزا نے ناکام بنایا تھا۔ لہذا تحریک انصاف یا عمران خان اگر آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم سے کوئی خفیہ ملاقات کر کے ڈیل کے خواہاں ہیں تو ایسا سوچنا بھی بے وقوفی ہو گا کیونکہ فوج اب عمران خان پر اعتماد کرنے، اس کے ساتھ بیٹھنے یا اس کے ساتھ چلنے پر ہرگز تیار نہیں ہے۔

عمران خان کے پاس ایک ہی آپشن ہے کہ ان کو وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ اگر وہ شہباز شریف کے ساتھ نہیں بیٹھتے تو شاید ان کو باقی عمر جیل میں ہی گزارنی پڑے کیونکہ جتنے عمران خان پر مقدمات ہیں اگر ان کے ہر چھ ماہ بعد فیصلے آتے رہے تو عمران خان کو 300 سال سے بھی زیادہ کی سزائیں ہو سکتی ہیں۔ اب فیصلہ عمران خان کو کرنا ہے باقی عمر جیل میں گزارنی ہے یا ایک اچھے سیاستدان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے سیاسی لیڈرشپ کے ساتھ بیٹھ کر اپنے معاملات طے کرنے ہیں۔ ایک اور اہم بات اگر عمران خان جیل سے باہر نہ نکلا تو یہ وکیلوں کا ٹولا تحریک انصاف کو ایسے صفحہ ہستی سے مٹا دے گا جیسے اس کا کبھی وجود تھا ہی نہیں۔

Facebook Comments HS