یک قطبی دنیا میں پاکستان کہاں کھڑا ہے


قطبیت عام طور پر تین میں سے ایک شکل اختیار کرتی ہے : یک قطبی (جس میں ایک ریاست سب سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے ) ، دو قطبی (جس میں دو ریاستیں تقریباً یکساں طور پر طاقتور ہوتی ہیں ) ، اور کثیر قطبی (جس میں طاقت کئی ریاستوں میں زیادہ پھیل جاتی ہے ) ۔ یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ کثیر قطبیت میں تقریباً مساوی صلاحیتوں کی بہت سی ریاستیں شامل ہونی چاہئیں (یعنی کہ یہ متوازن ہونا چاہیے ) ۔ لیکن درحقیقت، کثیر قطبی نظام اکثر غیر متوازن ہوتے ہیں، جس میں دو یا تین بڑی طاقتیں اور کئی درمیانی طاقتیں پوزیشن کے لیے جوک لگاتی ہیں۔

دنیا کی جدید تقسیم کو ہم 1947 کے بعد مانتے ہیں جب دنیا میں اس وقت موجود بیشتر ممالک اپنے اپنے واضح جغرافیائی حدود کے ساتھ الگ الگ ناموں اور حکومتوں کے ساتھ وجود میں آئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد طاقت کا وہ توازن بگڑ گیا جس کے سہارے غاصب ممالک دنیا کی بیشتر اقوام کو تابع رکھنے پر قادر تھیں۔ اقوام متحدہ کا قیام بھی اسی تسلسل کا حصہ تھا کہ دنیا کے نئے نظام کو کسی نہ کسی طرح برقرار رکھا جائے اور جنگوں سے بچا جائے۔

لیکن اس سب کے ہوتے ہوئے بھی دنیا دو بلاکس میں تقسیم ہو گئی تھی۔ ایک بلاک کی سربراہی امریکہ جبکہ دوسرے بلاک کی سربراہی روس کر رہا تھا۔ یعنی دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا دو قطبی بن گئی تھی۔ یہ سلسلہ نوے کی دہائی تک جاری رہا اور پھر ایک طویل سرد جنگ کے اختتام پر امریکہ واضح طور پر دنیا میں ایک اکیلا عظیم سپر پاور بن گیا اور دنیا یک قطبی نظام کی طرف بڑھنے لگی۔ حالیہ ایک دہائی میں چین نے اقتصادی طور پر امریکہ کی اس حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کی ہے۔

اور موجودہ دور میں روس نے پھر سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے امریکہ کی اس حیثیت کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسے میں دنیا بھر کے ماہرین کا خیال ہے کہ اب دنیا کثیر قطبی ہوتی جا رہی ہے جہاں کسی ایک ملک کی اجارہ داری ممکن نہیں رہی ہے۔ لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس وقت بھی بہت سارے معاملات میں خود کفیل نہیں ہیں۔ پوری عرب دنیا اپنی حفاظت اور تجارتی استحکام کے لیے امریکہ کا سہارا لیتی ہے۔

یورپ روس کے خوف سے امریکہ کا اتحادی ہے۔ جنوبی کوریا بھی عملاً امریکہ کے چھتری تلے ہی خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ بہت سارے ممالک ایسے ہیں جو تجارتی طور پر ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔ دنیا میں تیل فروخت کرنا اور پیدا کرنا کا مکمل نیٹ ورک اب بھی امریکہ اور روس کے مرہون منت ہے۔ قیمتوں کا تعین بھی انہی طاقتوں کے اختیار میں ہے۔ دنیا کا بیشتر معاشی کنٹرول اب بھی امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ بڑے بڑے سمندری گزرگاہوں کا کنٹرول بھی امریکہ نے سنبھال رکھا ہے۔

امریکہ اپنی اس پوزیشن کو مستحکم رکھنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ مگر تجارتی توازن حالیہ برسوں میں امریکہ کے حق میں زیادہ بہتر نہیں ہے۔ چین بہت تیزی کے ساتھ تجارتی میدان میں امریکہ کے ہم پلہ ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور چین کے تجارتی اور معاشی اشاریے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ چین امریکہ کے کنٹرول کو اس حوالہ سے چیلنج کر رہا ہے۔ امریکہ کو چین پر آئی ٹی ٹیکنالوجی کے حوالے سے برتری حاصل ہے۔ اس کی وجہ امریکہ کی یونیورسٹیاں اور ان کی اشتراک سے قائم ہونے والی بڑی بڑی ٹیک کمپنیاں ہیں۔

ساتھ ہی امریکہ دنیا کے بہتر صلاحیتوں کے حامل لوگوں کی اس وقت بھی اولین ترجیح ہے۔ سالانہ چھ ملین سے زیادہ اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد اپنے اپنے ملکوں سے امریکہ منتقل ہو رہے ہیں جس میں چین سے بھی لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے۔ یوں جدید دور میں زر کی اصل گردش اب بھی امریکہ میں ہی زیادہ ہے۔ امریکہ کو چین اور روس پر اس لیے بھی فوقیت حاصل ہے کہ امریکہ تجارت کے علاوہ بھی مشرق وسطیٰ اور کئی دیگر ممالک کو فوجی افرادی قوت اور خدمات فراہم کر کے بھی ان سے کثیر سرمایہ جمع کرتا ہے اور اسی بہانے ان ممالک پر امریکہ کا معاشی اور دفاعی اجارہ داری بھی برقرار ہے۔

امریکہ کو سمندر میں تمام فائدہ مند آبی گزرگاہوں کا کنٹرول بھی حاصل ہے۔ جس کی وجہ سے چین کی پیش رفت اس رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہی جس کی وہ خواہش رکھتا ہے۔ اس لیے چین اپنے قریبی ہمسایہ ممالک کی مدد سے سمندروں کے قریب ترین گزرگاہوں تک رسائی کی ممکنہ کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ شروع ہی سے وہ امریکی کیمپ میں شامل ہو گیا تھا۔ اور ابھی تک وہ امریکی کیمپ میں ہی ہے۔ اگرچہ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات اور تجارت گزشتہ دو دہائیوں میں بہت بڑھ گئے ہیں لیکن امریکن اثر رسوخ کے زیر اثر پاکستان چین کے ساتھ بھی زیادہ تعلقات بڑھانے سے گریز کر رہا ہے۔

ایران چونکہ امریکہ کے کیمپ میں نہیں ہے اس لیے امریکہ کے خوف سے پاکستان اس سے تجارتی اور دیگر معاملات میں تعلقات بڑھانے میں ہمیشہ مشکلات کا شکار رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ اپنے بلاک کو محفوظ بنانے اور اسے وسعت دینے کے لیے بھارت کے ساتھ تجارتی اور اشتراکی تعلقات بڑھا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان میں جو بھی اسٹیبلشمنٹ رہی ہے وہ امریکہ کے مفادات کے خلاف پاکستان کے فائدے میں کبھی بھی کوئی بڑا فیصلہ نہیں لے سکی۔

عمران خان کی حکومت میں ملائیشیا اور ترکی کو لے کر ایک معاشی نیا گروپ بنانے کی تجویز دینے کے بعد عین افتتاح کے وقت پاکستان کا مکر جانا، ایران کے ساتھ فائدہ مند تجارتی تعلقات سے گریز کرنا، سی پیک کے منصوبوں کو حقیقی رفتار سے مکمل نہ کرنا، روس کے ساتھ پاکستان کے فائدے پر مبنی تجارت سے فرار کی راہ اختیار کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان اس وقت بھی جب دنیا کے بیشتر ممالک یک قطبی نظام سے کثیر قطبی نظام کی طرف جا رہے ہیں امریکہ کے یک قطبی طاقت کے ساتھ کھڑا ہے۔

امریکہ پاکستان کو کنٹرول کرنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کا سہارا لیتا ہے۔ ان دو ممالک نے پاکستان کی اشرافیہ کو اپنا کالا دھن وہاں رکھنے کی مشروط اجازت دے رکھی ہے۔ اس لیے پاکستان کی اشرافیہ ان ممالک کو کسی بھی طور خفا کرنے اور ان کی بات نہ ماننے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی۔ ان ممالک کی دفاعی اور مالی پشت پناہی امریکہ کر رہا ہے جس کی بنیادی وجہ اپنے یک قطبی نظام کو برقرار رکھنا ہے۔ یوں پاکستان معاشی ترقی کے معاملے میں خطے کی دیگر ممالک سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

یہاں کرپشن خطے کی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، معاشی اور سیاسی استحکام کے راستے اب کثیر قطبی دنیا سے روابط میں ہیں۔ جس کا مظاہرہ ہندوستان کر رہا ہے وہ بیک وقت روس، چین، امریکہ، اسرائیل اور دنیا کی دیگر ممالک کے ساتھ اپنے فائدے کے تجارتی تعلقات کو دوام دے رہا ہے۔ مگر پاکستان ایسا ایک بھی فیصلہ نہیں لے رہا جس سے اس کی تباہ حال معیشت کو سہارا مل سکے۔ پاکستان کو مزید یک قطبی بلاک میں رکھنے کے لیے شعوری طور پر اس کے ادارے کمزور کر کے انہیں خسارے میں دیکھا کر عرب ممالک کے ان کمپنیوں کو فروخت کیا جا رہا ہے جن کا اختیار امریکہ کے پاس ہے۔

یوں آنے والے چند برسوں میں جب بیشتر دنیا کے ممالک ایک کثیر قطبی سلسلے میں جڑ جائیں گے۔ پاکستان اور چند دیگر ممالک جن کی جغرافیہ اہمیت بہت زیادہ ہے وہ بہ امر مجبوری امریکہ کا ساتھ دینے اور دیگر ممالک سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہیں گے۔ امریکہ کی افغانستان پر فوج کشی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ وہ چین کی معاشی ترقی کے رفتار کو بہت زیادہ تیز نہ ہونے دے۔ پھر افغانستان کو طالبان کے حوالہ کرنے اور اپنا اسلحہ اور فوجی ساز و سامان ان کے حوالے کرنے اور ان کے بنکوں میں موجود ڈالرز تک ان کو رسائی دینا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

پاکستان، ایران اور افغانستان کی سرحدوں پر لڑی جانے والی پراکسی وار جس میں حالیہ دنوں میں شدت آتی جا رہی ہے وہ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ ایران اور افغانستان کی سرحدوں پر ہونے والی اسمگلنگ اسی پراکسی وار میں ایک کامیاب ہتھیار اور ذریعہ کے طور پر استعمال میں لائی جا رہی ہے۔ اس لیے کہ افغانستان سے روس اور چین کے مفادات کو باآسانی نقصان پہنچایا جاسکتا ہے اور پاکستان کو بھی عملی طور پر مصروف رکھا جاسکتا ہے۔

اس لیے ان رستوں سے منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس سے حاصل والی خطیر رقم ان پراکسی جنگوں کو چلانے اور ان کے اخراجات پورے کرنے میں بہت معاونت فراہم کرتی ہے۔ امریکہ پاکستان کو اپنے بلاک میں رکھنا تو چاہتا ہے مگر اسے غیرمستحکم کرنے میں بھی پیش پیش ہے۔ جبکہ اس معاملے میں وہ بھارت کا کھل کر ساتھ دے رہا ہے۔ اس لیے کہ اس خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور پیش رفت کو بھارت ہی چیلنج کر سکتا ہے۔

اس لیے امریکہ کی ٹیک کمپنیاں وہاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں اور امریکہ اب ہندوستانی افرادی قوت کو زیادہ سہولیات و مراعات دے کر بھارت کی معاشی مدد کر رہا ہے۔ دوسری طرف امریکہ ہندوستان کو اسلحہ اور فوجی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی بھی فراہم کر رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو طاقت کا وہ توازن جو جنوبی ایشیا میں ہے وہ بگڑ جائے گا اور پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا ٹیکنالوجی میں ترقی کر رہی ہے اور دوسرے ممالک اقتصادی اور تجارتی فائدے اٹھا رہے ہیں۔

پاکستان اس سمت میں آگے بڑھنے کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہا۔ بنگلہ دیش، ویتنام، بھارت اور دیگر ممالک تعلیم پر بہت زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ اس قابل ہو گئے ہیں کہ دنیا کو ٹیکنالوجی خصوصاً ای ٹیکنالوجی اور اے آئی میں خدمات بیچ رہی ہیں جس سے ان کی جی ڈی پی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اور پاکستان تعلیم کے شعبہ کو مسلسل کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس وقت پاکستان اپنی تاریخ کے اس بدترین دور سے گزر رہا ہے جس میں اس کے دوست ممالک اس کے مقابلے میں ہندوستان کی طرف دوستی اور شراکت داری کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں اور پاکستان جانتے بوجھتے سمگلنگ، کرپشن، اور املاک فروخت کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔

کمزور ترین معیشت رکھنے والے ملک کی اشرافیہ دنیا میں سب سے زیادہ مراعات لے رہی ہے اور اس میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اشرافیہ جس کا مستقبل، مال اور اولاد متحدہ عرب امارت اور دیگر خطوں میں ہے۔ وہ جو اس ملک میں ہیں ان کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وہ ماسٹر ٹریپ ہے جو سوڈان، نائجیریا، ایتھوپیا، شام، مصر، وینزویلا، لیبیا اور پاکستان میں کام کر رہا ہے۔ یہ ٹریپ بنانے والے امریکن ماہرین ہیں۔ جو ان ممالک پر مسلسل ریسرچ کر رہے ہیں اور ان کو تابع رکھنے کے منصوبے اپنی حکومت کے ساتھ شیئر کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں سوچنے، تحقیق کرنے اور لکھنے والے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو لوگ یہاں سوچنے، تحقیق کرنے اور لکھنے پر مامور ہیں وہ اپنے اپنے مفادات اور مالکوں کے بتائے ہوئے ہوئے پیرامیٹرز سے حرکت کرتے ہیں۔ یوں یہاں سچ اور حقیقت کبھی بھی علمی حلقوں میں زیر بحث نہیں رہا ہے۔ یہاں کا انٹلیکچوئل لوگوں کو کسی شخصیت کا حامی بناتا ہے یا کسی ایسے بیانیہ کا حصہ بناتا ہے جس کا عملاً وجود ہی نہیں ہوتا اور اسی بیانیے کی آڑ میں لوگ ملک لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو شک ہے تو چند برس پہلے جو جو بیانیے گھڑے گئے اور لوگوں کو ان پر لگایا گیا ان کی حقیقت معلوم کر لیں۔ میری بات آپ کو سمجھ آ جائے گی۔

Facebook Comments HS