تماشائی، تماش بین اور سیاسی کھیل تماشے
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ٹیلی ویژن پر پیش کیے جانے والے سیاسی ٹاک شو یا سیاسی ملاکھڑے خالصتاً تفریحی نوعیت کے پروگراموں کی نسبت سے خاصی زیادہ ریٹنگ لیتے ہیں۔ اس کا صاف مطلب تو یہی ہو سکتا ہے کہ عوام تفریح طبع کے لیے سیاسی ٹاک شوز میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
دنیا بھر میں عوام اپنے تفریحی ذوق و شوق کی تسکین کے لیے مختلف ذرائع کا سہارا لیتے ہیں مثال کے طور پر سینما، تھیٹر، ڈانس کلب، کھیل، ویڈیو گیمز، موسیقی، میلے ٹھیلے، شکار، ہائی کنگ، صحت افزاء اور تاریخی مقامات کی سیر، کیمپنگ، سرکس، میجک شوز، ہوٹلنگ، عوامی مقامات پر مختلف سزاؤں پر عمل درآمد ہوتے ہوئے دیکھنا، جوگی اور سانپ، مداری، بندر بکرا اور قلندر، داستان گوئی، کامیڈی، چڑیا گھر یا قدرتی پارکس میں جنگلی جانوروں سے چھیڑ خانی، شاپنگ اور ونڈو شاپنگ وغیرہ۔ بعض ماہرین کے نزدیک ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت بھی ”تفریح“ کے دائرہ کار میں ہی آتی ہے۔ پاکستان میں عوام کا تفریحی مقاصد کے لیے سیاست دانوں کی طرف دیکھنا سیاسی کارکنان اور لیڈران کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے مگر بدقسمتی سے ایسا بالکل نہیں ہے اور شاید انہیں اس حقیقت کا ادراک بھی نہیں ہے۔
عام بول چال میں تماشائی اور تماش بین کو ایک ہی زمرے میں رکھا، بولا اور لکھا جاتا ہے لیکن ہماری ریسرچ کے مطابق یہ دو مختلف الفاظ اور مدارج ہیں۔ تماشائی اپنی سرشت میں مفت بر ہوتا ہے، مفت کی تفریح پسند کرتا ہے اور پیسہ خرچنے سے اجتناب کرتا ہے اور اگر کہیں پیسہ خرچنے کی نوبت آ جائے تو نظریں بچا کر پتلی گلی سے رفو چکر ہو جاتا ہے۔ تماش بین بنیادی طور پر تماشائی ہی ہوتا ہے لیکن تماشا دیکھنے کے لیے تھوڑے بہت پیسے بھی خرچنے کی طاقت رکھتا ہے مثال کے طور پر فلم بین سینما کی ٹکٹ خرید کر فلم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
جہان بینی بھی پیسے کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ تماش بینی کا لفظ خاص طور پر مجرے کے شوقین حضرات سے جڑا ہوا ہے اس لیے کہ انہیں اپنے ذوق کی تسکین کے لیے خاصی رقم چھت والے پنکھے کی نذر کرنا پڑتی ہے۔ یہ ایک علیحدہ سے بات ہے کہ اگر مجرا محفل پر پولیس کا چھاپہ پڑ جائے تو تماش بین حضرات جوتے چھوڑ کر اور دیواریں پھلانگ کر جان اور عزت بچاتے ہیں اور جو ”قابو“ آ جائیں انہیں پھر خاصی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انسان اپنا فالتو وقت کو گزارنے، تھوڑی بہت خوشی و لطف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ سیکھنے کے لیے تماش بینی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ماضی قریب میں نوابین بذات خود اور ان کی اولادیں آداب زندگی سیکھنے کے لیے طوائفوں کے ہاں جاتے یوں تفریح بھی ہو جاتی اور تعلیم و تربیت بھی۔ اس طرح کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ بلا آخر مغلیہ سلطنت کے انہدام کی صورت میں نکلا۔
یہاں ہم تھوڑی وضاحت کر دیں کہ ہم یہ مضمون خالصتاً سیاسی پیرائے میں رقم کر رہے ہیں اور عوام کو تماشائی یا تماشبین کہہ کر ان کی کوئی توہین نہیں کر رہے بلکہ یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تفریح تو ہر انسان کی شاید ضرورت ہے اور جیسے ہی عوام کو فرصت کے لمحات میسر آئیں گے تو وہ تفریح طبع کی طرف راغب ہوں گے۔ ہمارا مسئلہ یا سوال یہ کہ عوام اپنی تفریح کے لیے آخر سیاست دانوں کے جلسوں اور ٹاک شوز کو کیوں ترجیح دے رہے ہیں۔ ایک سیاسی کارکن ہونے ناتے ہم اس خطرناک رجحان کا ذمہ دار صرف اور صرف سیاست دانوں اور ان سے وابستہ سیاسی کارکنان کو سمجھتے ہیں۔ عوام ان کے پینتروں، قول اور فعل کے تضادات، ڈرامہ بازیوں وغیرہ کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں اور وہ بھی بالکل مفت۔
ہمارے اکثر قاری تنقید کرتے ہیں کہ ہم اپنے مضامین میں صرف سیاستدانوں کو ہی ہدف تنقید بناتے ہیں اور فوجی آمروں کا ذکر گول کر جاتے ہیں۔ ہم یہ بھی وضاحت کیے دیتے ہیں کہ ہم فوجی آمروں کو سیاست دان نہیں سمجھتے اور نہ ہی شاید کسی فوجی آمر نے کبھی سیاستدان ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ سیاست کے طالب علم ہونے کے ناتے ہماری ناقص رائے یہی بن پائی ہے کہ سیاست کے میدان میں ہر قسم کی فوجی و عدالتی مداخلتوں کے ذمہ داران بھی ہمارے سیاستدان خود ہی ہیں۔ پنجابی کہاوت ہے کہ اپنی چارپائیوں کو ڈھیلا مت ہونے دو بصورت دیگر کوئی طالع آزما منجی کے ساتھ ساتھ پیڑھیوں کو بھی ٹھوک دے گا۔ ہمارے خیال میں سیاستدان اگر سیاست کو سیاست سمجھیں یا سیاست کی میکانیات کو سمجھیں تو کسی بھی بیرونی و اندرونی مداخلت کا سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا۔
ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے اکثریت سیاست دان سیاست کو ایک ”تماشا“ تصور کرتے ہیں اور ان کا دھیان ہمیشہ نوٹنکی کے لوازمات پر ہی مرکوز رہتا ہے۔ ہمارے اڈیالہ والے خان صاحب سیاست کو کرکٹ کا کھیل سمجھتے ہیں یا شاید سمجھتے تھے۔ وہ ہر جلسے میں حاضرین کو ”میرے کھلاڑیو“ کہہ کر مخاطب کرتے۔ انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ ایک لاکھ کے سٹیڈیم میں کھلاڑی محض بائیس ہی ہوا کرتے ہیں۔
سیاست سائنس اور آرٹ، اصول و جذبہ، معروض کے تجزیے، عوامی نمائندگی کے بہترین آمیزے کا نام ہے جس مقصد صرف اور صرف عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں، خوشحالی اور حقوق دیتے ہوئے ملک و ریاست کو بتدریج ترقی اور مضبوطی دینا ہے۔ اگر ہمارے سیاستدانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اپنی اصلاح نہ کی تو عوام انہیں جوکر اور مداری سمجھیں یا نہ سمجھیں مگر تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی تاریخ کے اوراق میں ان کا نام مبارک شاہ اور اختر شاہ رنگیلا جیسے حکمرانوں کے ساتھ لیا جائے گا۔


