چینی صدر کا دورہ یورپ
صدر شی جنپنگ نے یورپ کا ایک سرکاری دورہ کیا ہے جو پچھلے کئی سال میں پہلا ایسا دورہ تھا اس دوران انہوں فرانس، سربیا اور ہنگری کا دورہ کیا۔ صدر شی اپنی اہلیہ اور بڑے وفد کے ہمراہ اپنے دورے کے آغاز میں فرانس پہنچے جہاں فرانسیسی صدر ایمونیول میکرون نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی اور عسکری پریڈ کا معائنہ کیا۔ صدارتی محل میں ان کے صدر میکرون سے طویل گفتگو ہوئی جس میں باہمی تجارت کے حوالے سے یورپی یونین کی صدر ارسلا وانڈر لیآین نے بھی شمولیت اختیار کی البتہ جرمن چانسلر اولف شولز کی کمی محسوس کی گئی۔
یہ دورہ چینی نقطہ نظر سے تو انتہائی کامیاب دورہ تھا اب دیکھنا یہ ہے کہ یورپ یا یورپی یونین کے نقطۂ نظر سے یہ کس قدر کامیاب تھا۔ اس کا جواب اتنا آسان نہیں۔ یورپ میں اس حوالے سے کئی تضادات ہیں جو سیکورٹی، تجارت اور عالمی معاملات کے حوالے سے بے چینی کا باعث ہیں۔ تجارتی معاملات بھی سیاست سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ارسلا وانڈر لیآین نے اس ملاقات سے قبل ایک پریس کانفرنس کی اور اپنے شدید خدشات کا اظہار کیا کہ چین جس رفتار سے صنعتی و کاروباری کر رہا ہے تو یہ یورپی صنعتی ترقی اور کاروبار کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ صدر میکرون نے اسی چیز کو مدنظر رکھ کر زور ڈالا کہ چین اور یورپی یونین میں تجارتی تعلقات قائم کرتے ہوئے باہمی توازن رکھا جائے جس سے یورپی صنعت بھی کام کے قابل ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ باہمی تجارت کا عدم توازن ختم کرنا لازم ہے۔ لہذا ضرورت ہے کہ چین بھی اپنی مارکیٹ یورپی مصنوعات کے لئے کھولے۔
چین جس رفتار سے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی پیداوار کر رہا ہے وہ بھی خاصی بے چینی کا سبب ہے۔ فرانس کی ایک خاص شراب کانک ہے جس کی فروخت سے اچھا خاصا پیسہ بنتا ہے چین اس کی خرید و فروخت میں ہونے والی بعض بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنا چاہتا ہے اور میکرون کی خواہش تھی کہ ایسا نہ کیا جائے۔ جس طرح باہمی تجارتی مفادات کی کھینچا تانی ہوتی ہے اسی طرح چین کو بھی یورپی منڈیوں کی ضرورت ہے۔ اب سیاسی و عالمی امور کے حوالے سے بھی جو یورپی ذہن سازی تھی اس کا اظہار بھی وہ کھل کے اس طرح تو نہیں کر سکتے تھے جیسا وہ چاہتے ہیں کہ چین روس کا یوکرائن کی جنگ میں ساتھ چھوڑ دے۔
فرانس اور سربیا کے دورے کے بعد صدر شی جنپنگ بوڈاپسٹ پہنچے جہاں صدر کا استقبال وزیراعظم وکٹر اوربن نے کیا۔ بنیادی طور پہ چین کو آزادی کے بعد سب سے پہلے تسلیم کرنے والا ملک بھی ہنگری ہی تھا جو باہمی خوشگوار تعلقات کی تجدید کے لئے تھا۔ یہ پچھتر سالہ دوستانہ تعلقات کی یاد کروانے کے لئے تھا اور اس کی اہمیت اس بات سے بھی دوچند ہو گئی ہے کہ وہ یہ دورہ جنگ عظیم دوئم کے اختتام والے دن کر رہے تھے جب یورپ کو روس کے ہاتھوں شکست فاش ہوئی تھی۔ چین سب ہے ساتھ باہمی احترام اور باہمی برابری چاہتا ہے وہ ہر ملک کو عزت و تکریم سے ملنا چاہتا ہے جہاں سب کی ترقی و خوشحالی کے اسباب پیدا کیے جائیں۔


