سرکاری اداروں میں منصوبہ بندی اور تربیت کا فقدان


میرے ایک محترم دوست ڈاکٹر مدثر حسین شاہ جو چین سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے سرگودھا یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر کام کر رہے ہیں سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے چین کے نظام حکومت اور چین کی تیز رفتار ترقی میں چھپے ہوئے راز کے بارے میں استفسار کیا تو تو وہ بتانے لگے کہ چینی انتظامیہ حکومتی امور میں اپنے شہریوں کی رائے کا بہت احترام کرتی ہے۔ چینی قیادت اپنے شہریوں پر حکومت نہیں کرتی بلکہ شہریوں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے صحیح معنوں میں ان کی خدمت کرتی ہے۔

اسی طرح چین کی درسگاہیں تربیت کا بہترین مرکز ہیں۔ تمام تعلیمی ادارے چین کی پالیسی سازی میں تھنک ٹینک کا کردار ادا کرتے ہیں۔ قوم کی تربیت کے ساتھ ساتھ چین کی حکومت سرکاری حکام کی بھی بہت زبردست تربیت کا اہتمام کرتی ہے اور انھوں نے ایک ایسا انسٹیٹیوٹ قائم کر رکھا ہے جہاں وزیروں، مشیروں اور چین کی نئی قیادت کی تربیت کی جاتی ہے۔ تربیت کے حوالے سے ایک چینی حکایت ہے کہ اگر آپ سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہیں تو مکئی اگائیں، اگر دس سال کی منصوبہ بندی مقصود ہو تو پھر درخت لگائیں اور اگر صدیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہوں تو پھر لوگوں کی تربیت کریں اور ان کو تعلیم دیں۔

چین کہاں کھڑا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس وقت چین میں پچاس ہزار ملٹی نیشنل کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور چین سرمایہ کاری کے لئے پرکشش ملک سمجھا جاتا ہے کیونکہ وہاں بزنس فرینڈلی پالیسیاں تشکیل دی جاتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں طاقتور باقی لوگوں کو چیونٹیاں سمجھتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے جس طرح بے ڈھنگے انداز میں جگہ جگہ چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ضابطے کی کارروائیوں میں جس طرح مختلف پرائیویٹ اداروں کو ہراساں کر کے سیل کیا جا رہا ہے اگرچہ نیت کے اعتبار سے یہ ایک بہت اچھا حکومتی اقدام ہے اور کئی متعلقہ افسران بھی بہت اچھا کام کر رہے ہیں لیکن یہ سارا معاملہ احسن طریقے سے بھی ہینڈل ہو سکتا تھا۔

ایک سوال اور بھی ہے کہ کیا یہ جز وقتی اقدام ہیں یا متعلقہ اداروں کے پاس کوئی مستقل حل بھی ہے؟ کیونکہ ماضی میں بھی ایسے اقدامات کئیے جاتے رہے ہیں لیکن کچھ عرصہ بعد پھر وہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہوٹلوں میں ناقص غذا بھی بکتی رہتی ہے، عطائی ڈاکٹروں کے کلینک بھی دوبارہ آباد ہو جاتے ہیں اور جعلی ڈرگز کا کاروبار بھی چلنا شروع ہو جاتا ہے۔ تو کیوں نہ جز وقتی دکھاوے کے اقدامات کی بجائے ان سنجیدہ معاملات کا جس کا تعلق شہریوں کی صحت سے ہے، کوئی مستقل حل تلاش کیا جائے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اس سلسلے میں ادارے موجود ہیں جو کئی دہائیوں سے قائم ہیں لیکن کام اسی وقت کرتے ہیں جب وزیر اعلیٰ صاحب اس سلسلے میں خصوصی احکامات صادر کریں۔ کیا وزیر اعلیٰ اتنے فارغ ہیں کہ روز مرہ کے ان چھوٹے چھوٹے امور پر احکامات جاری کریں تو پھر ہی متعلقہ ادارے حرکت میں آئیں گے جب کہ باقی دنوں میں وہ یہ کام تب ہی کرتے ہیں جب کہیں سے ”صدقہ و خیرات“ کا سلسلہ معطل ہو جائے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ بہت ویژنری اور متحرک خاتون ہیں، وہ بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں لیکن ایک اکیلا شخص آخر کس کس محاذ پہ لڑ سکتا ہے اور یہاں یہ رواج چل نکلا ہے کہ جب تک وزیر اعلیٰ ذاتی طور پر کسی مسئلے میں دلچسپی نہ لیں اس وقت تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔

آخر ادارے کس لیے بنائے گئے ہیں؟ صفائی کا کام اگر کرنا ہے تو سب سے پہلے اپنے گھر سے شروعات کرنا ہوں گی کیونکہ ہمارے سرکاری اداروں میں اکثر اہلکار اور افسر اپنے پیشہ وارانہ سرکاری فرائض کو انجام دینے کی بجائے ”دلالی“ کے کام میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھیں پیشہ وارانہ سرکاری امور کو انجام دینے سے زیادہ اپنے اور اپنے افسران کے لئے مال کمانے سے غرض ہوتی ہے اور سرخ فیتہ کا نظام انھیں مال بنانے کے وافر مواقع فراہم کرتا ہے۔

پیسہ نہ لگاؤ تو فائل پہ اعتراض ہی اعتراض اور پیسہ لگا دو تو یہ اہلکار سارے اعتراضات خود ہی دور کر کے فائل کو پہیے لگا دیتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں کے تمام شعبہ جات کو سرکاری اداروں کے متعلقہ شعبہ جات سے منسلک کر دیں اور ان سے تحقیق اور پالیسی میکنگ کا کام لیں اور ہر شعبے کے لئے باقاعدہ تھنک ٹینک بنائے جائیں جو تحقیق کر کے پالیسی اور اقدامات تجویز کریں اور فیلڈ افسران انھیں نافذ کریں۔

اس سے ایک تو ہمارے طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں تعمیری ہو جائیں گی دوسرا خدمات فراہم کرنے والے ہمارے سرکاری اداروں کی کار کردگی بہتر ہو گی اور افسران پر بھی کام کا دباؤ کم ہو گا۔ یہی طریقہ مہذب ملکوں میں رائج ہے لیکن شاہی اختیارات کی لت میں مبتلا ہماری سیاسی اور افسر شاہی اشرافیہ اس تجویز کو قبول عام نہیں بخشے گی اور روایتی ڈگر پر چلتی رہے گی۔ ہم نے کلی طور پر پالیسی میکنگ کا کام افسر شاہی پر چھوڑا ہوا ہے وہ افسر شاہی جن کی اکثریت مقابلے کا امتحان پاس کرنے بعد اپنے آپ کو عالم فاضل اور خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے کسی بھی طرح کے مزید مطالعے کو اپنے اوپر حرام سمجھتی ہے۔

سوائے کچھ دورانیے کا تربیتی کورس پڑھنے کے کہ اس کے بغیر ترقی نہیں ملتی۔ سو وہ لوگوں کی بدلتی ہوئی سوچ اور زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کا اندازہ کئیے بغیر محض اپنے خیالی پلاؤ اور ذاتی مفاد کو سامنے رکھ کر پالیسی سازی کا کام کرتے ہیں اور بعض اوقات بڑی چالاکی سے اپنے سیاسی آقاؤں سے بھی ہاتھ کر جاتے ہیں۔ میرے گھر کے قریب رہنے والے ایک پٹواری سے بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ اس کے ذمہ آج کل دکانیں، ہوٹل، ڈرگ سٹور اور عطائی کلینک سیل کرنے کا اضافی کام لگایا ہوا ہے جبکہ بقول اس کے وہ اس سلسلے میں کوئی پیشہ وارانہ معلومات یا مہارت نہیں رکھتا اور محض میٹرک پاس ہے۔

یہ کیا طریقہ ہے کہ کسی جگہ چھاپا مارا اور خود ہی منصف اور خود ہی قانون بن کر چھاپے کی تصویریں باقاعدہ فیصلہ آنے سے پہلے فوراً انٹرنیٹ پر جاری کر دی جاتی ہیں اور موقف بھی نہیں لیا جاتا۔ یوں جو کاروبار کسی نے عشروں میں کھڑا کیا ہوتا ہے وہ چند لمحوں میں تباہ و برباد کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ فوڈ اتھارٹی کے بعض ممبران کے بقول حتمی فیصلے سے پہلے کوئی چیز منظر عام پر نہیں لائی جا سکتی۔ اس سے ذاتی عناد ظاہر ہوتا ہے۔

جرم ثابت ہونے سے پہلے کسی کو بطور مجرم پیش نہیں کیا جاسکتا اور اگر جرم ثابت ہو جائے تو نہ صرف متعلقہ مواد نیٹ پہ جاری کیا جانا درست ہے بلکہ متعلقہ کاروبار کرنے والے شخص کو قانون کے مطابق سزا دینا بھی انصاف کے عین مطابق ٹھہرتا ہے۔ قانون کے مطابق قواعد اور قوانین میں اضافہ ترمیم یا تخفیف متعلقہ شعبہ کی کاروباری تنظیم کی مشاورت کے بعد فائنل ہونے چاہئیں مگر شنید ہے کہ انھوں نے انٹرنیٹ سے کاپی کر کے رولز نافذ کر رکھے ہیں جو یورپ اور امریکہ کے حالات کے مطابق ہیں۔

یورپ اور امریکہ پیک چیزوں کو چھوڑ کر تازہ، آرگینک اور فریش پراڈکٹس کی طرف آ رہے ہیں۔ وہ جن کو چھوڑ رہے ہیں ہم انھیں اپنا رہے ہیں۔ پھر کیا ہمارے بزنس مین کو یورپ اور امریکہ والی تمام سہولتیں میسر ہیں۔ گیس نہ بجلی۔ بجلی نہیں ہو گی تو فریزر گندے تو ہوں گے۔ ایل پی جی گیس برتن بھی کالے کرے گی۔ جب کسی ہوٹل کو سیل کیا جاتا ہے تو اس کے اندر دستاویزات دیگر کھانا سب کچھ ساتھ ہی سیل کر دیا جاتا ہے۔ مارکیٹوں میں سرمایہ پھنسا ہوتا ہے۔

لوگوں کو ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں۔ کاغذات پھنس جانے سے سارا عمل رک جاتا ہے۔ صرف اپنی پھرتیاں دکھانے کے لئے آپ انصاف کے تقاضوں کا قتل عام نہیں کر سکتے۔ قانون میں مینٹیننس اور نوٹس کے واضح احکامات درج ہیں۔ اس کا استعمال کم از کم تین دفعہ ہونا چاہیے۔ محکمہ فوڈ کے ملازمین اسے کبھی استعمال نہیں کرتے اور فوری سیل کر دیتے ہیں۔ سیکشن 39 کے تحت تیس دن سے زیادہ لائسنس معطل نہیں کیا جاسکتا مگر یہ مہینوں دکانیں سیل رکھتے ہیں۔

50 فوڈ آئٹمز میں سے اگر ایک آئٹم میں کوئی مسئلہ ہے تو رزلٹ آنے تک چیز کو اسی جگہ سیز کرنے کا آپشن قانون میں موجود ہے نہ کہ پوری دکان، گودام یا بلڈنگ ہی سیل کر دی جائے۔ اور وہ بھی سیمپل کا رزلٹ آنے سے پہلے۔ درج ذیل اقدامات خود اتھارٹی کے امیج اور دائرہ کار کو بہتر بنانے مین معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں کو پبلک اور خاص کر فوڈ آپریٹرز کے ساتھ صلح جو اور گائیڈنس پر مبنی رویہ رکھنا چاہیے۔

ایک دوسرے کی بات سننی او سمجھنی چاہیے یا کسی اپیلٹ اتھارٹی سے تحریری اجازت لینی چاہیے۔ فوڈ آپریٹرز کو مینٹیننس نو ٹس کے ذریعے گائیڈ کرنا اور ذمہ داری کا احساس دلانا چاہیے۔ پھر کارو بار کا لیول دیکھ کر مناسب جرمانہ ہونا چاہیے۔ سیل کرنے کا فیصلہ کسی سینئر افسر کی تحریری اجازت سے ہونا چاہیے کیونکہ لوگ دکان یا فیکٹری بند نہیں کر سکتے۔ فوڈ آپریٹرز کی ماہانہ ورکشاپس، پرنٹ، الیکٹرانکس وسوشل میڈیا کے ذریعے پبلک کے شعور اور فوڈ کے بارے علم میں اضافہ بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔

اتھارٹی کا مقصد بھلائی یا راہنمائی ہونا چاہیے کیونکہ فوڈ آپریٹرز اور صارفین کا فوڈ بارے علم بہت محدود ہے۔ اگر کسی فوڈ بزنس لائن کے طریقے کار میں بڑی تبدیلی درکار ہو تو گورنمنٹ سے اس کیٹیگری کو فنانشل اسسٹنس مہیا کرنے کی بھی سفارش ہونی چاہیے۔ ملٹی نیشنل یا بڑے اداروں کے ساتھ سمال اور لوکل انڈسٹری کو بھی پنپنے کا موقع ملنا چاہیے جس سے قیمتوں میں کمی اور مسابقت کو فروغ ملتا ہے۔ خوراک کی پیداوار میں کمی اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے مسائل کے ہوتے ہوئے کاسٹ /پرائس کے کنٹرول پر بھی توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔

یہ نہ ہو کہ سٹینڈرڈ بڑھانے کے چکر میں خوراک آدمی کی پہنچ سے بھی دور ہو جائے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کے اختیارات بھی فوڈ اتھارٹی کو تفویض ہونے چاہئیں تاکہ دونوں مقاصد ساتھ ساتھ ہوں۔ کیا زیادہ بہتر نہ ہوتا کہ حکومت کی طرف سے نیک نیتی سے شروع کیا گیا یہ آپریشن متعلقہ کاروباری اداروں کو اعتماد میں لے کر شروع کیا جاتا۔ ان کے ساتھ ایک میٹنگ کی جاتی اور واضح ایس او پیز (SOPs) جاری کئیے جاتے اور اس کے بعد بھی اگر کوئی پرانی ڈگر پہ چلتا تو اس کے خلاف سخت اقدامات کئیے جاتے۔

بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور آبادی کے پس منظر میں ہمیں کاروبار کو فروغ دینے کے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس کے لئے ہمیں پاکستان کو بزنس کے لئے ایک آئیڈیل ملک بنانا ہو گا۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ مہنگی بجلی، سرکاری اداروں کی نا اہلی، چھوٹے کاروباری لوگوں کو بڑے کاروباری لوگوں کی طرف سے عدم تحفظ کے باعث کاروباری سرگرمیاں سکڑ رہی ہیں اور لوگ سرمایہ کاری کی بجائے رشوت دے کر نوکری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں ایسی منصوبہ بندی کرنی چاہیے جس سے توازن برقرار رہے اور اس کے لئے ہمیں اپنے متعلقہ اداروں کے افسران، کاروباری حضرات اور شہریوں کو بھی تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے جس کا فقدان ہمیں اپنی پوری سوسائٹی میں دکھائی دیتا ہے۔ ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھی دوستی کا دعویٰ ہے تو اپنے آئرن برادر چین سے کم از کم منصوبہ بندی اور تربیت کے ہی کچھ سبق لے لیں

Facebook Comments HS