یونیورسٹیوں کی موجودہ بدحالی کے داخلی محرکات


پاکستان میں اس وقت اعلیٰ تعلیم انتہائی زبوں حال ہے۔ اس بدترین صورتحال کی بہت ساری بیرونی وجوہات بھی ہیں جیسے وقت کے ساتھ حکومتی فنڈنگ میں مسلسل کمی، سیاسی مداخلت، بغیر سکول میپنگ اور ضرورت کے سیاسی بنیادوں پر نئی یونیورسٹیوں کا قیام، یونیورسٹیوں میں سیاسی بنیادوں اور رشوت دے کر نا اہل وائس چانسلروں کا تقرر، اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں میں اختیارات اور یونیورسٹیوں پر بالادستی کے لیے رسہ کشی اور یونیورسٹیوں کو فنڈنگ میں بے اعتنائی، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد میں گروپنگ، اور شخصی اختیار و حیثیت کی مسلسل جنگ، ڈاکٹر عطا الرحمن کی ناقص پالیسیاں اور منصوبے، یونیورسٹیوں کے لیے مختص فنڈنگ پر ایچ ای سی کے اپنے ناقابل فہم منصوبے جن کا انجام اربوں روپوں کے زیاں کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

یونیورسٹی اساتذہ کے لیے دو طبقاتی نظام کے اجرا کی اغراض ڈھونڈی جائیں تو درجن بھر خارجی وجوہات مل جائیں گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف خارجی عوامل کی وجہ سے ہی یونیورسٹیاں اس حالت کو پہنچی ہیں۔ داخلی محرکات کا یونیورسٹیوں کی تباہی میں بھی برابر کا ہاتھ ہے۔ دنیا بھر میں یونیورسٹیاں وقت کے ساتھ اپنی سوچ اور اپروچ میں تبدیلی لاتی ہیں۔ لیکن پاکستانی یونیورسٹیاں اس سلسلے میں بدترین جمود کا شکار ہیں۔

کسی بھی یونیورسٹی میں کسی نئے تجربہ کو فروغ دینا ممکن ہی نہیں۔ اس کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کے سینئر اساتذہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ چونکہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو اپڈیٹ نہیں کرتے اور نہ ہی زندگی بھر کوئی ریفریشر کورس کرتے ہیں۔ پڑھانے کے موثر ذرائع کے استعمال سے نہ واقف ہوتے ہیں۔ خاص کر ٹیکنالوجی سے وابستہ مضامین میں جہاں روز چیزیں تبدیل ہو رہی ہیں۔ سینئر اساتذہ کو یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر جدید تقاضوں کے تحت جدید پیش رفتوں کو اگر کورس میں شامل کیا گیا یا پڑھانا شروع کر دیا گیا تو ان کی ضرورت اور اہمیت ختم ہو جائے گی۔

اس لیے وہ اس کی شدت سے مخالفت کرتے ہیں چونکہ نصاب اور کورسز میں تبدیلی کا اختیار ان کے پاس ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اس عمل کو اپنے اختیار اور دھونس کے ذریعہ مسلسل روکتے رہتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیوں میں پڑھائے جانے والے مضامین اور ان سے متعلقہ کورسز، تھیوریز، کتابیں اور مشقیں اب پوری دنیا میں متروک ہو چکی ہیں۔ دنیا ان مضامین میں بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ اب کمپیوٹر سائنس کو لے لیں جو اب دنیا میں چالیس سے زیادہ ذیلی شاخوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اور اس میں اتنی وسعت اور تبدیلی آ گئی ہے کہ آج سے دس برس پہلے کے تمام نصابات اور سلسلے اب کسی کام کے نہیں ہیں۔ یہی حال انجینئرنگ، زراعت، میڈیکل، منیجمنٹ اور ہزاروں دیگر شعبوں کا ہے جہاں قدیم روایتی طریقہ کار کی جگہ جدید ٹیکنالوجی، سافٹ ویئرز اور طریقوں نے لے لی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں اب بھی وہی پرانے قصے اور تجربے ہیں جن کو اب دنیا نہیں مانتی۔ ہم جو بزنس مینجمنٹ پڑھاتے ہیں وہ اب دنیا میں کہیں نہیں ہے۔

اب دنیا بزنس میں ای ٹیکنالوجی پر منتقل ہو چکی ہے۔ لیکن ہمارا ایم بی اے کیا ہوا بندہ اپنے نصاب میں ٹیکنالوجی، ای ٹیکنالوجی اور اے آئی ٹیکنالوجی کا نام تک نہیں سنتا، کامرس کے جو چیزیں ہماری ہاں پڑھائی جاتی ہیں۔ اب اس لیے کسی کام کی نہیں ہیں کہ تیار سافٹ ویئرز وہ کام جو کامرس پڑھا ہوا شخص برسوں میں کرتا تھا وہ لمحوں میں کر دیتا ہے۔ اس لیے اب یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والوں کو عالمی مارکیٹ میں ملازمت نہیں مل رہی۔

چونکہ یونیورسٹی تعلیم مارکیٹ سے وابستہ ہوتی ہے اس لیے مارکیٹ کے تقاضوں کا خیال نہ رکھنے والے اقوام اب ترقی کی دوڑ میں پیچھے جا رہی ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں بنگلہ دیش نے اپنی یونیورسٹیوں کو مستقبل کے لیے تیار کیا اور آج ان کی یونیورسٹیوں کی تعلیم اور ہمارے تعلیم میں زمین آسمان کا فرق آ گیا ہے۔ صرف ڈھاکہ یونیورسٹی کا بجٹ پاکستان کی کل وفاقی تعلیمی بجٹ سے دوگنا زیادہ ہے۔ جبکہ ڈھاکہ یونیورسٹی کے پاس اس وقت چار ارب ڈالرز سے زیادہ کے انڈؤمنٹ فنڈز ہیں۔ یہ سب اس وجہ سے ممکن ہوا کہ وہ اپنے نصابات اور اساتذہ کو مستقبل کے لیے تیار کرچکے تھے۔ پاکستان بھر کی انجینئرنگ یونیورسٹیاں اپنی گاڑیاں، پانی کے موٹر، بجلی کی مرمت غرض ہر تکنیکی کام بازار میں موجود میٹرک فیل کاریگروں سے کرواتے ہیں۔ کسی دن کسی انجینئرنگ یونیورسٹی میں جاکر دیکھیں ان کی عمارتیں ان کی تعلیم اور ٹیکنالوجی کا پول کھول دیں گی۔ کسی زرعی یونیورسٹی میں جائیں اور پھر کسی پرائیویٹ نرسری چلے جائیں جہاں آن پڑھ مالی دھاڑی لے کر ان یونیورسٹیوں سے بہتر کام کرتا ہے۔

یونیورسٹیوں میں موجود کمپیوٹر سائنس کے شعبہ جات جاکر دیکھ لیں وہاں سے زیادہ کمپیوٹر ٹیکنالوجی پنڈی کے راجہ بازار میں بیٹھا ایک میٹرک پاس کمپیوٹر کا کام کرنے والا جانتا ہے اور وہ عملی طور پر وہ سب کچھ کر کے دیکھا سکتا ہے۔ مگر یونیورسٹی میں ڈگری لینا والا کوئی طالب علم بہتیری صورتوں میں اساتذہ بھی کسی عملی کام کی تربیت اور صلاحیت نہیں رکھتے۔ یونیورسٹیوں میں الیکٹرانکس کے شعبہ جات ہیں۔ جہاں سے چار برس پڑھنے والا بچہ گھر میں استری، فریج یا پھر اپنا خراب کیلکولیٹر ٹھیک نہیں کر سکتا۔

ہمارے ہاں جو کیمسٹری، باٹنی، زوالوجی وغیرہ پڑھائی جا رہی ہیں وہ دنیا نے ترک کر دی ہیں اور ان مضامین کو ہزاروں ذیلی مضامین میں نئی جدت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے جن کو پڑھنے کے بعد بچے کسی بھی انڈسٹری میں اس سے متعلقہ شعبہ میں جاکر فوراً کام شروع کر دیتے ہیں۔ ہر یونیورسٹی میں ماحولیات کے شعبہ جات ہیں مگر ان شعبہ جات کا عملاً کوئی فائدہ نہیں۔ اس لیے کہ ان شعبہ جات سے فارغ ہونے والے بچوں کو ماحولیات کے نام پر جو پڑھایا جاتا ہے وہ سب تھیوریٹکل قصے ہیں۔

یہی حال بائیو ٹیکنالوجی کا ہے۔ اب پاکستان میں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل لوگوں کی تعداد کروڑوں میں جا چکی ہے لیکن وہ اس علم کی بنیاد پر کوئی کام کرنے سے قاصر ہیں اور دنیا میں یہ لوگ جہاں جاتے ہیں وہاں ان کی عملی تربیت اور جدید ترین علوم و ٹیکنالوجی سے عدم واقفیت کی بنا پر ان کو کام نہیں ملتا جس کی وجہ سے پاکستانی بیرون ملک صرف صفائی ستھرائی اور اس نوع کے دوسرے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ دس برسوں میں کسی بھی یونیورسٹی نے ریسرچ کے لیے کوئی فنڈ ہی مختص نہیں کیا۔

یونیورسٹیوں نے اپنے غیر تحقیقی اخراجات اتنے بڑھا لیے ہیں کہ ان کے پاس تحقیق کے لیے کوئی فنڈ بچتا ہی نہیں ہے۔ اور چونکہ ان کی تعلیم اور تحقیق کا معیار نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بڑی فنڈنگ ایجنسی یا کمرشل ادارے یا انڈسٹری ان کو فنڈ کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ جس کی وجہ سے یونیورسٹیاں مالی مدد کے لیے طلبا کی فیسوں اور حکومتی گرانٹس کے انتظار میں رہتی ہیں۔ جبکہ انڈیا، بنگلہ دیش، جنوبی کوریا، چین، سنگاپور وغیرہ میں یونیورسٹیاں مارکیٹ اور انڈسٹری سے روابط پیدا کر کے حکومتی گرانٹس سے سو گنا زیادہ مالی وسائل پیدا کرتے ہیں۔

دنیا میں جو بھی یونیورسٹی جس مقصد کے لیے بنائی جاتی ہے وہ صرف اپنے حدود کار میں رہ کر کام کرتی ہے۔ پاکستان میں زرعی یونیورسٹیاں اپنے کام کو چھوڑ کر جنرل یونیورسٹیوں کے مضامین پڑھا رہے ہیں۔ سوشیالوجی، اسلامیات، انگریزی، بزنس منیجمنٹ، کمپیوٹر سائنس، اکنامکس، شماریات، پاکستان سٹڈی، ایجوکیشن، کمیونیکشن، ڈیویلپمنٹ سٹڈیز یہ فہرست بہت طویل ہے اب کوئی بھی ان زرعی یونیورسٹیوں سے یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کا کام اور مقصد کیا تھا اور آپ کیا کر رہے ہیں۔

ان شعبہ جات میں سینکڑوں کی تعداد میں عملہ بھرتی کر کے پھر یہ یونیورسٹیاں ہر مہینے احتجاج کرتی ہیں کہ ہمارے پاس تنخواہ کے پیسے نہیں ہیں۔ انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں بھی یہی حال ہے۔ پاکستان میں منیجمنٹ کے لیے الگ ادارے بنائے گئے وہاں جاکر دیکھ لیں وہ انگریزی، سائیکالوجی، جرنلزم، پولیٹکل سائنس، ڈیٹا سائنس، سوشل سائنس، اکنامکس، سافٹ وئیر انجینئرنگ اور پتہ نہیں کیا کیا پڑھا رہے ہوتے ہیں۔ جب طالب علم ان یونیورسٹیوں سے ڈگری لے کر دنیا کے کسی بھی حصہ میں جائے گا تو کیا وہ سوال نہیں کریں گے کہ زرعی یونیورسٹی سے اسلامیات کی ڈگری کیسے مل گئی، یا منیجمنٹ یونیورسٹی سے انگریزی اور سائیکالوجی کی ڈگری کس طرح حاصل کی۔

یا پھر انجینئرنگ یونیورسٹی سے جنرل میتھ میں ڈگری کس طرح مل گئی۔ اپنا کام چھوڑ کر ان یونیورسٹیوں میں متعلقہ مضامین کے شعبہ کھول کر جو اس ملک کی یونیورسٹیوں میں اقربا پروری کی گئی ہے اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں مل سکتی۔ نئی یونیورسٹیوں میں اتنی بھرتیاں کی گئی ہیں کہ ان سے نصف کم لوگوں سے نیدرلینڈ اور نیوزی لینڈ پورا ملک چلا لیتے ہیں۔ پھر یونیورسٹی میں اساتذہ ہوں یا انتظامی پوسٹ پہلی ترجیح اپنا خاندان، قبیلہ، مسلک، شاگرد، (منظور نظر) یا پھر کسی سیاسی گروپ کی آشیر باد والے بندے کو دی گئی یوں گزشتہ ایک دو دہائیوں میں پورے پاکستان کی یونیورسٹیاں ان افراد سے بھر گئیں۔

یہ لوگ اہل نہیں تھے۔ جس کام کے لیے ان کو نوکری دی گئی تھی وہ اس کی مہارت نہیں رکھتے تھے، تو لازمی امر ہے وہ بہتری کیسے لا سکتے تھے۔ چند برسوں میں یہی لوگ فیصلہ سازی کے سرکل میں شامل ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ اپنے پیش روں سے بڑھ کر اس عمل کو جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں۔ یوں یونیورسٹیوں جیسے اداروں میں جہاں دنیا بھر میں صرف اعلیٰ ترین صلاحیتوں اور مہارتیں رکھنا والا بندہ ہی کام کر سکتا ہے وہاں بیٹا، بیٹی، داماد، رشتہ دار، شاگرد، محبوبہ، یا کسی کا سفارشی بھرتی ہو گیا۔

ان لوگوں کی موجودگی میں کیا یہ ادارے ترقی کر سکتے ہیں۔ پھر یونیورسٹیوں میں اساتذہ کو جاکر دیکھ لیں وہاں ایک طبقہ پڑھانے سے زیادہ تبلیغ میں مصروف نظر آتا ہے۔ تبلیغ ایک نہایت اچھا کام ہے مگر نوکری استاد کو اپنے مضمون پڑھانے کے لیے دی گئی تھی۔ دوسرا طبقہ ہے جو پیری مریدی کا شکار ہے، کسی ایک پیر کی بیعت کرلو اور بس پھر یونیورسٹی اور تعلیم ایک طرف سارا دن اسی میں مصروف رہو، ایک طبقہ ہے جس نے پراپرٹی بزنس میں اپنی ساری صلاحیتیں صرف کرنا شروع کر دیں دیکھتے ہی دیکھتے پورے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں لوگ اپنے کام کو ترجیحات میں سے نکال کر پراپرٹی کا کاروبار کرنے لگے۔

ایک طبقہ ہے جو ٹیوشن اور کوچنگ میں مصروف نظر آتا ہے حالانکہ اس کا کام یہ ہے ہی نہیں۔ پھر ایک طبقہ ہے جس نے سیاست کو کلی وقتی طور پر اپنا پیشہ بنا لیا ہے جو ہر وقت یونین سازی، جلسے جلوس، جوڑ توڑ اور اس طرح کی دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، ان لوگوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اس لیے کہ اس طرح یہ باآسانی آؤٹ اف دی ٹرن ترقیاں کرلیتے ہیں۔ اپنے مطالبات منوا سکتے ہیں اور مراعات بھی حاصل کرتے ہیں۔

پھر کچھ سیاسی جماعتوں نے اپنے عہد حکومت میں اپنے اپنے ورکر یونیورسٹیوں میں بھرتی کیے۔ یہ سیاسی ورکر نہ ان یونیورسٹیوں میں خود کام کرتے ہیں نہ کسی کو کام کرنے دیتے ہیں۔ ہر حکومت اپنے سیاسی من پسند وائس چانسلر تعینات کرنے کی تگ و دو کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے وائس چانسلر کی پہلی ترجیح سیاسی لوگوں اور بیوروکریسی کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کی تعلیمی، انتظامی اور تحقیقی ترقی کسی بھی وائس چانسلر کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہوتی۔

پھر کمال دیکھیں کہ ہر یونیورسٹی نے لڑکیوں کے لیے الگ سکول اور لڑکوں کے لیے الگ سکول، لڑکوں کے لیے الگ کالج اور لڑکیوں کے لیے الگ کالج کھولے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں کام یونیورسٹیوں کے نہیں ہیں۔ ان سکولوں اور کالجوں پر سالانہ اربوں کا خرچ ہوتا ہے جو یونیورسٹی کے بجٹ سے کیا جاتا ہے۔ یہ سکول اور کالجز اپنے من پسند اور سفارشی لوگوں کو بھرتی کرنے کا سب سے آسان ذریعہ ہیں۔ ان سکولوں اور کالجوں میں یونیورسٹی کے اساتذہ اپنے بچوں کو اس لیے نہیں پڑھاتے اور ان کو مہنگے پرائیویٹ سکولوں میں بھیجتے ہیں کہ ان میں تعلیمی معیار انتہائی خراب ہے۔

آج تک کسی حکومت یا ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کسی بھی یونیورسٹی سے نہیں پوچھا کہ سکول اور کالجز چلانا آپ کا کام نہیں آپ ان پر اربوں کے خرچے کیسے کر رہے ہیں۔ ان میں آپ نے ہزاروں ملازمین کیسے بھرتی کیے ہوئے ہیں ان لوگوں کی تنخواہ اور پھر پینشن کی مد میں جو رقم ضائع ہوتی ہے اس کو اگر ریسرچ میں لگایا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ ایک ہی کیمپس پر ایک جیسی کئی یونیورسٹیاں بنانے کی کون سی تک بنتی ہے۔ اس سے صرف انتظامی اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔

جن علاقوں میں سکول تک نہیں ہیں وہاں یونیورسٹیاں بنانے کا مشورہ کون دیتا ہے۔ اس لیے لازمی ہے کہ یونیورسٹیوں کے موجود نظام کی مکمل ری سٹرکچرنگ ہو۔ داخلی محرکات جو بیان کردہ محرکات کے علاوہ بھی بہت سارے ہیں ان کو درست کر دیا جائے تو شاید یہ یونیورسٹیاں اپنا وجود برقرار رکھ سکیں گی اور پھر خارجی محرکات کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان یونیورسٹیوں کی قیمتی ترین کمرشل زمینوں پر لوگ نظریں جمائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ اور ہمارے تین طاقتور مل کر ان کو کسی عربی شیخ کو اپنا حصہ لے کر اونے پونے پی ٹی سی ایل کی طرح بیچ دیں گے اور وہ ان پر پلازے بنا کر پیسے کمائیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments