مشتاق احمد گرمانی سائنس کالج کے طلبہ کے نام!

انٹرمیڈیٹ سال دوم کے انگریزی نصاب میں شامل ناول ”گڈ بائے مسٹر چپس“ کا ایک منظر آنکھوں کے سامنے گردش کر رہا ہے کہ جب بستر مرگ پر نیم خوابی کے عالم میں چپس کا ذہن اپنے طلبہ کے ناموں اور ان ناموں سے منسلک یادوں کی کیفیت میں مستغرق ہوتا ہے۔ ایسی قلبی و روحانی وابستگی کلاس روم کے رسمی تعلق کے اختتام پر شاید ہر استاد کے حصے میں آتی ہے۔ بارہویں جماعت میں یہ ناول پڑھاتے ہوئے، بلکہ ناول کے مرکزی کردار ”مسٹر چپس“ کو نبھانے کی حتی الوسع کوشش کرتے ہوئے یہ احساس ہمیشہ غالب رہا کہ یہ طلبہ تھوڑی ہی مدت میں ہمارے کالج سے رخصت ہونے والے ہیں۔ بحیثیت معلم یہ میری زندگی کا پہلا بیچ تھا۔ زمانے کی باگ ہمارے ہاتھ میں نہیں آ سکتی۔ کل ہی کی بات معلوم پڑتی ہے کہ جب ہم نے ناول کے پس منظر میں ایک معلم کے اپنے طلبہ کے لئے محبت و شفقت کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کی تھی، وہ وقت گزر گیا۔
ہم نے تمھیں الوداع کہا۔ الوداعی تقریب کے دوران میں، شاید تم سے زیادہ دکھی تمھارے تمام اساتذہ تھے۔ اب کہ تم اپنے امتحانات سے فراغت پا چکے ہو تو میں چشم تصور سے تمھیں اپنے مستقبل کی فکر میں غلطاں و پیچاں دیکھتا ہوں۔ ایسے میں چند باتیں تمھارے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
یاد رکھو کہ تم مستقل ہماری یادوں کا حصہ ہو۔ تمھارے نام، تمھارے چہرے ہمیشہ ہمارے حافظے کا سرمایہ رہیں گے۔ یاد رکھو کہ لاڈ اور شفقت کے ساتھ ہماری ڈانٹ ڈپٹ کا واحد مقصد بھی تمھاری بھلائی اور اصلاح کے سوا کچھ نہ تھا۔
یقیناً یہ سفر زیست کا یہ نازک موڑ ہے اور تمھیں بہتر فیصلے کرنا ہیں۔ ایسے میں تم پر لازم ہے کہ اللہ کی قدرت مطلقہ پر پختہ یقین رکھو کہ وہ تمھاری محنت رائیگاں نہ ہونے دے گا۔ جان لو کہ کامیابی صرف ان کا مقدر بنتی ہے جو مستقل مزاجی اور پختہ عزم کے ساتھ زندگی میں جستجو کو اپنا وتیرہ بناتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
لیس للانسان الا ما سعیٰ۔
”انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔“
بقول مولانا ابوالکلام آزاد:
”زندگی جہد مسلسل کا نام ہے۔“
اس لئے مجھ پر لازم ہے کہ میں تمہیں حقیقت سے روشناس کروں۔ زندگی کسی کے لئے پھولوں کی سیج نہیں۔ آسانیاں ان کے لئے ہیں کہ جو مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا ہنر جانتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
لقد خلقنا الانسان فی کبد
”ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا۔“
ہر مشکل کے بعد آسانی ہے سو گھبراؤ نہیں۔ آنے والا وقت تمہارا ہے۔ تمہارا مستقبل روشن اور تابناک ہے۔ اس راہ میں پیش آنے والی رکاوٹوں اور مشکلات کا ہمت سے سامنا کرو۔ اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے ڈٹ جاؤ کہ تم اپنے بوڑھے باپ کا حوصلہ ہو۔ تمہاری کامیابی تمہاری بوڑھی ماں کی اکلوتی خواہش ہے۔ ان سب کی دعاؤں کا حصار ناکامی کو تمہارے قریب پھٹکنے نہ دے گا۔ ماضی میں ہو چکی کوتاہیوں پر کف افسوس ملنے کے بجائے آئندہ کے لئے محنت کو اپنا شعار بناؤ۔ یاسیت کو اپنے قریب مت پھٹکنے دو۔ ثابت قدم رہو اپنے مقصد کے حصول کے لئے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے الفاظ کو اپنے رگ و ریشے میں سرایت کرنے دو۔ وہ فرماتے ہیں :
”دنیا میں ٹھوکریں انہی کو لگتی ہیں کہ جو چلتے ہیں۔ جو پاؤں توڑ کر بیٹھ جاتے ہیں، انہیں کبھی ٹھوکر نہیں لگتی۔ کانٹے انھی کے تلوؤں میں چبھتے ہیں جو دوڑتے ہیں۔ آج اپنی قسمت کے آپ خود مالک ہیں۔ اور اگر آپ مالک ہیں اور میدان میں کھڑے ہوئے ہیں تو یہ یاد رکھئے کہ طرح طرح کی آزمائشیں پیش آئیں گی۔ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اپنے کو آزمائش میں ڈالے۔ لیکن اگر ہم نے ذمہ داری کا بوجھ اٹھایا ہے تو طرح طرح کی مشکلات پیش آئیں گی۔
اس سے ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے۔ اس سے ہمیں اکتانا نہیں چاہیے۔ مرد بن کر ان تمام ذمہ داریوں کو اٹھانا چاہیے اور ان پریشانیوں کا سامنا کرنا چاہیے۔ اگر ایک زندہ انسان ہے اور اس کی رگوں میں گرم اور زندہ خون دوڑ رہا ہے تب اس کے لئے بیماریاں بھی ہیں، ٹھوکریں بھی ہیں، مصیبتیں بھی ہیں، ہر طرح کی پریشانیاں بھی ہیں۔ تو زندگی کے معنی یہی ہیں کہ ہم بوجھ اٹھائیں۔ اور بوجھ اس طرح نہ اٹھائیں کہ گھبرائے ہوئے اٹھائیں۔ مردوں کی طرح ہمت کے ساتھ اٹھائیں۔“
یہ الفاظ تمہارا حوصلہ بلند رکھیں گے۔ مشکل اور کٹھن وقت میں تمہارے کام آئیں گے۔ زندگی کے ہر موڑ پر ان کو یاد رکھو۔ جب کہیں قدم ڈگمگانے لگیں، تو یاد رکھو تمھیں رکنا نہیں ہے۔ کامیابی ضرور تمھارا مقدر ٹھہرے گی۔
اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔ تمام تر نیک تمنائیں اور دعائیں تمہارے اگلے سفر کے لئے۔

