شہباز حکومت ناکامی کی طرف بڑھ رہی ہے!
آزاد کشمیر میں مہنگائی کے خلاف احتجاج جاری ہے اور آخری اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے آزاد کشمیر حکومت پر زور دیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔ گزشتہ روز احتجاج کے دوران رونما ہونے والے تشدد کے بعد حالات سنگین ہوئے ہیں اور صدر آصف زرداری سمیت تمام اہم لیڈر صورت حال باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
سیاسی و حکومتی زعما کی تمام تر کاوشوں کے باوجود یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کوئی بھی حکومت احتجاج یا عوامی دباؤ کے نتیجے میں کیسے گندم یا پیٹرول جیسی بنیادی ضرورت کی چیزوں کی قیمتیں کم کر سکتی ہے۔ احتجاج منظم کرنے والے اور اس احتجاج کو ختم کروانے کی کوشش کرنے والے اپنی اپنی جگہ پر بے بس ہیں لیکن عوام کی مجبوری و لاچاری کو اشتعال میں تبدیل کر کے ضرور کچھ عناصر سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ اس موقع پر حکومت کے لیے صبر و تحمل سے کام لینا ضروری ہے تاکہ حالات قابو سے باہر نہ ہوں۔
دیکھنا ہو گا کہ مظفرآباد پہنچنے والے احتجاجی قافلے دارالحکومت میں جمع ہو کر کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور ان کی قیادت کیسے انہیں پر امن طور سے منتشر ہونے پر آمادہ کرتی ہے۔ البتہ آزاد کشمیر کے علاوہ پاکستان کے تمام صوبائی اور مرکزی حکومتوں کو اس بات کا احساس کرنا ہو گا کہ عوام موجودہ نظام حکومت سے مطمئن نہیں ہیں۔ احتجاج کے لیے آزاد کشمیر کے دارالحکومت پہنچنے والے لوگ بھی درحقیقت حکومتوں کی بے عملی اور عوامی ضرورتوں اور سرکاری ترجیحات میں تفاوت کے سبب پریشان حالی اور بے چینی کی وجہ سے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کو اسے محض آزاد کشمیر تک محدود مسئلہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ریاستی طاقت کو کسی مسئلہ کا حل سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح احتجاج پر آمادہ عناصر کو بھی ذاتی خواہشات کے علاوہ ملک کے وسیع تر مفادات کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ موجودہ حکومت کے حق نمائندگی یا طریقہ کار کے بارے میں اختلافات سے قطع نظر تمام عناصر کو چند بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ ان میں عدم تشدد کا اصول سب سے اہم ہے۔ اگر احتجاج کے نام پر توڑ پھوڑ یا مارپیٹ کے واقعات رونما ہوں گے تو احتجاج کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔
آزاد کشمیر کے علاوہ بلوچستان اور پنجاب میں گندم کی خریداری کے سوال پر کسان سراپا احتجاج ہیں۔ گو کہ کسانوں کے مطالبات آزاد کشمیر میں گندم اور پیٹرول کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کے مقابلے میں معتدل اور ٹھوس ہیں۔ ناکارہ حکومتی پالیسیوں کی سزا ملک کے محنت کشوں کو نہیں ملنی چاہیے۔ گندم کی درآمد کے سلسلہ میں ایک دوسرے پر الزام تراشی سے اناج پیدا کرنے والے اوسط کسان کے کھیت میں پڑی گندم کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ ایسے موقع پر تحقیقات کے نام پر وقت اور صلاحیت ضائع کرنے کی بجائے کسی بھی طرح ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے متاثرہ گروہ کا جائز مطالبہ پورا کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ عملی اقدامات میں تاخیر کی صورت میں حکومت مسائل سے تو نجات حاصل نہیں کر سکتی لیکن اس سے بداعتمادی کی فضا میں اضافہ ہوتا ہے جو موجودہ حالات میں ملکی نظام کے بارے میں مزید تشویش و بے چینی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔
شہباز حکومت تمام تر دعوؤں کے باوجود کوئی ایسے عملی اقدامات کرنے میں ناکام ہے جن سے عوام کو براہ راست امید پیدا ہو۔ ایسے میں اگر وزیر اعظم یا وزیر خزانہ ملکی معیشت کے بارے میں حوصلہ افزا باتیں کریں گے اور یہ بتائیں گے کہ اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہو رہے ہیں اور آئی ایم ایف سے نیا قرضہ ملنے کے امکانات روشن ہیں تو اس سے حکومت اور عوام کا رشتہ مضبوط نہیں ہو سکتا۔ عام لوگ اسی وقت ان مثبت اشاریوں کو بہتری کی علامت سمجھیں گے جب انہیں خود اپنی زندگی میں آسانی کی صورت دکھائی دے گی اور یہ احساس پیدا ہونے لگے گا کہ حکومت عوام کو سہولت دینے کے لے تگ و دو کر رہی ہے۔ ابھی تک انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومتیں ایسا تاثر پیدا کرنے میں ناکام ہیں۔
اس کی بعض بنیادی وجوہات میں انتخابات کے بارے میں شبہات، عدالتوں میں سیاسی مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر، اہم ترین اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے ساتھ دوری اور انتخابات کے بعد بھی ملکی فضا میں احتجاج کی صدائیں شمار کی جا سکتی ہیں۔ اس کشیدہ ماحول کو تبدیل کرنے کی ذمہ داری گو کہ حکومت اور اپوزیشن پر یکساں طور سے عائد ہوتی ہے لیکن ریاستی وسائل چونکہ حکومت کے قبضے میں ہوتے ہیں اور تمام اہم فیصلوں کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے لہذا اسے کشیدگی کم کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ تحریک انصاف تو اپنی سیاسی بقا کے لیے احتجاج کی سیاست کرنے پر ’مجبور‘ ہے لیکن حکومت اگر سرگرمی سے اپوزیشن کی شکایات سننے پر آمادہ ہو، بعض بنیادی مسائل پر سیاسی رعایت دی جائے اور پارلیمنٹ کو مواصلت و مصالحت کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے تو کوئی نہ کوئی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
تحریک انصاف انتخابات میں دھاندلی کا شکوہ کرتی ہے اور اسے یقین ہے کہ وہ اکثریت حاصل کرچکی تھی لیکن اسے حکومت سازی کا موقع نہیں دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) نے اس بنیادی پارلیمانی اصول کو بھی نظر انداز کیا ہے کہ قومی اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی کو حکومت بنانے کا پہلا موقع دیا جائے۔ وہ یہ مقصد حاصل نہ کرسکے تو دیگر پارٹیاں سیاسی و پارلیمانی اتحاد کے ذریعے حکومت قائم کرنے کی کوشش کریں۔ تحریک انصاف کو بہر حال یہ حق نہیں دیا گیا۔ اسی طرح تکنیکی نکات پر تحریک انصاف کی حمایت سے جیتنے والے ارکان کو پارلیمانی گروپ کے طور پر ماننے سے انکار کیا گیا اور الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) میں بانٹ دیں۔
اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور عبوری طور پر مخصوص نشستوں پر نامزد کیے گئے ارکان کی رکنیت معطل کی گئی ہے۔ لیکن حکومت سیاسی زیرکی سے کام لیتی تو اس مسئلہ کو عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سیاسی حل تلاش کیا جاسکتا تھا۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے جو سوال اٹھایا ہے، وہ اس سے پہلے بھی سب کے علم میں تھا کہ انتخابات جیتنے والے ارکان کے حصے کی نشستیں دوسری پارٹیوں کو کیسے دی جا سکتی ہیں؟ کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اضافی نشستوں کا لالچ کرنے کی بجائے اس معاملہ کو حقیقت پسندی سے حل کرنے کے لیے سیاسی اقدام کرتی اور تحریک انصاف کا ان نشستوں پر حق تسلیم کر لیا جاتا۔ اس طرح اپوزیشن کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کا آغاز ہو سکتا تھا اور سپریم کورٹ پر بھی اضافی بوجھ نہ پڑتا۔ لیکن حکومت اس موقع کو استعمال کرنے میں بھی ناکام رہی۔
اسی طرح سانحہ 9 مئی کے حوالے سے فوج اور تحریک انصاف آمنے سامنے ہیں۔ شہباز شریف کی حکومت اگر معاملہ فہمی اور سیاسی چابکدستی سے کام لیتی تو وہ فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتی تھی۔ اس روز رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں ابہام دور کیا جاتا، ملزمان کو قرار واقعی سزائیں دلائی جاتیں اور فوج کو یقین دلایا جاتا کہ اس لاقانونیت کے خلاف کارروائی کرنا حکومت اور عدالتوں کا کام ہے، اس لیے اسے اس موضوع پر اپنی صلاحیت صرف نہیں کرنی چاہیے اور ملکی دفاع کی طرف تمام توجہ مبذول کی جائے۔ اسی طرح تحریک انصاف کو باور کروایا جاتا کہ وہ سیاسی پارٹی کے طور پر اپنی صفوں میں شامل انتہا پسند عناصر سے لاتعلقی اختیار کرے تاکہ ملک کا سیاسی ماحول کشیدہ نہ ہو اور فوج کو سیاسی معاملات میں دخیل ہونے کا موقع نہ ملے۔
لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت اس معاملے میں فوج کی ’بی ٹیم‘ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ شہباز شریف بلند آہنگ الفاظ میں 9 مئی کو توڑ پھوڑ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے دعوے کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ انہیں اس معاملہ میں ذمہ دارانہ اور مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرنا چاہیے تھا۔ صاف ظاہر ہے کہ شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف اور فوج میں اختلاف سے سیاسی فائدہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اس خواہش کی تکمیل میں قومی مفادات کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔
اس کا مظاہرہ سانحہ 9 مئی میں ملوث بعض افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمے چلانے کا متنازعہ فیصلہ کرتے ہوئے بھی کیا گیا۔ حکومت اس طریقے سے تحریک انصاف کو سیاسی طور سے کمزور کرنا چاہتی تھی حالانکہ سیاسی لڑائی سیاسی طریقوں سے ہی لڑی اور جیتی جانی چاہیے۔ شہباز حکومت کے اس فیصلہ یا کمزوری کی وجہ سے یہ معاملہ ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اور اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ حالانکہ شہباز شریف اگر سیاسی ہوشمندی بروئے کار لاتے تو انہیں اس معاملہ میں اپنی حکومت کو فریق بنانے کی بجائے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلہ کو تسلیم کر کے اس تنازعہ کو ختم کرنا چاہیے تھا۔ تاہم وہ یہ مقصد حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔
ملکی سیاست کے یہ تمام پہلو عوام کی پریشانی میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ اسی لیے کبھی کسان احتجاج کرتے ہیں اور کبھی آزاد کشمیر میں لوگ پیٹرول کی قیمتوں کے خلاف سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ اب بھی حکومت اگر ان مسائل کا عبوری حل تلاش کر کے آگے بڑھنا چاہے گی اور ملک میں موجود بے چینی ختم کرنے کے اقدام نہیں ہوں گے تو ایک کے بعد دوسرا مسئلہ شہباز حکومت کے لیے چیلنج بنا رہے گا۔ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے وسیع الظرفی اور معاملہ فہمی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ حکومت ابھی تک اس صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ شہباز شریف کی قیادت میں قائم حکومت پاکستان کو درپیش مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔


