کچرے کا ڈھیر


سوچتا ہوں کس کو سمجھاؤں، ہر ایک سمجھتا ہے، ہر کوئی جانتا ہے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہو، آن پڑھ اور پڑھا لکھا دونوں میرے خیال سے جان بوجھ کر کرتے ہیں۔ اور یہ نہیں سوچتے ہیں کہ اُس کے اس فعل سے اُس کے ساتھ ساتھ دوسروں کو کیا تکلیف ملے گی؟ اور ملک کی کتنی بدنامی ہوگی؟ جب بھی گھر سے باہر کی طرف نکلتا ہوں تو کیا دکھتا ہوں کہ لوگ گھروں کی صفائی کر کے کوڑا کرکٹ گھر سے باہر محلے میں پھینک دیتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس محلے، علاقے اور ملک سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جسم، لباس، گھر کی صفائی کے ساتھ ساتھ محلے، علاقے اور ملک کی صفائی لازم اور ملزوم ہے۔ مگر ہم لوگ کہ جسم، لباس، گھر کی صفائی کو اصل صفائی تصور کرتے ہیں۔ اپنے گھروں کی صفائی ستھرائی کر کے گند گریل گھر سے باہر جہاں جی چاہے پھینک دیتے ہیں جس سے تعفن بدبو پھیلتا ہے اور وائرس اور جراثیم پیدا ہوتے ہیں

ارشاد نبوی کا مفہوم ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ جسم کے ساتھ لباس، جگہ، ماحول اور روح کو پاک رکھنے کا نام صفائی ہے یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ صفائی نہ کرنے سے مختلف قسم کے وائرس اور جراثیم پیدا ہوتے ہیں جو کہ کئی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ پاکستان میں دوسرے مسائل کی طرح کچرے کو تلف کرنا یا اس کو ری سائیکل کرنے کا ہمارے ہاں کوئی مناسب طریقہ نہیں ہے۔ دوسری طرف ہم بھی صفائی صرف اپنے جسم، لباس اور گھر کو صاف رکھنے کو صفائی کہتے ہیں، حالانکہ گھر سے گند گریل کو نکال کر محلے میں پھینکنے کی بجائے اس کو مقرر شدہ جگہ میں پھینکنا چاہیے۔

جگہ جگہ پھینکنے سے تعفن اور بدبو پیدا ہوتا ہے۔ اور گھر سے باہر تو کیا پھر گھر کے اندر بیٹھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے ۔ اور نہ محلے سے آتے جاتے ہیں۔ ہم اگر اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو ہم نے جو کچرا گھر سے نکال کر باہر پھینکا ہوتا ہے اور وہ گند پھر نالیوں میں گرتا ہے۔ جس سے نالیوں میں پانی کی روانی متاثر ہوتی ہے اور بدبو اور تعفن کا باعث بنتا ہے۔ گھروں کے کچرے میں عام طور پر سبزیوں اور فروٹ کے چھلکے ہوتے ہیں جس میں بہت جلد کیڑے مکوڑے پیدا ہو کر بیماریوں اور بدبو کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ استعمال شدہ پلاسٹک کے بیگز ہوتے ہیں جو تیز ہوا کے آنے سے اُپر اُٹھ کر جگہ جگہ پھیل جاتے ہیں۔

پارکوں میں کولڈ ڈرنکس، پانی اور جوس کے خالی بوتلیں اور ڈبے ادھر اُدھر لاپرواہی سے پھینکتے ہیں، جس سے پارک کم او ر کچرے کا ڈھیر زیادہ نظر آتا ہے اور پھر یہی چیزیں سیوریج سسٹم کو بند کر دیتا ہے۔ یہ گندا پانی مکھیوں اور مچھروں کی افزائش کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جس سے مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔

گندگی کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق پانچ کروڑ ٹن سے زیادہ کچرا پیدا ہوتا ہے۔ اور بجائے کمی کے اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گھریلو کوڑا کرکٹ کے علاوہ صنعتی کچرا بھی ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے یعنی کارخانوں میں استعمال شدہ اشیاء اور دھاتوں کی باقیات بھی شامل ہیں اور یہ باقیات بھی پھر نالیوں کی نظر کی جاتی ہیں جو کہ انسان کی تباہی اور معاشرتی مسئلہ ہے۔

کسی جگہ یا علاقے میں ڈرم اور ڈسٹ بین موجود بھی ہوں تو لوگ چند وہاں جانے کی بجائے جہاں جی چاہے گند گریل پھینک کر اپنی ذمہ داری پوری کر دیتے ہیں۔

مچھروں، مکھیوں اور جوؤں کی پیدائش درحقیقت صفائی نہ کرنے سے ہوتی ہے۔

اگر ہم اپنے جسم، لباس، گھر کی صفائی تو کریں لیکن محلے، علاقے کی صفائی کا خیال نہ رکھیں تو ایسی صفائی کا ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہے۔

جس کے جی میں جہاں چاہے گھر اور فیکٹری سے کوڑا کرکٹ وہاں پھینک دیتے ہیں۔ نہ کسی کا ڈر، نہ کسی کا خوف اور نہ احساس ذمہ داری۔

اسلم گل، پشاور
Latest posts by اسلم گل، پشاور (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments