عورت کا اصل گھر: کدھر، کون سا



میں اپنے والد کے گھر میں لڑ جھگڑ کر اپنی ہر بات منوا سکتی تھی کہ مجھے گھر پر کیا کرنا ہے کیا نہیں۔ مجھے پالتو جانور رکھنا بہت پسند ہے تو اپنے والد کے گھر کوئی پالتو جانور رکھنے کے لیے بھی میں کسی کی اجازت کی محتاج نہ تھی۔ ادھر کسی پالتو جانور کے رکھنے پر اگر مجھے منع کیا جاتا تو میں سب سے لڑ جھگڑ کر اپنی بات منوا لیتی تھی کہ نہیں ”یہ میرے (مرحوم) باپ کا گھر ہے میں بھی اس کی حصہ دار ہوں تو میں جو دل کرے وہی کروں گی اور پالتو جانور بھی رکھوں گی“ ۔ میرے ایسا کہنے پر سب چپ کر جاتے اور میں اپنی من مانی ہمیشہ کر جاتی۔

پھر شادی ہو گئی۔ سسرال کا گھر شوہر کے نام پر تھا۔ شوہر بیرون ملک ہوتے تھے۔ شوہر کے گھر آ کر میں اس خوش فہمی کا شکار ہو گئی کہ یہ میرا گھر ہے۔ پر ایک دن جب میں نے شوہر سے گھر پر کتے کا پلا بطور پالتو جانور لا کر رکھنے کی بات کی تو میرے شوہر نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ کہنے لگا ”نہیں تم ادھر کتے کا پلا نہیں رکھ سکتی“ ۔ میں اس کا منہ دیکھتی رہ گئی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میں اپنی امی کے گھر کتے کا پلا رکھ لوں گی۔

مجھے لگا تھا میرے ایسا کہنے پر وہ میری بات مان لے گا۔ پر افسوس کہ ایسا نہ ہوا بلکہ اس نے بڑی بے رخی سے کہا ”ہاں ادھر رکھنا ہو تو رکھ لینا پر تم اسے ادھر نہیں رکھ سکتی“ ۔ اس کی یہ بات سن کر میں نے فون بند کر دیا کہ یہ سب باتیں اس سے فون پر کر رہی تھی۔ دو دن ہماری بات چیت نہ ہوئی۔ تیسرے دن بات چیت ہوئی بھی تو اس نے اپنی پچھلی بات پر کسی ندامت کا اظہار نہ کیا بلکہ پھر کہا ”تم ادھر کتے کا پلا نہیں رکھ سکتی کہ ہم نے گھر پر کبھی کوئی جانور نہیں رکھا نہ رکھیں گے“ ۔

اس دن مجھے احساس ہوا کہ عورت کا اصلی گھر یا تو اس کے باپ کا گھر ہوتا ہے جس میں وہ شرعی حصہ دار ہو کہ باپ بیٹی کا رشتہ تو کبھی نہیں ٹوٹتا یا وہ گھر جو اس نے اپنے پیسوں سے خود خریدا ہو اور اس کے اپنے نام پر ہو۔ شوہر کا کیا ہے آج ساتھ ہے کل ٹھڈا مار کر بیوی کو تین بول بول کر چلتا کرے اور نئی بیوی لے آئے تو اس کا گھر بیوی کا گھر تو نہ ہوا ناں!

میرے شوہر کا گھر بڑا ہے اور اس میں افراد خانہ کی تعداد بہت کم ہے۔ میں خود ملازمت کرتی ہوں اور اگر گھر پر کتے کا پلا رکھ لیتی تو اس کے کھانے پینے کا بندوبست بھی خود ہی کر سکتی تھی پر پھر بھی میری بات نہ مانی گئی۔

پس جس گھر میں ایک عورت اپنی مرضی کا پالتو جانور نہ رکھ سکے وہ گھر عورت کا اپنا گھر نہیں ہوتا محض ایک سراب ہوتا ہے اور عورت کا اصلی گھر ہمیشہ اس کے باپ کا گھر ہوتا ہے یا وہ گھر جو اس نے اپنے پیسوں سے خریدا ہو۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments