12 مئی؛ جب صحافی بھی جان بچانے کے لئے چیختے چلاتے رہے۔


وہ منظر ہی ناقابل یقین اور ہوش اڑا دینے والا تھا۔ توقع تو تھی لیکن معاملات اس حد تک خراب ہوں گے یہ سوچ کر آج بھی یقین نہیں آتا۔ ہماری نوجوان آنکھیں پہلی بار میڈیا، ریاست اور جرم کی بیک وقت آزادی کا منظر ٹیلی ویژن پر براہِ راست دیکھ رہی تھیں۔

منظر تھا کراچی شہر کا اور دن آج کا ہی تھا یعنی 12 مئی 2007۔ وکلاء تحریک عروج پر تھی۔ معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کو کراچی بار سے خطاب کرنا تھا اور حکومت نے ہر صورت روکنا تھا۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے انہیں ویلکم کرنا تھا۔  جناب اطہر من اللہ اور اعتزاز احسن چیف کے ہمراہ تھے۔

صبح کے آغاز میں ہی شہر کے حالات خراب ہونا شروع ہو گئے سڑکوں پر مسلح جتھے اسلحہ لہراتے نظر آرہے تھے۔ شو شروع ہوا۔ چیف کو ائر پورٹ پر روک لیا گیا اور وکلاء اور سیاسی پارٹیوں کی ائرپورٹ تک پہنچنے کی جدوجہد شروع ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی شہر میں گولیاں چلنے اور فائرنگ کے ساتھ حالات خراب ہونا شروع ہوئے۔ پورا شہر تشدد اور فائرنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ کون کس کو مار رہا ہے، کیوں مار رہا ہے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ بس فائرنگ چل رہی تھی اور چینل اس کو لائیو کوریج دے رہے تھے۔ گولیوں کی لائیو تڑ تڑہٹ بہت خوفناک منظر پیش کرتی اور کیمرہ مین بھاگتے دکھائی دیتے۔

آج نیوز کا نیوز روم جتھوں کو مسلسل کوریج دے رہا تھا۔ غالباً نادیہ مرزا لائیو تھیں۔ بلڈنگ کی اوپری منزل سے فائرنگ کرتے جتھوں کو مسلسل دکھایا جا رہا تھا۔ پھر اچانک ان کا رخ آج نیوز کی طرف ہوا اور چینل پر حملہ ہونے کی خبریں آنے لگیں۔ توڑ پھوڑ شروع ہوئی اور نیچے پارکنگ میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی گئی۔ اینکرز کے چہروں پر خوف نظر آنا شروع ہو گیا۔ ٹکر چلنا شروع ہوئے مگر کوئی انتظامی ادارہ ان کی مدد کو نہیں آ رہا تھا۔ پھر براہ راست نیوز روم پر فائرنگ شروع ہو گئی۔ شیشے ٹوٹنے لگے اور خول نیوز روم میں آ کر گرنے لگے۔ بھگدڑ ہوئی مگر آج نیوز بہرحال لائیو نشریات دکھاتا رہا۔

اسی دن جو دوسرا بڑا واقعہ مجھے یاد پڑتا ہے جب جیو نیوز پر کامران خان کرائم رپورٹر فہیم صدیقی سے لائیو رپورٹنگ لے رہے تھے۔ اس رپورٹنگ کے دوران مسلسل فائرنگ ہو رہی تھی۔ اس رپورٹنگ کی خاص بات یہ تھی کہ فہیم صدیقی گاڑی فائرنگ سے بچنے کے لئے گاڑی کے نیچے لیٹ کر رپورٹنگ کر رہے تھے۔ کامران خان نے جب پوچھا کہ پولیس کدھر ہے تو فہیم صدیقی نے جواب دیا کہ وہ قریبی تہ خانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اس پر کامران خان نے طنزیہ طور پر پوچھا کہ وہ تہ خانے میں محفوظ تو ہیں؟

جس پر فہیم صدیقی نے جواب دیا کہ ہاں پولیس بالکل محفوظ ہے۔ اس کے ساتھ ہی گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں لائیو کوریج دیتے فہیم صدیقی کی چیخیں جیو نیوز پر سنائی دینا شروع ہو گئیں۔ انہی چیخوں میں انہوں نے بمشکل بتایا کہ ان پر اب براہ راست فائرنگ کی جا رہی ہے۔ کامران خان انہیں جان بچانے کے لئے محفوظ جگہ بھاگنے کا مشورہ دیا۔ اب یاد نہیں کہ اس دوران ان کی کال کٹ گئی یا جاری رہی مگر یہ یاد ہے کہ سلگتے شہر میں غارت گری کا یہ سلسلہ سارا دن لائیو چلتا رہا۔

ٹرانسمشن میں دلچسپ بات یہ تھی کہ لائیو کوریج کرنے والا تھوڑی دیر بعد خود ٹریس ہو جاتا اور پھر اس پر حملہ کی خبریں آنا شروع ہو جاتیں۔ دن بھر شہر جلتا رہا، لوگ مرتے رہے دنیا لائیو دیکھتی رہی مگر اس دوران کوئی پولیس یا قانون نافذ کرنے والے ادارہ سامنے نظر نہیں آیا۔

شام کو جب کراچی میں لاشوں کی گنتی جاری تھی اور خون کے دھبے دھل رہے تھے تو اس دوران اسلام آباد میں ناچتے گاتے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے اپنے دیوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کنانڈو جنرل پرویز مشرف نے مکا لہرا کر کہا تھا کہ آج کراچی میں عوام نے اپنی طاقت دکھا دی۔ اس روز کم سے کم 48 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ حتمی ہلاکتوں کی تعداد پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔ سٹی اور مرکز دونوں میں ایم کیو ایم کی حکومتیں تھیں۔

اس سانحے پر رونے اور انصاف مانگنے والا کون ہے اور آج پندرہ برس گزرنے کے بعد ذمہ دار کس کو قرار دیا گیا ہے اس کے لئے آج کا خبرنامہ دیکھئے۔ اگر آج برسی کے دن بھی اس سانحے کا کہیں ذکر نہ ملے تو ذمہ داران کا اندازہ خود ہی کر لیجیے اور مزید سانحوں کے لئے تیار رہیے کیونکہ دبایا گیا سانحہ اس بیج کی طرح ہوتا ہے جو زمین میں دب کر اگتا ہے جس سے مزید سانحوں کی فصل تیار ہوتی ہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments