قانون سازی مقدس ذمہ داری ہے، کھیل نہیں


دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی جمہوری حکومت ہو خواہ وہ پارلیمانی ہو کہ صدارتی۔ یا فوجی نظام ہو ہو کہ شخصی یا دیگر قسم کی بد ترین آمریت ہی کیوں نہ ہو۔ قانون کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ کیونکہ قانون ہی وہ ذریعہ ہے جس سے افراد کے مابین تعلقات ترتیب دیے جاتے ہیں۔ جبکہ بالخصوص مقتدر طبقے کے اقتدار کو تقویت بھی دیتی چلی آ رہی ہے۔

ابتدائی طور پر انسانوں نے کچھ اصول اور کچھ ضابطے رضاکارانہ طور پے قبول کر کے اور خود پر لاگو کر لیے۔ تاکہ بہتر اور پر امن زندگی گزاری جا سکے۔ یہی قانون کی ابتداء بنی۔ جو رفتہ رفتہ ضروریات زندگی، پیداواری ذرائع اور دیگر مور بڑھنے سے فن اور ادارے کی شکل اختیار کرتی گئی۔

کہا جاتا ہے کہ قانون بنانے والے ہی قانون توڑتے ہیں۔ اگر بادی النظر میں دیکھا جائے تو یہ بات دل کو لگتی بھی ہے۔ اصل میں ابتداء ہی سے قانون سازی کا اختیار معاشرے کے طاقتور لوگوں کے ہاتھوں میں رہا ہے۔ اور وہ ایسے ہی قوانین بناتے رہے ہیں جس سے ان کے مفادات اور ان کے قوت و اقتدار تحفظ کیا جا سکے۔ وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی، جنگجو، فوجی، اشرافیہ طبقے بھی مختلف وجوہ کی بناء پر طاقت اور حیثیت اختیار کرتے رہے اور وہ بھی بلا واسطہ یا بالواسطہ درباروں سے منسلک ہوتے گئے۔

یہی دربار ہی قانون سازی کے منبع ہوا کرتے تھے۔ پس جو بھی قانون با شکل فرمان جاری ہوتا ان کے مشورے سے اگر نہیں تو ان کی موجودگی ہی میں جاری ہوتا۔ ظاہر ہے ان کے ہوتے ہوئے ایسا کوئی فرمان کیسے جاری ہوتا جو ان کے یا ان کے طبقے کے مفاد پر ضرب لگاتی ہو۔ ایسا اگر کوئی قانون ہوتا بھی جو ان کے مفادات سے متصادم ہوتا۔ رو یہ بلا جھجک اور بلا خوف و خطر اپنی حیثیت، طاقت اور اثر و رسوخ کی بناء پر پیروں تلے رکھتے۔ اور کوئی بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔

پھر ایسا وقت بھی آیا کہ قانون سازی باقاعدہ مخصوص بندوں کی مشاورت سے ہونے لگی اور اسی طرح قانون سازی کے لیے مشاورتی ادارے بننے لگے۔ جو ترقی کرتے کرتے موجودہ پارلیمانی اور مشاورتی اداروں اور کونسلوں کی شکل اختیار کر گئی۔

پاکستان کی قانون سازی کی تاریخ پر اگر سری نظر ہی دوڑائی جائے تو اس سے بالکل صاف ظاہر ہوتا ہے۔ کہ یہاں قانون سازی کے لیے زیادہ تر یا تو صدارتی آرڈیننسوں کا سہارا لیا گیا ہے اور یا پھر مارشل لائی ضابطوں کا ۔ ہاں یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر کسی قانون پر سختی سے عمل کیا یا کرایا گیا ہو تو وہ مارشل لائی ضابطے اور قوانین ہی رہے ہیں۔

پاکستان جو ابتدا میں تقریباً نو سال تک بغیر آئین کے ہی چلتا رہا۔ اس سارے دور میں قانون سازی کے لیے عارضی اور غیر مستند ذرائع ہی بروے کار لائے جاتے رہے۔ پھر جب اسمبلیاں بنی خواہ اصل رہیں یا ڈمی اور قانون سازی ہونے لگی۔ تو کچھ بہتری کے آثار دکھائی دینے لگے۔ مگر بصد افسوس و معذرت کے یہ اسمبلیاں اپنا وقار کھوتی رہیں۔ اور یہ مخصوص طبقہ، اداروں اور شخصیات کی نمائندگی کرنے لگی۔ اور قانون سازی مطلب حقیقی قانون سازی کا تو یہ حال ہوا کہ ان اداروں کے نام ہی خیر سے لیجسلیٹو (قانون ساز) اسمبلیوں سے قومی اور صوبائی اسمبلیاں پڑ گئیں۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے ہاں کوئی خاص اور ٹھوس قانون سازی یا تو ہو ہی نہیں رہی اور یا بہت ہی کم ہو رہی ہے۔ وہ بھی اگر دیکھا جائے تو یا تو مراعات حلال کرنے کے لیے اور یا پھر مخصوص طبقات کے مفادات کے لیے کی جا رہی ہیں۔ البتہ مراعات کو حلال بنانے کے لیے جو قانون سازی ہوتی رہی ہے وہ تو خاکم بدہن ایسا لگتا ہے جیسے کوئی کھیل کھیلا جا رہا ہو۔ بالکل جیسے میرے عمر کے لوگ بچپن میں چور سپاہی یا چور کوتوال اور اسی طرح کے کھیل کھیلا کرتے تھے۔ اب تو ماشاء اللہ ایسی کچھ کھیلیں انتہائی ترقی کر گئے ہیں اور اس کو حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ جیسے ہماری ”یوتھ پارلیمنٹ“

تو برائے نام اور رسم نبھائی کی خاطر جو قانون سازی ہوتی رہی ہے۔ زیادہ تر عجیب ہوتی ہے۔ وہ یوں کہ ایسے قوانین نئے ناموں سے بنائے جاتے ہیں۔ جو پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں۔ اسی قوانین میں تھوڑی بہت تبدیلی کر کے اور دفعات کو اوپر نیچے کر کے نئے قانون کا نام دیا جاتا ہے۔ جو قانون سازی کے نام پر کھلواڑ ہی ہے۔ اگر یہی سابقہ قوانین حقیقت میں تبدیلی کے متقاضی ہوں تو ان ہی میں مطلوبہ ترامیم کیے جانے کے وقت کے مطابق بنانے چاہیے۔ جبکہ اس طرح کی برائے نام کارروائی کر کے قانون سازی کا کھیل کھیلنا نہیں۔ حقیقی، ٹھوس اور موثر قانون سازی ہی قانون ساز ممبران کی اصل اور آئینی ذمہ داری ہے۔ جبکہ دوسری صورت میں ہر ایک قانون میں ایسی ترامیم با شکل قانون سازی کی جائیں کہ ہر قانون پر اس کے اصل روح کے مطابق عمل درآمد کرانے کے لیے ٹھوس طریقہ کار، ذمہ داری اور سزا و جزا کا نظام وضع کیا جائے اور اس کو حقیقی عوامی قانون بنائے جائیں۔

Facebook Comments HS