امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ کا نیا محاذ: چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیکس کیوں لگا؟

نیٹلی شرمن - بی بی سی بزنس رپورٹر


چین
امریکہ اور چین کے درمیان گذشتہ چند سال سے جاری تجارتی جنگ کا یہ سب سے نیا محاذ ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے گذشتہ ہفتے برقی (الیکٹرک) گاڑیوں، سولر پینل، سٹیل اور دیگر چینی ساختہ مصنوعات پر عائد ٹیرف میں اضافہ کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدامات، جن میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیکس شامل ہے، امریکی شہریوں کے روزگار کا تحفظ کرنے کے لیے غیر منصفانہ تجارتی معاہدوں کا جواب ہیں۔

چین کی جانب سے ان اقدامات پر کڑی تنقید کی گئی ہے جن کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات علامتی اہمیت رکھتے ہیں جن کا مقصد حقیقت میں جو بائیڈن کے لیے ایک مشکل صدارتی انتخابات میں مدد حاصل کرنا ہے۔

واضح رہے کہ ان اقدامات سے قبل جو بائیڈن کے مخالف امیدوار اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کئی ماہ تک شدید تنقید کی جاتی رہی ہے کہ جو بائیڈن کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی حمایت امریکہ کی آٹو انڈسٹری کو ختم کر دے گی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق منگل کے دن جن اقدامات کا اعلان کیا گیا ان کا اثر 18 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات پر پڑے گا کیوں کہ چینی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر عائد ٹیکس 25 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد جبکہ چینی سولر پینل پر ٹیکس کو بھی 25 سے 50 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سٹیل اور الومینیئم مصنوعات پر عائد ٹیکس تین گنا بڑھا دیا گیا ہے جو سات عشاریہ پانچ فیصد سے بڑھ کر اب 25 فیصد ہو گا۔

’غیر منصفانہ معاہدے‘

امریکہ

امریکی وائٹ ہاؤس کی جانب سے اعلان کردہ اقدامات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھی چینی مصنوعات پر ٹیکس عائد کیے گئے تھے جن کی وجہ ’غیر منصفانہ معاہدوں‘ کو قرار دیا گیا تھا۔

جو بائیڈن کی حکومت نے ان اقدامات کا جائزہ لیا کیوںکہ متعدد کاروباری شخصیات کے مطابق ٹیکسوں کی وجہ سے عام امریکی شہری کے لیے قیمتوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ تاہم اب صدر جو بائیڈن کی جانب سے پرانے ٹیکسوں کو کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کرنے کے فیصلے نے تجارت پر ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے موقف میں ڈرامائی تبدیلی کی عکاسی کی ہے کیوں کہ امریکہ عالمی تجاری معاہدوں کے فوائد کا علمبردار رہا ہے۔

ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹیٹیوٹ کی نائب صدر وینڈی کٹلر، جو امریکی تجارتی عہدیدار رہ چکی ہیں، کا ماننا ہے کہ امریکی شہری مقامی کاروبار اور نوکریوں کے تحفظ کے عوض مہنگی گاڑیاں قبول کرنے کو تیار ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم نے یہ فلم پہلے دیکھ رکھی ہے، سولر توانائی، سٹیل، الومینیئم کے ساتھ، اور جہاں تک گاڑیوں اور دیگر مصنوعات کی بات ہے تو شاید قلیل مدتی طور پر گاڑیاں مہنگی ہوں گی لیکن طویل المدتی اعتبار سے دیکھا جائے تو کاروبار میں مقابلہ پیدا ہو گا۔‘

صحافیوں سے بات چیت میں امریکی حکام نے اس بات کی نفی کی کہ مقامی پالیسیاں اس فیصلے کی وجہ بنی ہیں۔

امریکی حکام کا موقف ہے کہ یہ اقدامات ایسی چینی تجارتی روایات کا جواب ہیں جو امریکہ کے لیے نقصاندہ ہیں جیسا کہ چین میں کام کرنے والی مغربی کمپنیوں کو معلومات دینے پر مجبور کرنا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے افراط زر کا خدشہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹڑمپ نے جو بائیڈن کو الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو فروغ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اس قدم سے امریکی صنعت تباہ ہو جائے گی جس کا مرکز نومبر میں ہونے والی صدارتی الیکشن میں اہم سمجھی جانے والی مشیگن ریاست ہے۔

یورپ کا انتظار

یورپ

امریکہ کی جانب سے پہلے ہی چینی الیکٹرک گاڑیوں پر عائد ٹیکس کی وجہ سے ان گاڑیوں کی فروخت نہ ہونے کے برابر ہو چکی ہے۔

تاہم دوسری جانب چینی گاڑیوں کی یورپ اور دیگر ممالک میں فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

آرٹیمس انوسٹمنٹ مینیجمنٹ کی نتاشا ابتہاج کا کہنا ہے کہ کاروباری دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ کیا یورپ بھی امریکہ سے ملتے جلتے فیصلے اٹھاتا ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ یورپی یونین اور برطانیہ میں اس معاملے پر بحث ہو رہی ہے کہ آیا چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد کم کرنے کے لیے اقدامات لینے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

نتاشا کا کہنا ہے کہ ’چینی سرمایہ کاروں یا کمپنیوں کے لیے امریکی فیصلہ حیران کن نہیں خصوصا الیکشن سے پہلے کے وقت میں جس میں دونوں امیدوار ہی چین کے حامی نہیں ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’چینی مصنوعات کی امریکہ کو ہونے والی درآمد کی مقدار کم ہے اس لیے یہ زیادہ دلچسپ ہو گا کہ یورپ میں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔‘

امریکہ اور چین 2018 سے ہی تجارتی جنگ میں آمنے سامنے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین سے درآمد ہونے والی دو تہائی مصنوعات پر 360 ارب کے ٹیکس عائد کر دیے تھے۔

چین کی جانب سے اس کا جواب دیا گیا تو ایک محاذ آرائی کا آغاز ہوا جس میں اس وقت کسی حد تک کمی آئی جب 2020 میں ٹرمپ نے چند مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں کمی کر دی اور جواب میں چین نے امریکہ سے مصنوعات کی خریداری کو بڑھانے کا وعدہ کیا۔

چین کا وعدہ تو پورا نہیں ہوا لیکن چینی مصنوعات پر عائد ٹیکسوں نے امریکی حکومت کو 200 ارب ڈالر تک سرمایہ حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔ تاہم اس سرمایے کا بڑا حصہ امریکی شہریوں کی جیب سے ہی نکلا ہے جنھوں نے فرنیچر، جوتوں یا دیگر مصنوعات خریدنے کے لیے پہلے سے زیادہ قیمت ادا کی ہے۔

آکسفورڈ اکنامکس نے حالیہ امریکی اقدامات کو ’علامتی دھاڑ‘ قرار دیا ہے کیوں کہ کمپنی کے مطابق ان اقدامات سے افراط زر میں عشاریہ صفر ایک فیصد تک کا ہی اضافہ ہو گا اور شرح ترقی پر بھی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔

بی بی سی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33096 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments