اعلیٰ تعلیم، بے روزگاری اور معاشی دباؤ: پاکستانی نوجوانوں کی مایوس کن حقیقت
جب آپ یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرتے ہیں تو آپ کے بڑے بڑے خواب ہوتے ہیں کہ بس گریجویٹ ہو جائیں تو بڑی نوکری مل جائے گی۔ لیکن ڈگری حاصل کر کے جب آپ مارکیٹ میں آتے ہیں، تو پاکستان میں نوکریاں دستیاب نہیں ہوتیں اور اس طرح آپ کا سال ضائع ہو جاتا ہے۔ مالی حالت دیکھ کر، گھر والوں کی باتیں سن کر، آپ نہ ایم فل یا ایم ایس کر سکتے ہیں اور نہ ہی مزدوری کرنے کو آپ کا ذہن تسلیم کرتا ہے کیونکہ آپ نے اعلیٰ ڈگری حاصل کی ہے اور لاکھوں روپے خرچ کیے ہیں۔
اس طرح بورنگ زندگی گزارنے کے بعد ، کچھ سال بعد آپ کو عمر کے لحاظ سے چھوٹی موٹی نوکری کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اگر مل بھی جائے، تو SST، CT، یا PST کی نوکری ملتی ہے۔ اس وقت آپ کو سیلری کی خوشی ہوگی لیکن دوسری طرف آپ کی تین چار اولادیں بھی ہوں گی جن کا خرچہ اور گھر کا بوجھ بھی آپ پر ہو گا۔ ماشاءاللہ، ہم پشتون کم عمری میں نکاح کی سنت ادا کرتے ہیں اور امت مسلمہ بڑھانے کا شوق رکھتے ہیں۔
آپ کو معلوم ہے کہ آج کل مہنگائی کتنی زیادہ ہے اور سیلری کتنی کم ہوتی ہے، 35 یا 40 ہزار روپے۔ سیلری لے کر پندرہ تاریخ تک آپ کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں بچتا، اور اگلے ماہ کی پہلی تاریخ کا کتے کی طرح منہ باندھ کر انتظار کرتے ہیں۔ کیا اس سیلری سے آپ سکون کی زندگی گزار سکتے ہیں؟ کبھی نہیں۔ اس سیلری سے آپ صرف زندہ رہ سکتے ہیں، نہ گاڑی لے سکتے ہیں، نہ گھر بنا سکتے ہیں، اور نہ ہی اولاد کی مناسب ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔
نوکری کے ساٹھ سال پورے ہونے کا انتظار کریں گے اور اپنی بڑھاپے میں خوش ہوں گے کہ جلد ساٹھ سال پورے ہو جائیں اور پنشن مل جائے، وہ بھی چند لاکھ روپے۔ نوکری کے ساٹھ سال پورے ہونے پر اور بڑھاپے کی جشن منانے کے لیے آپ کو چند لاکھ روپے دیے جاتے ہیں۔ پھر باقی بڑھاپے کی عمر ذلت، ڈپریشن اور ٹوٹے خوابوں کے ساتھ گزار جاتے ہیں۔


