حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ چہارم
نئی فزکس میں بنیادی تصور فورس یا خارجی قوت کا تصور ہے۔ نیوٹن کے تین قوانین حرکت دراصل کسی بھی مظہر میں شامل عمل خارجی قوتوں کو درستی سے معلوم کرنے کا کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری اہم چیز تمام اشیاء کو ذرات پر مبنی قرار دینا ہے۔ جیسے کشش ثقل کے قانون کے لئے یہ فرض کیا جاتا ہے کہ تمام ذرات جو کچھ کمیت رکھتے ہیں ان کے درمیان کشش کی قوت پائی جاتی ہے جو ان کمیتوں کی مقداروں کے حاصل ضرب کے راست متناسب جبکہ ان کے درمیان فاصلے کے مربع کے معکوس متناسب ہے۔
یاد رہے فزکس میں بھاری اور ہلکے ہونے کو وزن کے معنوں میں لیا جاتا ہے جو کہ کشش ثقل کی قوت ہے جبکہ مادے کی مقدار یا کسی جسم میں ذروں کی تعداد کو کمیت کہا جاتا ہے۔ پرانی فزکس میں چونکہ فورس یا قوت کا تصور نہیں تھا اس لئے قدیم ذہن ان دو الگ مقداروں یعنی کمیت اور وزن میں فرق نہیں کر پاتا تھا۔
نیوٹن کی اس نئی فزکس سے، یعنی اجسام کو ذرات میں منقسم کرنا اور پھر ان کے مابین قوتوں کو تلاش کرنا، بہت کارگر ثابت ہوا۔ اس کا مزید اطلاق کولمب کے قانون میں نظر آیا جس میں بجلی اور مقناطیسی مظاہر کو برقی اور مقناطیسی قوتوں کی مدد سے سمجھا گیا۔ یوں ایک نئی مقدار یعنی چارج یا برقی بار متعارف ہوئی۔ گریوٹی میں ذرات میں صرف کشش کی قوت ہوتی ہے جبکہ برقی بار کے حامل ذرات میں کشش اور دفع دونوں قوتیں پائی جاتی ہیں۔
مشہور امریکی صدر بنیامین فرینکلن نے ان دو مختلف برقی باروں کے لئے مثبت اور منفی کی اصطلاح متعارف کروائی۔ اور یہ قانون بھی قائم ہوا کہ ایک جیسے برقی بار والے ذرات میں دفع کی قوت جبکہ مخالف برقی بار والے ذرات میں کشش کی قوت ہوتی ہے اور ہر دو شکلوں میں یہ قوت وہی نوعیت رکھتی ہے جو کشش ثقل کے معاملے میں دیکھی گئی تھی۔ ایسی قوت کو فزکس میں انورس سکوائر لاء inverse square law کہا جاتا ہے۔ فرانس کے مشہور سائنسدان لیپلاس نے ان دو اہم دریافتوں سے متاثر ہوتے ہوئے یہ کوشش کی کہ دنیا کے دیگر تمام مظاہر کو بھی انہی جیسی قوتوں اور ذرات میں تحلیل کیا جائے۔
لیپلاس نے نیوٹن کے زیر اثر حرکت کی وضاحت کرنے کے لئے ایک نئی مقدار متعارف کروائی جس میں وہ کسی جسم کی کمیت کو اس کی رفتار کے مربع سے ضرب دیتا ہے اور یہ دعوٰی کرتا ہے کہ کسی بھی عمل کے دوران، جیسے ذرات کا ٹکراؤ، یہ مقدار ہمیشہ مستقل رہتی ہے اور کبھی نہیں بدلتی۔ لیپلاس کی اس نئی مقدار کو آج ہم حرکی توانائی نام دیتے ہیں (صرف اس فرق کے ساتھ کہ اسے دو سے تقسیم کیا جاتا ہے ) ۔ دوسری طرف کارنوٹ نے (یہ کارنوٹ انجن والے کارنوٹ نہیں ہیں ) 1782 میں ورک کے نام سے ایک اور مقدار متعارف کی جس میں کسی جسم پر لگنے والی قوت کو اس کے زیر اثر طے ہونے والے فاصلے سے ضرب دی جاتی ہے۔
کارنوٹ اور فورئیر وغیرہ کا خیال تھا کہ اشیائی کی حرکت کو واضح کرنے کے لئے اس کی مائیکروسکوپک ذرات میں تحلیل کے بجائے مائیکروسکوپک یا بیرونی خاصیتوں کا مطالعہ ہی کافی ہے۔ گویا کسی جسم کے ذرات پر لگنے والی انفرادی قوتوں کو معلوم کرنے کی بجائے مجموعی قوت کو استعمال میں لاکر ورک کی تعریف کی جا سکتی ہے۔ جیمز واٹ نے ایسی ہی ایک اور مقدار پاور کے نام سے متعارف کروائی۔ یہ تمام نئی مقداریں انجینئرنگ کے اصول قائم کرنے میں زیادہ کارگر تھیں جنہوں نے اٹھارہویں صدی کے صنعتی انقلاب کے لئے ایندھن کا کام کیا۔
ورک اور پاور کی مدد سے بآسانی مختلف ذرائع توانائی اور ان سے بننے والی مشینوں کا تقابل کیا جاسکتا تھا۔ لیکن اس سے یہ تاثر نہیں لیا جا سکتا کہ یہ تمام مقداریں ایک دوسری سے الگ حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ جلد ہی فزکس کی مشہور ’ورک توانائی مساوات‘ قائم ہو گئی جس نے واضح کیا کہ لیپلاس کی حرکی توانائی اور کارنوٹ کا ورک ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اس مساوات کے مطابق کسی جسم پر ہونے والے ورک کی مقدار، اس کی حرکی توانائی میں تبدیلی کے برابر ہوتی ہے۔
بہرحال، صنعتی انقلاب کے دوران اشیائی کی پیداوار کی بڑھتی رفتار نے ایندھن اور انجن کی فزکس کو سمجھنے میں تیزی پیدا کی۔ سادی کارنوٹ نے مشہور کارنوٹ تھیورم پیش کیا جس کے مطابق کوئی بھی انجن کارنوٹ انجن سے زیادہ کارگر نہیں ہو سکتا اور یہ کہ انجن کی کارکردگی کا انحصار صرف اور صرف بوائلر اور کنڈنسر کے درجہ حرارت یا توانائی کے فرق پر ہوتا ہے اور ایندھن پر نہیں ہوتا۔ یعنی چاہے آپ بھاپ کا انجن بنا لیں اور چاہے پٹرول کا انجن بنا لیں، انجن کی کارکردگی پر اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کون سا مادہ استعمال ہوا ہے۔
گرم اور سرد کا قدیم یونانی تصور مبہم اور جہالت پر مبنی تھا۔ جبکہ نئی فزکس میں ذرات کی حرکت سے حرارت اور بجلی کو بھی واضح کیا جا سکتا ہے۔ کسی چیز کے ایٹم یا مالیکیول جب تیزی سے حرکت کریں تو وہ چیز گرم کہلاتی ہے اور آہستہ حرکت کریں تو سرد ہوجاتی ہے۔ جیسے اگر آپ اپنے ہاتھوں کو زور سے رگڑیں تو گرمی محسوس ہوتی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ ہاتھ کے ذرات کی حرکت آپ کی قوت کے زیر اثر تیز ہو رہی ہے۔ جدید فزکس کی تجربہ گاہوں میں مالیکیول اور ایٹموں کی حرکت کو لیزر ٹیکنالوجی کی قوت سے کنٹرول کر کے گرم یا زیادہ درجہ حرارت پیدا کیا جاتا ہے جس کی مدد سے ستاروں کے اندرونی مظاہر کو بھی سمجھا جا سکتا ہے اور پلازما سے فیوژن کی توانائی کو بھی کام میں لایا جاسکتا ہے۔
دوسری طرف انہی ایٹموں کے آئنز بنا کر ان کی حرکت کو کم سے کم کیا جاتا ہے اور یوں الٹرا کولڈ ایٹم تیار ہوتے ہیں جنہیں کوانٹم کپمیوٹر سے لے کر کوانٹم سینسنگ اور دیگر اہم دریافتوں کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ یونہی بجلی اور اس کے مظاہر کو برقی بار کے حامل ذرات کی مدد سے واضح کیا جاسکتا ہے۔ تاروں میں برقی رو یا الیکٹرک کرنٹ کو الیکٹرانوں کی حرکت کی مدد سے واضح کیا جاتا ہے۔ بیٹری یا سیل میں موجود کیمیائی عناصر کے ذرات کے باہمی تعاملات کی مدد سے کرنٹ پیدا ہونے کو بھی انہی قوتوں کی مدد سے واضح کیا جاتا ہے جنہیں برقی مقناطیسی قوت کہتے ہیں۔ مقناطیسی میدان کی وضاحت بھی برقی بار کے حامل ذرات کی حرکت سے ہوتی ہے جن سے مقناطیسی قوت پیدا ہوتی ہے۔ گویا، نیوٹن کا تصور حرکت یعنی ذرات کے درمیان خارجی قوت یا فورس کا عمل سمجھنے بنا نئی فزکس کرنا قریب قریب ناممکن ہے۔
فورئیر نے حرارت کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی کے لئے کنڈکشن کا تصور پیش کیا تھا جس میں حرارت کو ایک فیلڈ کے طور پر متعارف کروایا گیا جو کہ ایک مسلسل مقدار تھی۔ یہ پوئساں کی حرارت کی مساوات اور اسی طرح لیپلاس کے حرکی توانائی کے تصور سے مختلف تھا کیونکہ انہوں نے نیوٹن کے زیر اثر حرارت کو سمجھنے کے لئے ذرات اور ان کے مابین قوتوں کو تصور کیا تھا جن میں کسی بھی فاصلے پر موجود اجسام کے مابین قوت کا اثر ’بلاواسطہ‘ ہوتا ہے جسے عرف عام میں action at a distance کہتے ہیں یعنی قوت صرف مکان کے ان دو نقاط پر اثر کرتی ہے جہاں یہ اجسام موجود ہوتے ہیں اور ان کے درمیان کے تمام نقاط پر اثر نہیں کرتی۔
جبکہ فیلڈ تھیوری کے مطابق دو اجسام کے درمیان قوت کے اثر کا تبادلہ متواتر ہوتا ہے جس میں دونوں اجسام سمیت ان کے درمیان مکان کا ہر نقطہ اثر قبول کرتا ہے۔ مگر کیا ان دونوں مختلف تصورات یعنی فیلڈ اور قوت میں کوئی ربط تلاش کیا جاسکتا ہے؟ یہ وہ سوال تھا جسے 1845 کے قریب ولیم تھامسن یا لارڈ کیلون نے حل کیا۔ اس نے یہ دیکھا کہ بجلی اور حرارت کی مساواتیں ایک جیسا نتیجہ پیدا کرتی ہیں اگر دونوں کو مکینکل توانائی کی شکل میں سمجھا جائے۔
جس طرح ایک آبشار سے پانی ہمیشہ نیچے کو گرتا ہے یا ہم یوں کہتے ہیں کہ تمام دریا سطح سمندر کی طرف بہتے ہیں اور سطح سمندر کی مکینکل توانائی کم سے کم ہے۔ یونہی ایک برقی نظام میں بھی کرنٹ ہمیشہ زیادہ توانائی کی سطح سے کم توانائی کی سطح کی طرف بہتا ہے جس کا تجربہ یوں کر سکتے ہیں کہ ایک تار کو بیٹری کے صرف ایک سرے سے جوڑ دیں تو اس سے کوئی کرنٹ پیدا نہیں ہوتا جب تک دوسرا سرا بھی نہ جوڑ دیا جائے جس سے زیادہ سے کم توانائی کی سطح کی طرف الیکٹران بہنے لگتے ہیں۔
اور ایسا ہی عمل حرارت کی منتقلی میں بھی ہوتا ہے جس کا تجربہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ ایک لوہے کی سلاخ کو ایک طرف سے گرم کریں جو زیادہ توانائی والا سرا ہے تو کچھ دیر بعد سلاخ کی دوسری جانب حرارت منتقل ہوگی جو کم توانائی والا سرا ہے۔ ایسے ہی مقناطیسی میدان میں لوہے کے ٹکڑے اور کمپاس رکھنے سے دیکھا جا سکتا ہے کہ مقناطیسی زیادہ سے کم توانائی والی سطح کی طرف لوہے کے ٹکڑوں میں حرکت پیدا کرے گی۔
بہرحال، یہاں سے ہم نئی فزکس کے ایک اہم نتیجے کی طرف بڑھتے ہیں۔ کسی بھی جسم کو بنانے والے ذرات پر لگنے والی خارجی قوت یا فورس کو توانائی یا بالخصوص پوٹینشل انرجی کے گریڈینٹ کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔ یہاں گریڈینٹ ایک ریاضیاتی تصور ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اگر ایک سکیلر فنکشن کو کسی مکان کے تینوں جہات میں تبدیل کیا جائے تو اس فنکشن میں سب سے زیادہ تبدیلی جس سمت میں ہوگی اسے گریڈینٹ کہا جائے گا۔ اس لیے ہم پوٹینشل نام کا ایک سکیلر فنکشن متعارف کرواتے ہیں جو کسی جسم کے ذرات کی پوٹینشل انرجی کو ظاہر کرتا ہے۔
پھر فورس کو اس پوٹینشل فنکشن کے گریڈینٹ کے طور پر لکھا جا سکتا ہے جس میں ایک اضافی منفی علامت یہ بتاتی ہے کہ کسی جسم پر لگنے والی فورس، زیادہ سے کم توانائی والی سطح کی جانب حرکت پیدا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ پوٹینشل کا فنکشن پوئساں یا لیپلاس کی مساوات کی مدد سے نکالا جاسکتا ہے۔ یوں گویا فزکس کا کام دونوں طرح سے ممکن ہوجاتا ہے۔ یعنی آپ چاہیں تو نیوٹن کا فارمولا استعمال کر کے فورسز کا تعین کر لیں اور اسے دیگر مادی مقداریں نکال لیں یا پھر پوئساں یا لیپلاس کی مساواتیں استعمال کر کے پوٹینشل فنکشن نکال لیں اور پھر وہاں سے دوبارہ فورسز نکال لیں۔ ہر دو صورت میں نتیجہ ایک ہی نکلے گا۔ اور یہ مساواتیں بالکل عمومی ہیں اور اس لئے انہیں برقی، مقناطیسی، حر حرکیات، روشنی یا دیگر تمام مظاہر میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
جول کا ماننا تھا کہ کائنات میں کسی بھی عمل کے دوران کبھی بھی مکینکل ورک کی مقدار اور توانائی ضائع نہیں ہو سکتی۔ جول نے پے در پے تجربات سے یہ ثابت کیا کہ مکینکل ورک اور حرارت کو ایک دوسرے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اور پھر ایسے مزید تجربات سے ثابت ہوا کہ توانائی کی کل مقدار ہمیشہ مستقل رہتی ہے اور کبھی فنا نہیں ہوتی بلکہ ایک قسم سے دوسری قسم میں منتقل ہوجاتی ہے۔ اسی کو نئی فزکس کا ایک بنیادی قانون یعنی ”قانون بقائے توانائی“ قرار دیا جاتا ہے۔
اس قانون کو لے کر بہت سے مارکسی دانشور اور دیگر صوفیانہ نظریات کے حامل لوگوں میں نہایت عجیب و غریب غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ کہیں کوئی مادے اور توانائی کی جدلیات اور کہیں کوئی روحانی توانائی جیسے مغالطوں میں الجھا نظر آتا ہے۔ ان کے ہاں توانائی یا انرجی کوئی غیرمرئی قسم کی شے کا نام ہے۔ بعض نے تو اسے روح سے بھی تشبیہ دی ہے کہ وہ بھی ناقابل فنا ہے جو کہ سراسر جہل مرکب ہے اور جدید فزکس سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
جدید سائنس کے تصور حرکت کی طرف نیوٹن کے بعد جو دوسری بڑی پیشرفت ہوئی ہے وہ یہی توانائی کا جدید تصور ہے۔ توانائی کے لئے انرجی کا لفظ استعمال ہوتا ہے جسے لارڈ کیلون نے اپنے ایک مضمون میں 1849 میں متعارف کروایا۔ یہ اصطلاح دراصل ارسطو ہی سے منسوب ہے۔ اس نے اپنی فزکس میں دو یونانی الفاظ یعنی energia اور entelechia کا استعمال بکثرت کیا ہے حتٰی کہ اپنی میٹا فزکس میں بھی وہ ان کا استعمال کرتا ہے۔ ارسطو نے entelechia کی واضح تعریف بیان نہیں کی۔
لسانی اعتبار سے اس نے اس لفظ کو energia کے ہم مترادف استعمال کیا ہے جس کے معنی ہیں صلاحیت یا استعداد۔ لیکن ارسطو کے ہاں انرجی یا استعداد شے کے باطن میں پائی جاتی تھی اور مابعد الطبیعی نوعیت کی شے تھی۔ نئی فزکس میں انرجی کو دیگر مادی مقداروں کی طرح ہی ایک مادی مقدار سمجھا جاتا ہے جسے ماپا جا سکتا ہے اور ایک شکل سے دوسری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور یہ شے کے باطن میں نہیں بلکہ خارج میں پائی جاتی ہے۔ یونہی نیوٹن کی خارجی قوت سے اس کو جوڑا جا سکتا ہے کیونکہ توانائی کا گریڈینٹ ہی ہے جو قوت پیدا کرتا ہے۔ لہذا، فیلڈ اور فورس دونوں سے مادی دنیا کی ایک جیسی وضاحت ہوتی ہے جو قدیم یونانی یا قرون وسطیٰ کی فزکس سے یکسر مختلف ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ قرون وسطٰی اور قدیم یونان کے متصوفانہ فلسفوں میں نئی فزکس کو تلاش کرنے کی بجائے جدید علوم کی طرف رجوع کیا جائے۔


