حرکت کا سائنسی تصور ( 17 )

دنیا کی تمام چیزیں ایٹموں سے مل کر بنی ہیں۔ ایٹموں کو کیمسٹری کے دوری جدول کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے۔ دوری جدول میں ایک سو سے زائد ایٹموں کی فہرست ملتی ہے۔ ہر ایٹم اپنی منفرد خصوصیات کے حوالے سے دوری جدول میں ترتیب دیا گیا ہے۔ روزمرہ زندگی میں ہمارا واسطہ چند ہی ایٹموں سے پڑتا ہے۔ زیادہ تر اشیاء ایٹموں کے مختلف پیچیدہ نظاموں سے بنی ہیں جنہیں کمپاؤنڈز یا مالیکیولز کہتے ہیں۔ مالیکیولز کا

Read more

حرکت کا سائنسی تصور ( 16 )

بوہر نے بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں پرانے کوانٹم نظریے اور کلاسیکی میکانیات کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کے حل کے طور پر ایک قیاس پیش کیا تھا جسے بوہر کا اصول مطابقت بھی کہتے ہیں۔ یہ اصول کسی عمومی طبیعی قانون کے بجائے محض ایک قیاس پر مبنی تھا لیکن یہ ایسا قیاس ہے جس کے لئے طبیعیات اور ریاضی سے وافر آگہی ہونا لازمی ہے وگرنہ اس کے سطحی معنی سے غلط نتائج دریافت کرنے کا

Read more

حرکت کا سائنسی تصور ( 15 )

ورنر ہائزنبرگ (متوفی 1976 ء) جرمنی میں پیدا ہوا اور میونخ یونیورسٹی میں سومرفیلڈ کا شاگرد تھا۔ عالم شباب میں اس نے افلاطون کی کتاب ٹیمئیس کا مطالعہ کیا جس سے وہ شدید متاثر تھا۔ افلاطون کے ہاں دنیا کے تمام مظاہر کو سمجھنے کے لئے مخصوص جیومیٹری رکھنے والے چند اجسام کافی تھے جن کی مختلف سمٹریز کو استعمال میں لا کر متعدد اشیاء کی وضاحت کی جا سکتی تھی۔ افلاطون کا ریاضیاتی، یا زیادہ درست کہیں تو ہندسی

Read more

حرکت کا سائنسی تصور ( 14 )

  1909 ء میں آئن سٹائن نے سالزبرگ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں ایک با اثر مقالہ پیش کیا جس میں اس نے روشنی کے کوانٹا کی حقیقت اور توانائی کے بطور لہر و ذرہ دوہرے کردار کو قبول کرنے کی ضرورت پر بحث کی۔ سالزبرگ میں پلانک اور آئن سٹائن کے مابین کوانٹم نظریے کو لے کر کافی دلچسپ بحث ہوئی کیونکہ پلانک، روشنی پر میکسویل کے کلاسیکی نظریہ کا قائل تھا۔ ولندیزی ماہر طبیعیات نیلز بوہر (متوفٰی

Read more

حرکت کا سائنسی تصور ( 13 )

کسی بھی عنصر کا کیمیاوی طور پر ایک خالص نمونہ لیں اور اسے اتنا گرم کریں کہ یہ چمکنے لگ جائے۔ اب اس سے نکلنے والی روشنی کو ایک باریک سوراخ سے اور پھر ایک پرزم سے گزاریں۔ پرزم روشنی کی شعاعوں کو ایک بینڈ میں پھیلا دے گا جس میں فریکوئنسی ایک طرف سے دوسری طرف یکساں طور پر بڑھتی ہے (یا مساوی طور پر، طول موج کم ہوتی ہے ) اور یوں روشن و منفرد لکیروں کی ایک

Read more

حرکت کا سائنسی تصور ( 12 )

1824 ء میں، ایک نوجوان فرانسیسی انجینئر، سادی کارنوٹ (متوفٰی 1832 ء) نے حرارت سے چلنے والے انجن کی کارکردگی کی حدود کا ایک اہم تجزیہ شائع کیا۔ حرارت والے انجن ایندھن سے خارج ہونے والی حرارت کو کارآمد میکانکی توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ کارنوٹ کے بعد ، انیسویں صدی کے وسط میں کئی دیگر لوگوں نے کچھ مرکزی تصورات کو تیار کیا جنہیں اب ہم کلاسیکی حرحرکیات (تھرموڈائنامکس) کہتے ہیں۔ ان تصورات میں درجہ حرارت، توانائی، حرارت اور

Read more

حرکت کا سائنسی تصور (11)

انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں فزکس اور کیمسٹری کے نظریات نے تکنیکی اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ مگر اس صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ حرارت، روشنی، بجلی، مقناطیسیت اور مادے و توانائی کے تعاملات کی بہتر تفہیم کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ اکثر اہم تصورات قدرتی مظاہر کی تفہیم کے نتیجے میں سامنے آئے۔ ایسا ہی ایک مسئلہ مختلف اجسام کو گرم کرنے سے روشنی کے اخراج کو سمجھنا تھا۔ جیسے کہ لوہے کو گرم کریں

Read more

حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ دہم

کلاسیکی میکانیات کا اصول ہے کہ خارجی قوت کی عدم موجودگی میں چیزیں حرکت کے لئے ایسا راستہ اپناتی ہیں جو حرکت کے نقطہ آغاز سے نقطہ انجام تک سب سے مختصر فاصلہ ہوتا ہے۔ اقلیدیسی مکاں میں دو نقاط کے درمیان مختصر ترین فاصلہ سیدھی لکیر ہوتا ہے۔ لہذا، اقلیدیسی مکاں میں خارجی قوتوں کی عدم موجودگی میں چیزیں سیدھی لکیرپر چلتی ہیں۔ کسی خارجی قوت کی موجودگی میں حرکت کرتی چیز میں اسراع (ایکسلریشن) پیدا ہوتا ہے جو

Read more

حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ نہم

چوتھی صدی قبل مسیح میں لکھی گئی اقلیدس کی کتاب ’عناصر‘ کو اٹھارہویں صدی عیسوی تک علم ہندسہ کی سب سے اہم اور بنیادی کتاب سمجھا جاتا تھا۔ اقلیدسی علم ہندسہ یا یوکلیڈین جیومیٹری، جسے بعض اوقات پیرابولک جیومیٹری بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسی جیومیٹری ہے جو مفروضوں کے ایک سیٹ پر مشتمل ہے جو پھر اقلیدس کے پانچ مسلمات پر مبنی ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں یعنی پلین جیومیٹری، جو کہ دو جہتی اقلیدسی جیومیٹری ہے، اور

Read more

حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ ہشتم

1907 میں خصوصی نسبیت کا نظریہ پیش کرنے کے دو سال بعد آئن سٹائن نے نسبیت کے اصول کو عمومی (جنرل ریلیٹوٹی) بنانے کی ٹھانی۔ عمومی نسبیت کی منطقی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ نیوٹن کی میکانیات اور خصوصی نسبیت، صرف ایسے فریمز آف ریفرنس ہی میں کارگر ہیں جو ساکن ہوں یا ایک دوسرے کے لحاظ سے یونیفارم موشن میں ہوں یعنی گلیلین ہوں۔ جبکہ ایسی کوئی منطقی وجہ نہیں ہے کہ فزکس کے قوانین صرف مخصوص

Read more

حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ ہفتم

آئن سٹائن کا نظریہ نسبیت، نیوٹن کی ذراتی میکانیات اور میکسول (متوفی 1879 ) کی فیلڈ تھیوری کی تطبیق کی کوششوں سے سامنے آیا۔ نیوٹن کا میکانکی تصور، زمان و مکاں کے مطلق ہونے پر مبنی تھا۔ نیوٹن نے حرکت کو مطلق اور نسبی میں تقسیم کیا۔ مطلق حرکت سے مراد جسم کی حرکت مطلق مکاں کے لحاظ سے ہونا ہے جبکہ نسبی حرکت، مختلف انرشیل فریمز کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ ایک انرشیل فریم سے دوسرے انرشیل فریم میں

Read more

حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ ششم

گزشتہ مضامین میں ہم نے نیوٹن کی میکانیات، ذرات کے ذریعے مظاہر فطرت کی وضاحت اور برقی و مقناطیسی قوتوں کی یکجائی میں فیلڈ اور پوٹینشل کے تعلق پر بات کی تھی۔ جس میں ہم نے یہ دیکھا تھا کہ مادی مظاہر کی وضاحت میں مابعدالطبعیاتی تصورات بری طرح ناکام رہے ہیں۔ نیوٹن کا عظیم کارنامہ ان مابعدالطبیعی تصورات کے بجائے قابل پیمائش ریاضیاتی مقداروں کی مدد سے دنیا کی وضاحت پیش کرنا تھا۔ اسی سلسلے میں اہم پیشرفت زمان

Read more

صوفی فوبیا اور جدید علوم

آج ہمارے ایک دیرینہ دوست جو کہ تصوف کے ایک سلسلے سے وابستہ ہیں، ان سے گفتگو ہو رہی تھی اور میں نے ان کو غوث پاک کی چٹکلوں بھری کرامات کی ایک ویڈیو دکھا دی۔ موصوف کہنے لگے کہ تمہیں ”صوفی فوبیا“ ہو گیا ہے۔ یہ اصطلاح میں نے زندگی میں پہلی دفعہ سنی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ آج کل فوبیا کی اصطلاح مغرب میں عام ہے اور ہمارے لوگ بھی اس کو

Read more

فکر اقبال اور جدید سائنس

علم کے حصول میں حواس اور عقل کا استعمال جدید سائنس کی دین ہے۔ اہل مغرب نے خود کو روحانیت اور کشف و الہام سے آزاد کر کے حسی مشاہدات پر مبنی عقلی اصول قائم کیے اور اپنی تقدیر بدل ڈالی۔ آج مغربی اقوام، علمی اعتبار سے دنیا میں قائدانہ صلاحیت کی حامل ہیں۔ لیکن ایک مغالطہ عام ہے کہ سائنس میں عقلی استدلال صرف ریاضی اور منطق کے اصولوں کی مدد سے ہوتا ہے۔ جدید سائنس میں صرف مضبوط

Read more

حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ پنجم

نیوٹن کی قوتوں کی میکانیات کے بعد توانائی کی میکانیات میں لگرانج نے 1762 کے قریب ایک سکیلر مقدار یعنی لگرانجین کو متعارف کروایا جس کی قیمت، توانائی کی دونوں قسموں یعنی حرکی اور پوٹینشل توانائی کے فرق کے برابر ہے۔ پھر اس پر کم سے کم ایکشن کا اصول منطبق کرنے سے حرکت کی نئی مساوات قائم ہوتی ہے جسے اؤلر لگرانج مساوات کہا جاتا ہے۔ لگرانج کی مساوات بھی نیوٹن کی حرکت کی مساوات کی طرح دو درجی

Read more

حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ چہارم

نئی فزکس میں بنیادی تصور فورس یا خارجی قوت کا تصور ہے۔ نیوٹن کے تین قوانین حرکت دراصل کسی بھی مظہر میں شامل عمل خارجی قوتوں کو درستی سے معلوم کرنے کا کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری اہم چیز تمام اشیاء کو ذرات پر مبنی قرار دینا ہے۔ جیسے کشش ثقل کے قانون کے لئے یہ فرض کیا جاتا ہے کہ تمام ذرات جو کچھ کمیت رکھتے ہیں ان کے درمیان کشش کی قوت پائی جاتی ہے جو

Read more

حرکت کا سائنسی تصور – حصہ سوم

نیوٹن کے آفاقی کشش ثقل کے قانون نے سیاروں کے مداروں کا حساب لگانا اور فلکیاتی واقعات کی پیش گوئی کرنا ممکن بنایا جس کے نتیجے میں نیپچون کی حتمی دریافت اور بیرونی خلا کی تلاش شروع ہوئی۔ نیوٹن کے حرکت کے قوانین انجینئرنگ کے بنیادی اصول ہیں، جو ہمیں پلوں سے لے کر خلائی جہاز تک ہر چیز کو درستگی کے ساتھ ڈیزائن کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس کے تحقیق کے طریقوں اور ریاضی کی مشق نے سائنس

Read more

حرکت کا سائنسی تصور (2)

ٹائیکو براہی نے 1572 میں ہونے والے سپرنووا دھماکے کا مشاہدہ کیا۔ اور یونہی 1604 کے مشہور کپلر سپرنووا کا مشاہدہ گلیلیو تک پہنچا۔ گلیلیو کی تجرباتی ذہانت اور علمی دیانت داری نے اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ ارسطو کے برعکس آسمانی اجسام ناقابل فنا نہیں ہیں۔ گلیلیو نے ہی اپنی بنائی ریفریکٹو دوربین جو کسی شے کو قریب تیس گنا بڑا دکھا سکتی تھی، کی مدد سے 1609 میں چاند کی سطح کا بغور مشاہدہ کیا بتایا کہ

Read more

حرکت کا سائنسی تصور حصہ اول

سائنس کا تصور حرکت سولہویں صدی عیسوی میں کوپرنیکس، کپلر اور گلیلیو سے ہوتے ہوئے نیوٹن کے قوانین حرکت اور میکانکی فلسفے کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ نیا تصور حرکت، قدیم فلسفے و جدید سائنس کے درمیان واضح حد بندی کرتا ہے۔ قدیم یونانی، بالخصوص ارسطوئی فزکس میں پائے جانے والے ابہام کی جگہ واضح اور قطعی مشاہدات نے اس نئے تصور کو جنم دیا۔ جدید سائنس نے قرون وسطی کے انسان مرکز نظریات پر کاری ضرب لگائی۔ قدیم

Read more

حرکت جوہری ایک فرسودہ خیال ہے!

دنیا میں ہر شے ایک دوسرے کے لحاظ سے مکانی اعتبار سے اپنی جگہ تبدیل کرتی نظر آتی ہے۔ کسی رات کا کھلا آسمان جس میں شہروں کی روشنیاں اور آلودگی نہ ہو، رنگ برنگ اور بے بہا اجرام فلکی سے مزین نظر آتا ہے۔ مختلف کہکشائیں ہیں جن میں اربوں ستارے اپنی اپنی کہکشاؤں کے مرکز جنہیں galactic center کہا جاتا ہے، کے اردگرد حرکت کر رہے ہیں۔ یونہی کچھ ستارے ایسے ہیں جن کے گرد سیارے planets مداروں

Read more

نظری تصوف : اک تعارف (3)

گزشتہ دو مضامین میں ہم نے تصوف کی تحریک کا مسلم دنیا میں آغاز اور گیارہویں صدی عیسوی تک اس کے ارتقاء اور پھیلاؤ پر بات کی تھی۔ جس میں یہ دیکھا تھا کہ کیسے اخلاق اور روحانیت سے متعلق صوفیوں کے ہاں پہلے عملی اور بعد ازاں علمی پہلوؤں کی طرف پیشرفت ہوئی۔ ابن خلدون کے مطابق گیارہویں صدی سے صوفیوں نے اپنے خفیہ نظریات کو زیادہ زور و شور سے عام کرنا شروع کیا اور یوں دیکھتے ہی

Read more

کنڈینسڈ میٹر فزکس کا تعارف

مادی آلات کی دریافت اور پھر ان کی مدد سے مادے میں تبدیلیوں کا عمل انسانی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ پتھروں، ہڈیوں، چمڑے کے استعمال سے لے کر برتن بنانے اور دھات کاری جس میں تانبہ، سیسہ، لوہا اور پیریاڈک ٹیبل کے دیگر تمام عناصر کی دریافت اور ترتیب شامل ہے۔ یونہی برقیات، حرارت، روشنی، مقناطیسیت اور کیمیاوی تعاملات سمیت سپر کنڈکٹر اور سپر فلائڈ کی دریافت، پلاسٹک، سیرامک، گرافین اور حالیہ وقتوں میں ٹوپولوجیکل انسولیٹر بھی شامل ہیں۔

Read more

جدید دور میں فلسفے کا مقام

میرے دیرینہ دوست واقف ہیں کہ مجھے فلسفے سے شدید دلچسپی رہی ہے اور ایک عرصہ تک فلسفیانہ گفتگو میری پسندیدہ ترین گفتگو رہی ہے۔ میں نے فزکس جیسے مشکل مضمون کا انتخاب بھی شاید فزکس کے فلسفے سے متاثر ہو کر کیا تھا۔ اگرچہ میرے دیگر ہم جماعتوں کے برعکس میرے پاس کسی بھی پروفیشنل ڈگری یا انجینئرنگ کے آپشن کافی حد تک کھلے تھے لیکن مجھے فطرت کے اسرار و رموز کھوجنے میں سائنسی طریقہ کار نے اوائل

Read more

نظری تصوف – مکاتب بغداد و خراسان: ایک تعارف (2)

گزشتہ مضمون میں ہم نے تصوف کے تعارف پر مختصر بات کرتے ہوئے ذکر کیا تھا کہ دسویں اور گیارہویں صدی عیسوی تک ایک بڑی تعداد میں صوفیاء کے نظریات پھیلنا شروع ہو چکے تھے۔ ان میں سے چند ایک بڑے صوفیاء نے تصوف کے پس منظر میں اپنے نظریات کو کتابوں کی شکل میں پیش کرنا شروع کر دیا تھا اور یوں وقت کے ساتھ نظری تصوف نے دو بڑے مکاتب یعنی مکتب خراسان اور مکتب بغداد کو جنم

Read more

نظری تصوف : اک تعارف (1)

جدیدیت کے پیدا کردہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس نے عقلی علوم خاص طور پر فلسفہ اور سماجی علوم میں جدید سائنس سے کافی اثر قبول کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ گزشتہ چار صدیوں میں سائنس کی انگنت ایجادات اور قدیم فلسفیانہ نظریات کی شکست و ریخت کے بعد ان میں رد و بدل ہونا ہے۔ قدیم یونانی فلسفے نے مسلم زریں دور میں کئی صدیاں اہل عقل و دانش کی رہنمائی کی۔ کہیں

Read more

فزکس کا نوبل انعام برائے 2022 ء

اس سال کا فزکس کا نوبل انعام تین لوگوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں پہلے الیں آسپے (Alain Aspect) ہیں جو 1947 میں فرانس میں پیدا ہوئے اور پیرس سوڈ یونیورسٹی، اورسے فرانس سے انہوں نے 1983 میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ آج کل وہ ایکول پولی ٹیکنیک فرانس میں فزکس کے پروفیسر ہیں۔ دوسرے جان ایف کلاؤزر (John F Calusar) ہیں جو 1942 میں پاسیدینا کیلے فورنیا میں پیدا ہوئے اور 1969 میں کولمبیا یونیورسٹی نیویارک

Read more

حرارت کی میکانیات پہلی قسط

ایک کمرے میں سگریٹ کے دھویں کے مالیکیولوں کی رفتار آواز کی رفتار سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ پھر سگریٹ کا دھواں آواز سے زیادہ رفتار سے کیوں نہیں پھیلتا؟ 1857ء میں روڈولف کلاشیس نے اپنے پرچے ”حرارت نامی حرکت کی نوعیت“ میں حرارت کی پیمائش یعنی درجہ حرارت کو گیس مالیکیولوں کی حرکت سے منسوب کرنے کی کوشش کی۔ اس نے پہلی مرتبہ یہ تجویز پیش کی کہ مالیکیول صرف خطی حرکت نہیں بلکہ دائروی اور غزال حرکت بھی

Read more

فزکس کے شعبہ جات

اگرچہ فزکس کا تعلق مادے اور توانائی اور ان کے باہمی تعاملات سے ہے لیکن دراصل اس کا فلسفہ بنیادی طور پر مادے کے قوانین دریافت کرنا ہے۔ کسی بھی شعبہ علم کے مانند فزکس کی ایک تاریخ بھی ہے اور اس کا ایک خاص طریقہ کار بھی ہے۔ اس طریقے کار میں منطقی اصولوں کی مدد سے تجربات اور مشاہدات کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ ان تجربات کی روشنی میں نئے

Read more

ڈارون سے دریدا تک

ہم انسان جب بھی کوئی فعل سرانجام دیتے ہیں تو ہمارے پیش نظر ایک مقصد ہوتا ہے۔ سماج ایسے ہی تشکیل پاتے ہیں۔ قانون اور آئین بنانا، اس کے نفاذ کے لیے ادارے تشکیل دینا، نظریات قائم کرنا، عمارتیں بنانا، ادبی فن پارے تخلیق کرنا یعنی کہ ہر فعل میں کسی نہ کسی مقصد کی موجودگی پائی جاتی ہے۔ گویا جینیاتی سطح پر بے مقصد اور اتفاقی تبدیلیوں نے بالآخر ایسے جاندار تشکیل دیے ہیں جو با مقصد افعال سرانجام دیتے ہیں۔ انسان میں مقصد یا معنی کی قوت کی موجودگی ہی نے مختلف متھالوجی، مذاہب اور نظریات و ادبیات کو تشکیل دیا ہے۔

Read more

فزکس نوبل انعام 2020ء

،۔

اس سال 2020ء کے نوبل انعام برائے طبیعات کا اعلان ہوتے ہی دل میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی، کیوں کہ میرا اپنا ذاتی میلان اور طبیعات میں تحقیق اسی شعبے میں رہی ہے۔ کائنات کی گہرائیوں میں جھانکنے والے تین سائنسدانوں کو یہ انعام ’رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز‘ کی جانب سے ”کائنات کے سب سے پراسرار مظہر“ کی دریافت کے لئے پیش کیا گیا۔ اس انعام کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں سے پہلا حصہ مشہور پروفیسر سر راجر پینروز کو دیا گیا، جن کا تعلق آکسفورڈ یونیوسٹی سے ہے۔

Read more

انسان کا ذہنی ارتقا

جس وقت انسان بولنے اور سمجھنے کی عمر کو پہنچتا ہے تو سیکھنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ انسانی بدن کی ترقی جس میں مختلف اعضاء کی بڑھوتری کے علاوہ دیگر قوائے انسانی کا بیدار ہونا شامل ہے، اس کے ساتھ ہی ذہن بھی ترقی کرنا شروع کرتا ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ ابتدائی عمر میں ایک شیر خوار بچے کا ذہن ایک ایسی تختی کی مانند ہوتا ہے جس پر لکھے حروف روشن نہیں ہوتے جیسے کہ سفید روشنائی سے کسی سفید کاغذ پر لکھا گیا ہو۔

اس کے باوجود چند قوٰی ایسے ہوتے ہیں جن کا اظہار بولنے سننے کھانے پینے اور حرکت کرنے جیسے عوامل میں ہورہا ہوتا ہے۔ خوراک کے ساتھ ہی ساتھ بچے میں موجود حواس کے ذریعے اس کے ذہن پر نقوش مرتب ہونا شروع ہوتے ہیں جن کا اظہار وہ اپنی فطری قوتوں کی مدد سے کرتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ لفظ کو سمجھنے اور الفاظ کو بطور علامت معنی میں تبدیل کرنے کے قابل ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ذہن میں ایک انقلابی ترقی ہوتی ہے اور وہ تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے لگتا ہے۔

Read more

کثیر درجاتی کائنات

انسان اپنے ارد گرد کی دنیا کو جاننے کے عمل میں مصروف ہے۔ اس کا یہ عمل ایک عرصے سے جاری ہے۔ شاید تب سے جب انسان چوپائے سے دو پایہ بنا۔ اپنے پیروں پر کھڑا ہوا۔ اس کے ہاتھ آزاد ہوئے اور دماغ کو وہ قوت ملی جو باقی چوپایوں کا نصیب نہیں تھی۔ اس نے سوچنا شروع کیا اور دنیا کے مظاہر میں ایک ترتیب دیکھی جسے وقت کے ساتھ ساتھ قوانین فطرت کی شکل دی جانے لگی۔ قدیم تہذیبوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی قریب تک کا انسان اس خیال تک پہنچ چکا تھا کہ یہ ساری کائنات کسی ایک اصول کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ یہ ایک اصول کبھی ایک خدا کے تصور کی صورت سامنے آیا تو کبھی فلسفیوں کے نظریات میں عقل اول یا مادہ کی شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ یہ ایک اصل ہی ہے جو کثیر صورتیں بن کر انسانی حواس میں اپنا ظہور کرتی ہے۔

Read more

گاڈ پارٹیکل اور فزکس کا خاتمہ؟

4 جولائی 2012 ء ذراتی طبیعات کی دنیا کا ایک یادگار دن ہے کہ جب قریب پانچ دہائیوں پر مشتمل انتظار ختم ہوا اور ذرات کو کمیت دینے والا ذرہ جسے میڈیا میں ’خدائی ذرے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے دریافت ہوگیا۔ اس دریافت نے اس اہم ترین نظریے کی تکمیل کر دی جس کا خواب کبھی آئن سٹائن نے دیکھا تھا اور اسے شرمندہ تعبیر نہ کر سکا تھا۔ اور جس نظریے کی درست بنیادیں گزشتہ صدی کی ابتدائی دہائیوں میں پال ڈیراک اور رچرڈ فائن مین جیسے نابغوں نے رکھی تھیں۔

Read more

شعور اور وجود: مظہریت پسندی

انسانی شعور کیا ہے؟ اس کی بنیادی ساخت کیا ہے؟ اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟ یہ کچھ ایسے دشوار سوالات ہیں جن کا جواب ہر عظیم مفکر نے دینے کی کوشش کی ہے۔ کبھی شعور یا ذہن کو اصل حقیقت مان کر مادے کو اس کا ایک مظہر قرار دیا گیا ہے تو کبھی مادے کو اصل مان کر شعور کو اس کا ایک مظہر قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ صدی کے دوران سائنسی آلات کی ترقی اور عمومی

Read more

فزکس نوبل انعام 2019 ء

امسال سائنس کا سب سے اعلٰی انعام یعنی نوبل انعام دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نوبل انعام کی کل مالیت نو ملین سویڈش کرونہ ہے جو کہ پاکستانی کرنسی کے مطابق چودہ کروڑ ستائیس لاکھ بیالیس ہزار چھ صد ایک روپے بنتی ہے۔ اس کا آدھا حصہ کاسمولوجی یعنی علم الکونیات کے شعبہ میں دیا گیا جسے کینیڈین سائنسدا ن جیمز پیبلز (James Peebles) نے وصول کیا۔ جیمز پیبلز کی پیدائش کینیڈا میں 1935 ء میں ہوئی۔ 1962

Read more