انڈیا پاکستان دوستی کیوں ضروری ہے؟
کُچھ روز قبل پاکستان کی سرکردہ کاروباری شخصیات نے عارف حبیب کی سربراہی میں وزیرِ اعظم پاکستان سے ملاقات کے دوران بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ تاجر برادری کے مطابق چین سمیت پوری دنیا بھارت سے تجارت کر رہی ہے تو پاکستان کے لیے ایسا کرنے میں کون سی قباحت ہے۔
2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو کم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تجارت روک دی تھی۔ اس وقت بھارت اور پاکستان میں ہائی کمشنرز کے عہدے خالی ہیں ڈپٹی ہائی کمشنر اور چارج ڈی افیئرز تعینات کیے ہیں۔
دونوں ممالک کسی بھی غیر مشروط امن مذاکرات یا دوطرفہ بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ حال ہی میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ معاملات حال کرنے کو تیار ہے۔ پاکستان کو سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنا ہو گا۔ اسی طرح، اسلام آباد نے اگست 2019 میں ہونے والی آرٹیکل 370 کی ہندوستانی منسوخی کو کالعدم کرنے پر بات چیت سے مشروط کیا ہے۔
منقطع سفارتی تعلقات کے باوجود، پاکستان نے 2023 میں مختلف مذہبی تہواروں اور مواقع میں شرکت کے لیے ہندوستانی سکھ اور ہندو یاتریوں کو پاکستان آنے کے لیے 6,824 ویزے جاری کیے اور 478 ہندوستانی ماہی گیروں اور نو ہندوستانی شہریوں کو بھی رہا کیا ہے۔ 2023 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے مفاہمت کی سختی سے تعمیل ہوئی۔ گزشتہ سال کوئی بڑا واقعہ، جھڑپیں یا فائرنگ کی اطلاع نہیں ملی۔ دونوں ممالک نے جوہری تنصیبات کی فہرستوں کے تبادلے کے پروٹوکول پر عمل کیا۔
ہندوستان اور پاکستان کو سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مختلف اقدامات جیسے ویزا نظام کو نرم کرنا، مذہبی سیاحت کو فروغ دینا، عوام سے عوام کے رابطے کی حوصلہ افزائی کرنا اور دوطرفہ تجارت کو دوبارہ شروع کرنا شامل ہے۔ مزید، دونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، اور انسانی ترقی کے اشاریوں میں بہتری پر کام کرنے کے لیے طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔ جنوبی ایشیا موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ تباہ کن اثر سندھ طاس معاہدے پر پڑے گا۔ دونوں ممالک میں سماجی و اقتصادی استحکام کا انحصار دریائے سندھ کے بے ضرر بہاؤ پر ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 2050 تک، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے، سندھ طاس دریا کے بہاؤ کے اوقات اور بہاؤ میں تبدیلی دونوں ممالک میں پانی کی اس قلت کا باعث بنے گئی۔ دونوں ممالک کو آبادی میں بے تحاشا اضافے کا سامنا ہے جو پانی کے مسئلے کو مزید سنگین کرتا ہے۔
اس باہمی تشویش اور غیر یقینی کے باعث مستقبل میں دونوں ممالک کو پانی کے لیے مشترکہ انتظام میں ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی۔ دونوں ممالک کے سرحدی علاقے سیکورٹی کے تصورات اور حکومتی ترجیحات کی وجہ سے سماجی ترقی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہیں جس کا اثر ان علاقوں کے مقامی لوگوں پر پڑا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان کے سرحدی علاقوں جیسے بہاولپور، بہاولنگر، حیدر آباد اور پاکپتن، اور بھارتی ریاستوں جیسے راجستھان میں انسانی ترقی کے اشاریے اچھے نہیں ہیں۔ پاکستان اور بھارت مشترکہ طور پر ان خطوں کو وسیع تر ترقی فراہم کر کے سلامتی کے تصورات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔
جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کی بحالی امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔ 2016 میں اڑی حملہ جس میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ہندوستان نے پاکستانی ریاست پر ملوث ہونے کا الزام لگا کر پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی سارک کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ بائیکاٹ کو بنگلہ دیش، بھوٹان اور افغانستان نے بھی اپنایا، جس کے نتیجے میں سارک کو ملتوی کر دیا گیا۔ اس تعطل کے باعث جنوبی ایشیا دنیا بھر میں سب سے کم مربوط خطوں میں سے ایک بن گیا ہے، جہاں ممالک وبائی امراض اور بحرانوں کے خلاف اجتماعی طور پر ردعمل ظاہر کرنے سے قاصر ہیں جو سب کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان برف کو توڑنے کے لیے عملی طور پر سارک سربراہی اجلاس کی میزبانی کی پیشکش بھارت کو کر سکتا ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ ان مسائل کو اجاگر نہ کرے جو پاکستان سے متعلق ہیں۔ یہ دوسرے شعبوں میں تعاون کی طرف متعدی طور پر ایک آغاز ہو گا۔
2005 میں، پاکستان اور ہندوستان کی سیاسی قیادت اعتماد سازی کے لیے نے سری نگر سے مظفرآباد بس سروس شروع کی تھی۔ اس راستے سے نہ صرف سیاحوں اور کنبہ کے افراد کو سرحد کے اس پار ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت دی گئی بلکہ مقامی تجارت کو بھی چلنے دیا گیا۔ 2019 سے، یہ بس سروس غیر فعال ہے۔ چونکہ دونوں ممالک 2021 سے جنگ بندی مفاہمت پر عمل پیرا ہیں، بس روٹ دوبارہ کھلنے کی امید ہے۔
پاکستان اور بھارت کو عوام سے عوام کے روابط بڑھانے کے اقدام پر غور کرنا چاہیے۔ جن میں باہمی کرکٹ سیریز اور پروفیشنل افراد کے باہمی روابط اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ مظفرآباد سے 50 کلومیٹر کی مسافت پر ایک تاریخی مقام شاردا پیٹھ ہے جسے شاردا یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔ یہ جگہ ہندوؤں میں مقدس ہے، اور گیارہویں صدی کی البیرونی کی تحریروں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ کرتار پور راہداری اقدام کی طرح، پاکستان شاردا پیٹھ کو سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دے سکتا ہے اور ہندوستان سے ہندو برادری کو مندر جانے کی اجازت دے سکتا ہے۔ امن راہداری کا یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں میں اضافہ کرے گا اور ایک پرکشش سرحدی سیاحتی مقام کے طور پر خطے کی صلاحیت کو بھی فروغ دے گا۔ امید ہے کہ 2024 اور اس کے بعد بھی ان بڑے اور چھوٹے اقدامات سے دونوں ممالک خطے میں امن اور ہم آہنگی کو فروغ دے سکتے ہیں۔


