جنگِ تربوز
آج ہم آپ کو ”جنگِ تربوز“ کے بارے میں بتائیں گے۔ اس جنگ کا ذکر آپ کو ”مطالعۂ وطن“ کی کسی کتاب میں نہیں ملے گا۔ اس لیے کہ یہ جنگ ہماری سرزمین پر نہیں لڑی گئی تھی۔ یہ جنگ امریکہ اور پانامہ کے مابین ہوئی تھی اور اس کا محرک تیل نہیں، تربوز تھا۔ یہ پندرہ اپریل، اٹھارہ سو چھپن عیسوی کی ایک شام کا واقعہ ہے۔ پانامہ کے بازار سے ایک امریکی گزر رہا تھا۔ بیچارے نے تھوڑی سی پی ہوئی تھی۔ راستے میں اسے تربوزوں کا ایک چھوٹا سا پہاڑ دکھائی دیا۔
تربوز دیکھ کر اس کا جی للچایا اور منہ میں پانی بھر آیا۔ یہ بات نہیں کہ اس وقت اس کی گرہ میں مال نہیں تھا مگر اس کی غیرتِ قومی کو یہ گوارا نہیں تھا کہ دام چکا کر تربوز نوشِ جاں کیا جائے تاہم اس نے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانامہ کے مقامی تربوز فروش سے شائستگی سے استفسار کیا ”عدداً بیچتے ہو یا وزناً؟“
”ابے، میں تربوز بیچتا ہوں“ اس نے گنوار لہجے میں جواب دیا۔
”صرف بیچتے ہو یا کبھی خوش بھی کیا ہے دل کسی رندِ شرابی کا؟“
اس سوال کے جواب میں تربوز فروش نے کوئی ایسی بات کہی جو بہت دل شکن تھی جس پر پہلے پہل دونوں کے مابین توتکار ہوئی، پھر تھوڑی سی دھینگا مشتی ہوئی اور پھر کچھ ہاتھ پائی ہوئی۔ اس دوران میں پانامہ کے شہری، اپنے ہم وطن کی مدد کو لپکے تو بازار میں موجود امریکی بھی خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے۔ بازار، میدانِ کارزار بن گیا۔ اس جنگ میں جہاں اطراف کا جانی نقصان ہوا، وہاں تربوزوں کی ایک کثیر تعداد بھی شدید زخمی ہوئی۔ آخرکار دونوں حکومتوں کے درمیان مذاکرات ہوئے اور امریکہ کو تاوان ادا کیا گیا۔ چِت بھی میری، پَٹ بھی میری، انٹا میرے باپ کا۔
تربوز ایک کارآمد پھل ہے۔ ہمارے ہاں لڑکے بالے، کھانے کے بعد اس کے چھلکے کا ہیلمٹ بناتے ہیں اور اسے پہن کر موٹر سائیکل چلاتے ہیں۔ سر بھی ٹھنڈا رہتا ہے اور چالان بھی نہیں ہوتا۔ زمانۂ قدیم میں اہلِ مصر انہیں توشۂ آخرت کے طور پر فراعنہ کے مقابر میں رکھتے تھے۔ امریکہ میں ہر سال ”میلۂ تربوزاں“ منعقد ہوتا ہے جس میں تربوزوں سے مختلف کھیل کھیلے جاتے ہیں۔ ایک کھیل ”تخم افشانی“ بھی ہے۔ اس میں تربوز کے بیجوں کو منہ میں رکھ کے پھونک کے زور سے دور پھینکا جاتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم تو پھونکوں سے چراغ تک نہیں بجھا سکتے مگر وہاں ایسے ”منہ زور“ افراد آتے ہیں جو بیج کو پچاس قدم دور پھینک دیتے ہیں۔
فلسطین میں اہلِ دل نے تربوز کو مزاحمت کا نشان بنا دیا ہے۔ پرچم پر پابندی لگائی گئی تو عوام تربوز کے ٹکڑے ہاتھ میں تھام کر سڑکوں پر نکل آئے کہ اس میں ”چارسین“ ہوتے ہیں، یعنی۔ سرخ، سبز، سفید اور سیاہ۔ فلسطین کے پرچم میں بھی یہی چار عناصر ہیں۔ فلسطین کی مصوری میں ”تربوز آرٹ“ کو بہت مقبولیت حاصل ہے اور وہاں مہ رخوں سے زیادہ تربوزوں کی مصوری کی جاتی ہے۔ اہلِ دل کے لیے لیلائے وطن کا چہرہ، روئے لیلیٰ سے زیادہ حسین ہوتا ہے۔
علمِ طب کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ مریضوں کو ٹیکے لگائے جاتے ہیں لیکن ہمارے ملک کے ایک ڈاکٹر صاحب کو جانے کیا سوجھی ہے کہ انہوں نے کڑکتی دوپہر میں تربوز فروشوں کو ٹیکے لگانا شروع کر دیے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ تربوز فروش، سرخ و شیریں محلول ٹیکوں میں بھر کے بیمار تربوزوں کو شفائے کاملہ عطا کرتے ہیں۔ اب ہر کوئی ہماری طرح فلسفہ اور سائنس کے بحرِ علوم کا شناور تو ہوتا نہیں، دنیا میں خدا کے سادہ دل بندے بھی موجود ہیں جو اس رنگ سازی کے نظریے کے قائل ہو کر تربوز دشمنی پر اتر آئے ہیں۔
اب وہ نہ صرف خود تربوز کھانے سے گریز کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی نصیحت کرتے ہیں کہ یہ ثمرِ ممنوعہ ہے، اس پھل کو مت خریدنا ورنہ جملہ امراضِ شکم میں مبتلا ہو جاؤ گے، بار بار بیت الخلا جاؤ گے اور دنیا میں ”بیت الخلائی مخلوق“ کہلاؤ گے۔ ہائے، ہمیں اپنا ہم نوا مارک ٹوین یاد آ رہا ہے جو نیویارک کے ایک گلشن میں خوابیدہ ہے۔ مارک ٹوین کا تربوز کے بارے میں ایک تروتازہ قول ہے کہ جب انسان تربوز کا ذائقہ چکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے جنت میں یہی پھل کھاتے ہوں گے۔
مارک ٹوین ایک ’انسان دوست تربوز‘ تھے۔ اوہو، ہم الٹا کہہ گئے، ہمارے مطلب یہ ہے کہ مارک ٹوین ایک ’تربوز دوست انسان‘ تھے۔ وہ لڑکپن میں نہ صرف مجنوں پہ سنگ اٹھاتے تھے بلکہ موقع پاتے ہی پرائے کھیتوں سے تربوز بھی اٹھا لیتے تھے۔ وہ رات کی تاریکی میں دشمن کے کھیتوں پر شب خون مارتے تھے اور یہ واردات اس صفائی اور ہنرمندی سے انجام دیتے تھے کہ کسان کے کتوں کو بھی خبر نہ ہوتی تھی۔ ہمارا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے بھی لڑکپن میں کسی دہقان کی کھیتی سے تربوز چرانے کی کوشش کی ہو گی مگر دھر لیے گئے ہوں گے۔
ظاہر ہے دہقان نے اس پیش دستی پر دھول دھپا بھی کیا ہو گا۔ ڈاکٹر صاحب نے بڑے ہو کر شاید وہی پرانا حساب برابر کیا ہے اور ایسا بیان داغا ہے کہ مشتری، ہوشیار ہو گئے ہیں اور تربوزوں کے قریب سے بے نیازانہ گزر جاتے ہیں۔ تربوز فروشوں کے کاروبار خاصے متاثر ہوئے ہیں اور ان کے چہرے، طیش سے تربوزوں کی طرح سرخ ہو گئے ہیں۔ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ اب عافیت اسی میں ہے کہ ’انجمن تربوز فروشاں‘ کے صدر، تربوزوں کا ایک ٹرک لے کر ڈاکٹر صاحب کے دولت خانے یعنی کلینک پر حاضری دیں، خطائے بزرگاں پر معافی مانگیں، گلوخلاصی کرائیں اور ان سے اپنے حق میں بیان دلوائیں تاکہ گلشن میں تربوزوں کا کاروبار چلتا رہے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ اگر اس نوعیت کے مذاکرات نہ کیے گئے تو ڈاکٹروں اور تربوز فروشوں کے درمیان ایک ”جنگِ تربوز“ ہو سکتی ہے۔

