چاؤ چترال کا

چار بجے ہم ریسٹ ہاؤس سے نکل آئیں۔ اب میں نے چترال کے ناک نقشے پر توجہ مرکوز کی۔ کوہ ہندوکش کے بلند و بالا پہاڑوں میں چاروں طرف سے گھری ہوئی یہ وادی اپنی چند خصوصیات کی بنا پر ہر سیاح کی توجہ فوراً اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ شور مچاتا کف اڑاتا دریائے چترال شہر کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔ چُیو پل پر کھڑے ہو کر شہر کا نظارہ کریں یا کسی اور جگہ سے شاہی مسجد کے بلند و بالا مینار اس کا مغلیہ طرز تعمیر اس کے شاندار گُنبد سنگ مر مر اور سرخ اینٹیں آپ کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مشابہت شاہی مسجد لاہور سے جوڑیں گے۔ کسی اونچی جگہ کھڑے ہو جائیں تو پچیس ہزار فٹ سے بھی بلند تر ترچ میر کی برف سے ڈھنپی چوٹی خوبصورت اور منفرد نظر آتی ہے۔
پروین نے گرو سری کی خریداری کرنی تھی ایک جنرل سٹور سے جب وہ دال چاولوں کے چکر میں اُلجھی۔ میں گھبرائی شاپنگ سے مجھے ہمیشہ کی چڑ ہے۔ میرے اُلجھے ہوئے استفسار پر وہ بولی تھی۔
”یار کالاش میں چیزیں بہت مہنگی ہیں یہاں سے لے جانے میں کافی بچت ہو جائے گی۔“
اُن سے ایک گھنٹے کی آوارہ گردی کا کہہ کر میں چُیو پل پر آ گئی۔ یہ پُل وزیراعظم بھٹو کے زمانے میں تعمیر ہوا۔ چُیو ایک کیلاشی شہری تھا۔
گدلے پانیوں والا دریائے چترال شور مچاتا بہتا ہے۔ دریا کے دائیں ہاتھ مستوج روڈ ہے جو بونی تک پکی اور شندھور تک کچی۔ بائیں ہاتھ ائر پورٹ روڈ ہے۔ پل کے ساتھ ہی پہاڑ کا جھکاؤ اتنا خطرناک ہے کہ بس یوں لگتا ہے جیسے ابھی لڑھک کر آپ کے اوپر آ جائے گا۔ یوں تیز بارش اور دھوپ سے اس کے کھوہ میں کھڑے ہو کر بچا جا سکتا ہے اکیلے ہونے کی صورت میں ائر پورٹ جانے والی کسی گاڑی میں مفت کی لفٹ بھی مل سکتی ہے۔ پل سے اتالیق بازار تک کا راستہ کوئی پون گھنٹے میں طے ہوا۔
بڑے بڑے دروازوں والی دُوکانیں اور لمبی لمبی داڑھیوں والے دکاندار گاہکوں کو نپٹانے میں مصروف تھے کہیں کہیں نو خیز گل رنگ چہرے بھی بھاؤ تاؤ کرتے نظر آتے تھے۔ بازار کی ایک نمایاں خوبی یہ تھی کہ ہر پچاس گز پر بازار کا نام تبدیل ہو جاتا ہے۔ شاہی بازار، کڑوپ رشت بازار، نیو بازار، اتالیق بازار۔
پجاروں کی جتنی فراوانی مجھے چترال بازار میں نظر آئی وہ میرے لیے حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ مسرت بخش بھی تھی۔ واپسی کے لئے میں نے ایک پجارو میں ہی لفٹ لی۔ چُیو پل اُتری اور پولو گراؤنڈ روڈ پر بڑھی جہاں میں پروین کو چھوڑ کر گئی تھی۔
ماشا االلہ چاول دالوں چینی اور دیگر الم غلم چیزوں سے بھرے اُسکے شاپر ایک نئی دکان کھولنے کا سماں پیدا کر رہے تھے۔ میری صورت پر نظر پڑتے ہی وہ چلائی۔
” سامنے والی دکان سے آدھ کلو آلو خرید لو رات کے کھانے کے لئے۔ “
”سبحان اللہ کتنا شاندار ڈنر ہو گا۔“ اپنے آپ سے کہتے ہوئے میں سبزی والی دکان کی طرف ہو لی۔ جب پاؤ بھر آلو تُل رہے تھے پروین نے میرے پاس آ کر مجھے مزید ایک نوید سُنائی۔ ”قریب ہی میں نے تنور دیکھا ہے۔ دو نان وہاں سے پکڑ لیں گے۔“
سوزوکی میں ہماری اور سامان کی لد لدائی کے ساتھ ساتھ دو نانوں کو بھی مکمل عزت و احترام کے ساتھ جگہ دی گئی۔
ریسٹ ہاؤس سنسان تھا۔ مرغن کھانوں والی فیملی کوچ کر گئی تھی۔ اور باورچی خانے میں اُلو بول رہے تھے۔ سرونٹ کوارٹر میں سے خانسامے کو ڈھونڈ کر لائی اور آلو اس کے حوالے کیے ۔ ایک نظر اُس نے مُجھ پر اور دوسری آلوؤں پر ڈالی اور سر جھکا کر چولہا جلانے لگا۔ اُسکی نگاہ مجھے کہہ گئی تھی ایسی شودی زنانیاں تو میں نے کبھی نہیں دیکھیں۔ گھی پیاز اور نمک اس نے لوگوں کا بچایا ہوا ڈالا آلو اور مرچیں ہماری ڈالیں۔ یوں ڈنر تیار ہوا۔ پروین نے چپہ کھایا میں نے آدھا اور جب باقی نان میں انہیں عنایت کرنے گئی تو دیکھا دونوں خانسامے دوپہر کا بچا ہوا مرغ گوشت اور پلاؤ کھا رہے تھے۔ کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے واپس آ گئی۔
غریبانہ سے ناشتے سے فراغت پاتے ہی میں پروین سے یہ کہتے ہوئے باہر نکل گئی کہ اب ائر پورٹ پر ملاقات ہو گی۔ پر وہاں جانے کی نوبت ہی نہیں آئی کہ کتابوں کی دکان پر دس بجتے ہی لوگوں کی آسمان کی جانب اٹھتی نگاہوں زبانوں اور ایک دوسرے سے یہ استفسار ”کیا فلائٹ آئی ہے؟“ نے مجھے سمجھا دیا کہ پروین کی دعائیں کام نہیں آئیں۔
اتالیق بازار کے پُل پر ریلنگ کے ساتھ ٹک کر اک ذرا میں نے نیچے بہتے نالے کے پانی کی روانی کو دیکھا۔ نگاہوں نے لشکارے مارتی دھوپ میں لا محدود وسعتوں والے شفاف آسمان کی سیاہی مائل نیلاہٹوں پر نظر کی۔ پروردگار کی رفعتوں اور عظمتوں کے اس پراسرار اور پُر ہیبت اظہار پر میری نظریں زیادہ دیر جمی نہ رہ سکیں فوراً ہی خوفزدہ سی ہو کر سکڑیں اور جھک گئیں۔
پتہ نہیں مجھے وہاں کھڑے کتنی دیر گزر گئی تھی پھر جیسے مجھے محسوس ہوا کہ کوفت بیزاری اور ڈپریشن سا بجلی کی کسی ننگی تار سے نکلتے مدھم کرنٹ کی طرح میرے سارے سریر میں دوڑنے لگا ہے۔ میں مفلوج ہو رہی ہوں۔ پروین عاطف کے پروگرام اور اس کے منصوبے مجھے اُن بونوں اور رسوں کی مانند نظر آرہے تھے جنہوں نے گلیور کو جکڑ کر زمین پر چاروں شانے چت گرا دیا ہو۔ میں زمانے بھر کی آپ پھُدری جب بھی باہر نکلی ہمیشہ اپنے حسابوں چلی۔
دائیں بائیں اور پیچھے نہیں دیکھا۔ آگے دیکھا۔ چترال کے نقشے اور لوگوں نے مجھے بتایا تھا کہ مجھے کہاں کہاں جانا چاہیے؟ اس وقت میرا جی چاہ رہا تھا کہ اڈے پر چلی جاؤں اور جو لاری گاڑی جہاں بھی کہیں جا رہی ہو اس میں لد جاؤں۔ شہزادہ مطاع الملک کے ہاں وادی شغور میں وادی گرم چشمہ وادی دروش بھرموغلشٹ جیسی دلآویز جگہیں۔ شندھور میلہ میں اپنی لا علمی سے مس کر بیٹھی تھی کہ جانتی ہی نہ تھی کہ ساڑھے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر شندھور جھیل کے ہمسائے میں وسیع و عریض سطح مرتفع پر کھیلے جانے والے پولو ٹورنامنٹ کو دیکھے بغیر آپ کا چترال آنا اور اس پر کچھ لکھنا ادھورا رہتا ہے۔
جاری ہے

