بچوں میں موبائل فون کی وجہ سے آٹزم جیسی علامات کا ظہور
کتابوں کی طرح ہے وہ بھی
الفاظ سے بھرپور مگر خاموش
میرا یہ ماننا ہے کہ بسا اوقات شاعر ایک مصرعے میں وہ کہہ جاتے ہیں جو کہ ایک افسانے یا کتاب میں بھی سمانا ناممکن لگتا ہے۔ اِس شعر کو پڑھنے کے بعد بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہم آٹزم کو بیان کے کرنے کے لیے بہت سی مشکل اصطلاحات اور تکنیکی وضاحتوں کا سہارا لیتے ہیں لیکن شاید اس شعر میں وہ تمام وسیع معانی سمو سے گئے ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ بچے جنہیں آٹزم ہے وہ اپنی سوچ نہیں رکھتے یا ان کے پاس شیئر کرنے کے لیے کچھ نہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں ان کے اظہار کے طریقے کی سمجھ نہیں۔ اسی لیے ان کے خیالات کی کتاب ہماری سمجھ سے پرے ہے۔
آٹزم کے بارے میں اب بہت کچھ لکھا اور بولا جانے لگا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے سن دو ہزار میں پہلی بار ایک ایسا بچہ دیکھا تھا تو میں حیران رہ گئی تھی۔ وہ ایک پہیلی تھا، خود میں گم سم رہنے والا۔ چھوا جان اس کو پسند نہیں تھا اور وہ تنگ جگہوں مثلاٗ کھڑکیوں کے کناروں اور کرسیوں کے بیک پر اتنی نفاست کے ساتھ چلتا تھا کہ ہم سب حیران ہو جاتے تھے۔
جب تحقیق کی تو پتا چلا کہ اس طرح کے بچوں کی دنیا میں شامل ہونے اور ان کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لیے مختلف طرح کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک ایسا ہی طریقہ تصاویر کے ذریعے رابطہ ہے۔ وہ بچے جو آٹزم کے ساتھ ہیں اور الفاظ کو رابطے کے لیے استعمال نہیں کر پاتے وہ سپیچ تھیراپی کے ذریعے تصاویر کی مدد سے اپنی ضروریات اور خیالات کا اظہار کرنا سیکھ جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں تصاویر کے ساتھ ساتھ موبائل ایپس بھی مارکیٹ میں موجود ہیں جن کو وہ رابطے میں سہولت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسے سافٹ وئیر بھی موجود ہیں جو الفاظ اور تصاویر کو آواز میں تبدیل کر دیتے ہیں تاکہ وہ افراد جو آٹزم کے ساتھ ہیں وہ دیگر لوگوں کے ساتھ بات چیت کر سکیں۔
آٹزم کی وجوہات کے بارے میں کچھ بھی وثوق سے کہنا مشکل ہے لیکن تحقیق کی روشنی میں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس کی بنیاد انسان کے اعصابی نظام میں ہوتی ہے۔ کئی بار آسان فہم زبان میں اس کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ آٹزم عام لوگوں سے مختلف آپریٹنگ سسٹم ہے اس لیے ایسے لوگ معلومات کو مختلف طریقے سے پراسس کرتے ہیں اور ان کے رابطے کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ آٹزم کی سب سے عام علامات میں دوسرے لوگوں کے ساتھ رابطے، بات چیت، سماجی تعلق استوار کرنے اور ملنے جلنے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ ایسے بچے کسی ایک چیز یا مصروفیت میں حد سے زیادہ مگن ہو سکتے ہیں خاص طور پر چیزوں کو گھماتے رہنا یا ایک خاص ترتیب سے رکھنا اس کی سب سے عام علامات میں شامل ہیں۔
اسکے ساتھ ساتھ بعض بچے کسی خاص حس سے حاصل ہونے والے پیغامات کے لیے بہت کم یا بہت زیادہ حساس ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ بچوں کو تیز روشنی بہت پریشان کرتی ہے، کچھ اونچی آوازوں سے گھبرا جاتے ہیں جبکہ کچھ کو جھولے میں جھولنا پر سکون کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سینسری تھیراپی بہت مددگار ہو سکتی ہے۔ اس کے ذریعے بچے موصول شدہ حسی معلومات میں توازن اختیار کرنا سیکھ جاتے ہیں۔
آٹزم سے ملتی جلتی علامات اب بچوں میں بہت چھوٹی عمر سے موبائل فون استعمال کرنے کی وجہ سے نظر آنے لگی ہیں۔ بچے سکرین سے اتنی جلد اور اتنا زیادہ وابستہ ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنی عمر کے مطابق بولنے چالنے اور دیگر سماجی صلاحیتیں سیکھنے میں پیچھے رہ جاتے۔ یہ ایک گمبھیر مسئلہ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس لیے تمام والدین کے لیے ضروری ہے کہ اپنے دو سال سے چھوٹے بچوں کو سکرین سے بالکل دور رکھیں اور بڑے بچوں کے لیے بھی عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کریں۔ ادارہ صحت کے مطابق دو سے چار سال کے بچوں کو دن میں صرف ایک گھنٹہ سکرین کے سامنے گزارنا چاہیے۔ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل اور اچھی شخصیت سازی کے لیے ان کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں اور ان کو سکرین سے دور رکھیں۔

