شجر کاری کیوں ضروری ہے؟


ہم سب جانتے ہیں کہ درخت آکسیجن پیدا کرتے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں، اور سایہ فراہم کرتے ہیں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ درختوں کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں؟

ماحول کے لیے فوائد

موسم کو بہتر کرتے ہیں : درخت سردیوں میں سرد ہواؤں اور گرمیوں میں گرم ہواؤں کو روکتے ہیں۔ اس سے گھروں کو گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں گرم رکھنے میں مدد ملتی ہے، جس سے توانائی کی بچت ہوتی ہے۔

پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتے ہیں : درخت مٹی میں پانی کو جذب کرتے ہیں اور اسے آہستہ آہستہ خارج کرتے ہیں، جس سے سیلاب اور مٹی کے کٹاؤ کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔

ہوا کو صاف کرتے ہیں : درخت ہوا سے گرد و غبار، دھواں، اور دیگر آلودگیوں کو دور کرتے ہیں، جس سے سانس لینے کے مسائل اور دیگر صحت کے مسائل میں کمی ہوتی ہے۔

جنگلی حیات کے لیے رہائش گاہ فراہم کرتے ہیں : درخت مختلف قسم کے پودوں اور جانوروں کے لیے گھر فراہم کرتے ہیں، جو ماحولیاتی نظام کے لیے ضروری ہیں۔

صحت کے لیے فوائد

ذہنی تناؤ کو کم کرتے ہیں : درختوں کو دیکھنے اور ان کے سائے میں بیٹھنے سے ذہنی تناؤ اور اضطراب کم ہوتا ہے اور صحت یابی کا عمل تیز ہوتا ہے۔ اسی لیے معالج مریضوں کو صحت افزا مقام پر رہنے اور وقت گزارنے کی تلقین کرتے ہیں۔

جسمانی صحت کو بہتر بناتے ہیں : درختوں سے نکلنے والا فائٹوونسائن نامی مادہ مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور کینسر اور دیگر بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

معیشت کے لیے فوائد

مکانوں کی قیمت بڑھاتے ہیں : درختوں والے گھر اور محلے اکثر زیادہ قیمتی ہوتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ پرکشش اور دیدہ زیب ہوتے ہیں۔ دیکھنے والے کے دل کو لبھاتے ہیں۔

سیاحت کو فروغ دیتے ہیں : درختوں سے بھرا ہوا قدرتی منظر سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، جس سے معیشت کو فروغ ملتا ہے۔

پاکستان میں درختوں کی کمی

بد قسمتی سے، پاکستان میں درختوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں فی شخص تقریباً پانچ درخت ہیں، جو کہ عالمی اوسط 422 درختوں سے بہت ہی کم ہے۔ اس درختوں کی کمی کی وجہ سے ماحولیاتی نظام پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

درختوں کی کمی کو حل کرنے کے اقدامات

درختوں کی کمی کو حل کرنے کے لیے حکومت، نجی شعبے، اور عوام کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو وسیع پیمانے پر جنگلات لگانے کے پروگرام شروع کرنے، درخت اور پودے لگانے کی حوصلہ افزائی کرنے، اور ماحولیاتی قوانین کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ نجی شعبے کو پائیدار جنگلات کے انتظام اور درختوں کی کاشت میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو درخت لگانے، جنگلات کی حفاظت میں حصہ لینے، اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو سرسبز بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم سب مل کر پاکستان کو ایک سرسبز اور پائیدار مستقبل کی طرف کیسے لے جا سکتے ہیں؟ جاننے کے لیے اگلا حصہ پڑھیے۔

درخت لگانے کی موجودہ صورتحال

پچھلے چند سالوں سے ہر سال درخت لگانے کی مہمات زوروشور سے شروع کی جاتی ہیں۔ حکومتی سطح پر لاکھوں، کروڑوں درخت لگانے کے دعوے کیے جاتے ہیں جبکہ نجی سطح پر بھی ہزاروں درخت لگائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود موسم میں بہتری کی بجائے ابتری آ رہی ہے، گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، سیلاب آ رہے ہیں لیکن خشک سالی بھی بڑھ رہی ہے۔ اس کی اصل وجہ لگائے گئے پودوں کی بڑی تعداد کا سوکھ جانا یا بڑے ہو کر درخت نہ بننا ہے۔

موثر طریقہ کار

اگر ہم مندرجہ ذیل آزمودہ طریقہ کار اپنائیں تو ہمارے لگائے گئے پودوں میں سے 85۔ 80 فیصد کے قریب بڑے ہو سکتے ہیں اور درخت بن سکتے ہیں۔

یونٹس کی تقسیم: اپنے شہر، گاؤں اور ملحقہ علاقوں کو چھوٹے چھوٹے یونٹس میں تقسیم کریں۔

کوآرڈینیٹرز کی تعیناتی: ہر یونٹ کے لیے ایک مقامی کوآرڈینیٹر مقرر کریں جو ذمے دار ہونے کے ساتھ ساتھ پودوں کی سمجھ بوجھ بھی رکھتا ہو۔

پوائنٹس کی نشاندہی: کوآرڈینیٹرز اپنے یونٹ میں ایسے پوائنٹس کی نشاندہی کریں جہاں پر پودے لگائے جا سکتے ہیں۔

کمیٹی کی تشکیل: زراعت کا بنیادی علم رکھنے والے افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائیں جو تمام پوائنٹس کا معائنہ کرے اور فیصلہ کرے کہ کس پوائنٹ پر کون سا پودا لگانا چاہیے۔

پودوں کی سلیکشن: اپنے علاقے کے موسم اور آب و ہوا کو مدنظر رکھتے ہوئے پودوں کی سلیکشن کریں۔
صحت مند پودوں کی خریداری: نرسری سے مناسب قد کاٹھ کے صحت مند پودے خریدیں۔
سرمائے کا انتظام: فنانس کمیٹی سرمائے کا تخمینہ لگا کر مطلوبہ سرمائے کا انتظام کرے۔
پودے لگانا: خریدے گئے پودے نشان دہ جگہوں پر لگائے جائیں۔
حفاظتی جنگلہ: ہر پودے کے گرد حفاظتی جنگلہ لگایا جائے گا تاکہ پودے محفوظ رہیں۔
کیو آر کوڈ: ہر جنگلے پر کیو آر کوڈ لگایا جائے گا تاکہ پودے کی نگرانی ممکن ہو۔
پانی کی فراہمی: پودوں کو شیڈول کے مطابق پانی دینے کے لیے لوڈر رکشے کا انتظام کریں۔
موبائل ایپ: موبائل ایپ کے ذریعے پودوں کی تمام تفصیلات پر نظر رکھی جائے۔

سالانہ میٹنگ: ہر سال درخت لگانے والی انجمن کی میٹنگ منعقد کی جائے جس میں لگائے گئے پودوں کی بڑھوتری دیکھی جائے اور سوکھ جانے والے پودوں کی وجوہات تلاش کی جائیں اور ان کی جگہ نئے پودے لگانے اور مزید پودے لگانے کے بارے میں لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔

اگر اوپر دی گئی تجاویز پر عمل کیا جائے تو بہترین نتائج پیدا کیے جا سکتے ہیں اور چند ہی سالوں میں ملک پاکستان سرسبز و شاداب بن جائے گا۔ جس کے نتیجے میں موسم میں بھی بہتری آئے گی۔

Facebook Comments HS

فیصل پاکستانی

فیصل پاکستانی بزنس مینجمنٹ کی تعلیم اور ڈیڑھ دہائی پر محیط انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ ایک معروف ادارے میں کلیدی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم سوشل ایکٹوسٹ بھی ہیں۔ ’ہم سب‘ جیسے معتبر فورمز پر کرنٹ افیئرز، کھیل، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آن لائن فراڈ اور سماجی موضوعات پر مستقل لکھتے ہیں۔

faysal-pakistani has 26 posts and counting.See all posts by faysal-pakistani