رحمت اللہ کی، ناقدری ہماری



شاذی او شاذی۔ کہاں رہ گئی ہے یہ؟
امّاں آ رہی ہوں نہ!

شاذیہ ابھی ابھی اسکول سے آئی تھی اور یونیفارم بھی نہیں بدلا تھا کہ برتنوں کا ڈھیر اس کا منتظر تھا، وہ بیچاری اپنا بستہ ایک طرف رکھ کر برتن دھونے لگ گئی اتنے میں ماں کی آواز کانوں سے ٹکرائی تو جھنجھلا کر ماں کو جواب دیا۔

ہاں، کیا ہوا اماں؟

”ارے لے اس گڈو کو گود میں، ذرا باہر کا چکر لگا کر لا، کب سے چپ کرا رہی ہوں، ہو کر ہی نہیں دے رہا، یہ چپ ہو جائے تو منی کی دودھ کی بوتل دھوکر اس میں ہلکا دودھ گرم کر کے بھر کر رکھ دینا۔ اور ہاں یونیفارم بدل کر گھر کی جھاڑو بھی لگا لینا، کس قدر گندا ہو رہا ہے گھر!

اسکول سے آنے کے بعد شازی کے لئے کاموں کی لائن لگی ہوتی تھی، اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا، لیکن گھر آ کر پڑھنا تو دور کی بات کھیلنے کے لئے بھی وقت نہیں ملتا تھا، وہ چاروں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اور شاید یہی اس کا قصور تھا، چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالنا اس کے اولین فرائض میں شامل تھا، اوپر تلے بچوں کی پیدائش سے ماں کی طبیعت اکثر ہی خراب رہتی اور ماں کو بھی بڑی بیٹی کا سہارا مل گیا تھا، گھر کے کام ہوں یا چھوٹے بچوں کو سنبھالنا ہو ان کے ڈھیروں کام ہوں بس شازی کو ہی آوازیں پڑتی تھیں۔

بیچاری رات دن گھر کے کاموں میں ہی لگی رہتی تھی۔ کئی بار اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے گرم دودھ بوتل میں بھرتے ہوئے اپنے ہاتھ بھی جلا بیٹھی تھی، جھاڑو پوچھا، برتن۔ بچوں کے کپڑے دھونا، گھر کی دھلائی کرنا، چائے بنانا، پانی بھر کے لانا اور نجانے کتنے چھوٹے بڑے کام تھے جو کبھی ختم ہونے کا نام ہی نا لیتے تھے۔ اپنے ابّا سے اسے بہت لگاؤ تھا، جب ابا کام پر سے تھکا ہارا آتا تو وہ دوڑ دوڑ کر اس کے لئے پانی لاتی، چائے بناتی اس کے آگے پیچھے پھرتی مگر ابا تو اپنے اکلوتے بیٹے جو تین بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا تھا اس کو گلے کا ہار بنا لیتا۔ شازی حسرت بھری نگاہوں سے چھوٹے بھائی کو دیکھتی اپنے ابا کی محبت و شفقت کو ترستی رہ جاتی۔

بیٹیاں ماں باپ کا بہت بڑا سہارا ہوتی ہیں۔

جب کسی بیٹی پہ ظلم ہوتا ہے، کبھی اس کو غیرت کے نام پہ قتل کیا جاتا ہے کبھی ونی کیا جاتا ہے کبھی قرآن سے شادی کر کے اس کی زندگی تباہی کردی جاتی ہے اس کو وراثت سے بے دخل کر دیا جاتا ہے، اس کے خلاف ظلم کا ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے بیٹیوں کے حقوق کو پامال کر دیا جاتا ہے ان کو باپ کی شفقت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ بیٹیوں کے ساتھ ظلم کرنے والوں میں بیٹے بھی پہلی صف میں کھڑے ہوتے ہیں، وہ بہنیں جو بچپن سے ان پر جان چھڑکتی ہیں اپنی خوشیوں کو ان کی خوشیوں پر قربان کر دیتی ہیں ان ہی کے خلاف وہی بھائی محاذ کھڑا کر کے نہ صرف خود ان پر ظلم و زیادتیوں کے مرتکب ہوتے بلکہ باپ کو کبھی جبراً اور کبھی ان کے خلاف نفرت بھر کر ان سے دور کر دیتے ہیں۔

اور لوگ کہتے ہیں ارے کتنی بد نصیب بیٹی ہے۔ ارے او عقل کے اندھوں تم اللّٰہ کی رحمت کو بد نصیب کہتے ہو؟ اللہ کی رحمت کیسے بدنصیب ہو سکتی ہے، بد نصیب تو وہ لوگ ہیں جو اللّٰہ کی طرف سے عطا کی گئی رحمت کی نا قدری کرتے ہیں، بد نصیب تو وہ ہیں جو اللّٰہ کی رحمت کو ٹھکراتے ہیں، بد نصیب تو وہ ہیں جو بیٹوں کو اللّٰہ کی رحمت پر ترجیح دیتے ہیں، بیٹے تو اللہ کی دی ہوئی نعمت ہیں اور ہر نعمت کا حساب آخرت میں لیا جائے گا جبکہ اللّٰہ کی رحمت تو بے حساب بھی ہو تو اللّٰہ کبھی اس کا حساب نہیں کرے گا۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ عبادت کوئی دلیل نہیں معاملات سے پتہ چلتا ہے کہ خوفِ خدا ہے کہ نہیں؟

صرف نمازیں روزے اس قرآن کی تلاوت جس میں بیٹیوں کے حقوق کا بیان ہے، محض زبان سے پڑھنا، جتنے سجدے کرلو سوال تو ہو گا!

کون ایسے ان بد نصیبوں کو سمجھائے جو اللّٰہ کی رحمت سے منہ پھیر لیتے ہیں!

Facebook Comments HS