توہین عدالت اور آزادی صحافت
سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور متحدہ قومی موومنٹ کے لیڈر مصطفی کمال کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے معاملہ سمیٹنے کی بجائے اسے پھیلانے کا اقدام کیا ہے۔ چیف جسٹس کی قیادت میں مقدمہ کی سماعت کرنے والے سہ رکنی بنچ نے اب ان تمام ٹیلی ویژن چینلز کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے ان دونوں لیڈروں کی پریس کانفرنس کو براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا تھا۔
یہ عدالتی حکم ملک میں صحافت کی آزادی اور خود مختاری سے رپورٹنگ کرنے کے حق کو براہ راست متاثر کرے گا۔ اس حکم سے یہ تاثر قوی ہو گا کہ کوئی خبر یا رپورٹ شائع یا نشر کرتے ہوئے عدلیہ کے ججوں کے مزاج اور طرز عمل کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ورنہ انہیں مشکل کا سامنا ہو گا، جیسا کہ اس اس کیس میں ہو رہا ہے۔ اب عدالت نے دو مختلف پریس کانفرنسوں کو ٹیلی کاسٹ کرنے کو آزادی اظہار کی مقررہ آئینی حدود کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔ حالانکہ ان پریس کانفرنسوں کو نشر کرنے یا انہیں رپورٹ کرنے والے کسی بھی صحافی، رپورٹر یا ایڈیٹر کو اس بات کا گمان بھی نہیں ہو گا کہ معمول کی سیاسی پریس کانفرنس کی کوریج کرنے کی وجہ سے انہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی خفگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چیف جسٹس کے جاری کردہ اس حکم کے بعد ملک کے درجنوں ٹیلی ویژن چینلز کے پاس عدالت میں حاضر ہو کر معافی مانگنے کے سوا کیا چارہ ہو گا؟ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طریقہ سے عدلیہ کے ججوں کی عزت و وقار میں اضافہ ہو جائے گا یا اس سے خوف و ہراس کا سماں پیدا ہو گا۔
ملک میں بدترین سنسر شپ کی صورت حال ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کے دوران میں یہ دعویٰ کرنا بھی ضروری سمجھا کہ وہی میڈیا کی آزادی کے لیے اقدام کرتے ہیں لیکن میڈیا عدالت کے خلاف توہین آمیز مواد نشر کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ توہین آمیز مواد نشر کرنا بھی توہین ہے۔ اس لیے فیصل واوڈا اور مصفیٰ کمال کی پریس کانفرنس نشر کرنے والے ٹی وی چینلز دو ہفتے میں بتائیں ان کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ اس عدالتی حکم کے تناظر میں یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ آزادی اظہار اور توہین عدالت کے درمیان حد فاصل کیسے اور کیوں کر عائد کی جائے گی؟ چیف جسٹس نے آج جو حکم دیا ہے، اس کے نتیجے میں میڈیا ہی کو اپنی رہی سہی ’خود مختاری‘ کو قربان کر کے عدالت عظمی کے سامنے سر جھکانا پڑے گا۔ اس طریقے سے میڈیا کو عوام تک حقائق پر مبنی خبریں پہنچانے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ حق ملکی آئین کے تحت میڈیا اور شہریوں کو یکساں طور سے حاصل ہے۔
ملک کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا متعدد اطراف سے دباؤ کا شکار ہے۔ ایک طرف حکومت عسکری قیادت کے زیر اثر سنسر شپ پر اصرار کر رہی ہے۔ اور مدیران کو جو درحقیقت میڈیا ہاؤسز کے مالکان ہی ہوتے ہیں، مجبور کیا جا رہا ہے کہ صرف ایسی خبریں شائع یا نشر کی جائیں جو ’متوازن اور معتبر‘ ہوں۔ ہر صحافی متوازن اور مصدقہ خبر ہی فراہم کرنا چاہتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت اپنے زیر انتظام اداروں پیمرا اور وزارت اطلاعات کے ذریعے خود یہ فیصلہ کرنا چاہتی ہے کہ کیا متوازن اور معتبر ہے۔ آج کی سماعت میں چیف جسٹس نے یہ ’حق‘ بھی عدالت کے اختیار میں لانے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ اصول صحافت کے تحت خبر کی ترسیل کا فیصلہ کرنے کا حق کسی بھی مدیر کو ہوتا ہے، البتہ تجارتی مفادات کی حفاظت کے لیے ملکی میڈیا ہاؤسز ایسی ان دیکھی سنسر شپ کو قبول کرنے پر مجبور ہیں۔
عدالت عظمی اپنی عزت کی حفاظت کے نام پر مدیروں کے حقوق کو اپنی صوابدید کے مطابق طے کرنے کی خواہش کا اظہار کر رہی ہے۔ اس سے ایڈیٹروں یا مالکان کے لیے سپیس مزید کم ہو جائے گی اور وہ عدالتوں کے بارے میں کوئی ایسی خبر شائع یا نشر کرنے سے گریز کریں گے جو کسی جج کے مزاج پر گراں گزرے۔ اس طریقہ سے نہ عدالتی وقار میں اضافہ ہو گا اور نہ ہی میڈیا آزاد ہو گا۔ اس طرح ملک میں عوام کو افواہوں اور سوشل میڈیا کے غیر مصدقہ ذرائع پر بھروسا کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ یوں جھوٹ اور سچ میں تمیز کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ہر شخص اپنی مرضی کے زاویے کو ہی کسی معاملہ میں سچ مانے گا کیوں کہ حکومت کے بعد اب عدالت مین اسٹریم میڈیا کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ ایسی حدود و قیود قبول کر لے جو قانونی و آئینی طور سے اس پر عائد نہیں ہونی چاہئیں۔
ملک میں عدلیہ ہی نظام اور جمہوریت کی وارث یا محافظ نہیں ہے بلکہ ذمہ دار میڈیا عدالتوں سے بڑھ کر جمہوری مزاج کے فروغ میں کردار ادا کرتا ہے۔ عدلیہ اگر میڈیا کی ریڈ لائنز میں اضافہ کرے گی تو یہ آزادی رائے کی بجائے رائے کو دبانے کا طریقہ سمجھا جائے گا۔ اس کی قیمت ملک کے عوام کو ادا کرنا پڑے گی۔ ہمہ قسم معلومات فراہم کرنے کے حق سے محروم جمہوری نظام کو کمزور کرے گی۔ قابل صد احترام چیف جسٹس پر واضح ہونا چاہیے کہ ملکی عدلیہ بھی اسی وقت آزاد، خودمختار اور مضبوط ہوگی اگر میڈیا آزاد ہو گا اور عوام میں شعور عام کیا جائے گا۔ پابندیاں لگانے، ڈرانے دھمکانے اور معلومات کی فراہمی روکنے سے عدالتیں نہ آزاد ہو سکتی ہیں اور نہ ہی ان کے بارے میں عوامی نقطہ نظر مثبت اور صحت مندانہ ہو سکتا ہے۔
دو سیاسی لیڈروں کے خلاف ان کے متنازعہ بیانات پر سپریم کورٹ نے سو موٹو اختیار کے تحت توہین عدالت کی کارروائی شروع کی ہے۔ اس کارروائی کو کسی انجام تک پہنچانے سے پہلے ہی چیف جسٹس اب میڈیا کو عدلیہ کے خلاف توہین آمیز مواد نشر کرنے کا ملزم قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’توہین آمیز مواد نشر کرنا بھی توہین میں آتا ہے، ٹی وی چینلز دو ہفتے میں بتائیں ان کے خلاف بھی توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ کی جائے‘ ۔ واضح رہے کہ 17 مئی کو سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واڈا اور مصطفی کمال کی پریس کانفرنس پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی تھی۔ آج کی سماعت میں مصطفی کمال نے اپنے وکیل فروغ نسیم کے ذریعے غیر مشروط معافی مانگ لی تھی۔ البتہ فیصل واوڈا کے وکیل نے اس معاملہ پر حتمی موقف دینے کے لیے مہلت مانگی تھی۔ معاملہ کو سمیٹنے کی بجائے چیف جسٹس نے اسے پھیلانے کا عندیہ دیا ہے اور ان تمام میڈیا چینلز کو نوٹس جاری کیے ہیں جنہوں نے یہ پریس کانفرنسز براہ راست نشر کی تھیں کیوں کہ چیف جسٹس کے خیال میں ان میں توہین عدالت ہوئی تھی۔ اٹارنی جنرل ان دونوں سیاست دانوں کے خلاف استغاثہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ گویا فیصل واوڈا اور مصطفی کمال پر توہین کا صرف الزام ہے، ابھی استغاثہ کو اسے ثابت کرنا ہے۔ اس صورت میں چیف جسٹس کیوں کر ابھی سے یہ طے کر رہے ہیں کہ میڈیا چینلز نے ’توہین آمیز‘ مواد نشر کر کے توہین عدالت کی ہے؟ کیا اس کیس کی سماعت کرنے والے فاضل جج حضرات نے طے کر لیا ہے کہ توہین ہو چکی ہے اور اٹارنی جنرل یا ملزمان وکلا کچھ بھی دلائل دیں، ان دونوں کو قصور وار ہی مانا جائے گا۔ ایسا عدالتی رویہ انصاف کے بنیادی اصول سے متصادم ہے۔ چیف جسٹس ایک دوسرے کیس کی سماعت کے دوران میں خود اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں کہ اگر جج پہلے سے ہی رائے بنا لیں تو وکیل کے دلائل کا کیا فائدہ ہو گا۔
موجودہ معاملہ میں بھی عدالت اگر تمام کارروائی کے بعد اس نتیجہ تک پہنچتی کہ فیصل واوڈا اور مصطفی کمال نے واقعی توہین عدالت کی ہے، اس لیے ان کی باتیں نشر کرنا بھی توہین عدالت کہلائے گا، تو بھی قابل فہم ہوتا۔ لیکن زیر بحث معاملہ ابھی زیر غور ہے۔ فاضل ججوں کی انصاف پسندی پر ایمان رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے قبل از وقت کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ وہ استغاثہ کے علاوہ وکلائے صفائی کے دلائل سننے کے بعد ہی کوئی رائے قائم کریں گے۔ اس کے علاوہ ایک ملزم مصطفی کمال نے تو ابھی سے غیر مشروط معافی مانگ کر خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ مسلمہ عدالتی طریقہ کے مطابق ایسے شخص کی معافی قبول کرنے میں دیر نہیں کی جاتی۔ البتہ سپریم کورٹ نے اس معافی نامہ کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور میڈیا کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ حکم انصاف کے بنیادی اصول سے متصادم ہے۔ معزز عدلیہ کو اس سقم پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
ملکی عدلیہ پر مقدمات کا بے شمار بوجھ ہے۔ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد پوری نہیں ہے اور عام سائلین سال ہا سال تک اپنے معمولی تنازعات کے حل کے لیے انتظار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جبکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس ترجیحی بنیادوں پر سیاسی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں۔ یوں عام سائلین کے انتظار اور مشکل میں اضافہ ہوتا ہے۔ اب توہین عدالت کے مقدمات کو بھی اولین ترجیح حاصل ہو رہی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ دو ججوں کی درخواستوں پر ایسے ہی دو مقدمات کی سماعت کر رہی ہے اور اب سپریم کورٹ ایک سوموٹو کے تحت پریس کانفرنسوں میں کی گئی باتوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے۔ یا تو عدلیہ یہ طے کر لے کہ توہین عدالت پر سزا دینے سے ملک میں عدالتوں کی عزت میں اضافہ ہو گا۔ اس سے خوف میں تو اضافہ ہو سکتا ہے لیکن نہ عزت بڑھے گی اور نہ ہی سیاسی بیانات کی تندی میں کمی آئے گی۔ توہین عدالت کا معاملہ انتہائی صورت میں اٹھانا چاہیے۔ ایسی صورت صرف اسی وقت دیکھنے میں آتی ہے جب کوئی شخص کسی جج کے دوبدو بدتمیزی کرے اور جان بوجھ کر توہین آمیز کلمات ادا کرے۔ سیاسی بیانات میں ’توہین‘ توہین تلاش کرنے سے یہ سلسلہ طویل ہوتا جائے گا اور آخر میں عدلیہ ہی کو اس کا نقصان ہو گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں زیر غور تینوں مقدمات میں کسی میں بھی کسی شخص نے کسی جج سے براہ راست بدتہذیبی نہیں کی۔ بیانات کی بنیاد پر توہین عدالت کے مقدمات عدلیہ کو کمزور کریں گے۔ درگزر کرنا عدلیہ کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ رویہ کم ہوتا جا رہا ہے۔
توہین عدالت کے نام پر میڈیا کو کمزور کرنے سے عدالت عظمی کوئی بڑا مقصد حاصل نہیں کرسکے گی۔ توہین عدالت کے سب معاملات میں متعلقہ بنچوں کو معافی کے بعد ان سب مقدمات کو ختم کرنا چاہیے۔ یا ان سوالوں کے جواب دینے چاہیے جو ان پریس کانفرنسوں میں اٹھائے گئے ہیں۔ فیصل واوڈا کے اس ایک بیان کے علاوہ کہ ’اب پاکستان میں کوئی پگڑی اچھالے گا تو ہم ان کی پگڑیوں کی فٹبال بنائیں گے‘ ، کوئی بھی بات نہ تو مخرب اخلاق ہے اور نہ ہی اس میں توہین کا کوئی پہلو نکلتا ہے۔ اگر توہین عدالت کے مقدمات میں بھی ثبوت کا وہی معیار مقرر کیا جائے جو باقی تمام معاملات میں مانگا جاتا ہے تو کوئی استغاثہ یہ ثابت نہیں کرسکے گا کہ فیصل واوڈا نے پگڑیوں والی بات ججوں کے بارے میں کی تھی۔ اس حوالے سے فیصل واوڈا نے یہ ’الزام‘ لگانے پر جسٹس اطہر من اللہ کے خلاف سینیٹ میں تحریک استحقاق بھی جمع کروائی تھی۔
چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے فاضل ججوں کو توہین عدالت کے حوالے سے معاملہ فہمی اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جج عزت دینے کا مطالبہ کرنے کی بجائے ایسے احکامات جاری کریں جو عدالتوں اور ججوں کے وقار میں اضافہ کا سبب بنیں۔


