قسطنطنیہ یا شہر استنبول


قسطنطنیہ یا استنبول کے شہر کی بنیاد روم کے بادشاہ ڈائیوک لیٹن نے اپنے دور میں 284 ء تا 305 ء کے درمیان رکھی۔ جب سلطنت روم بہت زیادہ پھیل گئی تو ایک بادشاہ کے لئے اسے اپنے زیر تسلط رکھنا مشکل امر ہو گیا تو ایک شاہی فرمان کے ذریعے اس نے اپنی سلطنت کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا۔ جس کے ایک حصے کا حکمران اگسٹس ہی رہا لیکن اس کے ساتھ اس کا نائب سیزر مغربی حصے کی سلطنت کا حکمران بن گیا جب کہ مشرقی حصے پر کنسٹنٹائن حکمران بن گیا۔

جب مغربی رومن سلطنت پانچویں صدی میں دوام زوال پذیر ہوئی تو رومن سلطنت کے مشرقی حصے پر ان کے عظیم کنسٹنٹائن بادشاہ کے دور 330 ء میں رومن سلطنت کا دارالخلافہ قسطنطنیہ بنا۔ جو بازنطینی دور 330 ء تا 1204 ء تک اور پھر 1261ئی تا 1453 ء تک اسی سلطنت کا دارالخلافہ رہا۔ یہ 1204 ء تا، 1261 ء تک سلطنت روم کا بھی دارالخلافہ رہا۔ قسطنطنیہ یا موجودہ نام استنبول خلافت عثمانیہ کا 1204 ء تا 1922 ء تک دارالخلافہ رہا۔ لیکن پہلی جنگ عظیم میں شکست کھا جانے کے بعد ترکیہ کی حکومت نے اپنا دارالخلافہ انقرہ منتقل کر دیا۔

استنبول یورپ کے بڑے شہروں میں سے ایک بڑا شہر جو براعظم یورپ اور براعظم ایشیاء دونوں کے سنگم پر واقع ہے۔ جو آبنائے باسفورس اور بحیرہ اسود کو آپس میں ملاتا ہے۔ یہ ترکیہ کا مالیاتی مرکزی شہر بھی ہے۔ کنسٹنٹائن بادشاہ نے پرانے قسطنطنیہ کی بازنطینی سرحدوں کو وسیع کیا اور پھر اسے 14 حصوں میں منقسم کرتے ہوئے اس کے ارد گرد ایک اونچی دیوار کا حصار قائم کر دیا۔ لیکن اس سے قبل اس کے دوسرے حصے کی جانب تھیوڈوسس دوئم نے بھی اس حفاظتی دیوار کا کام مکمل کیا۔

اس شہر کی مالیاتی وسعت کے لئے بادشاہ نے امراء کو زمینوں کا بطور تحفہ عطاء کیے تا کہ یہ شہر مالیاتی طور مستحکم رہے۔ بادشاہ نے لوگوں کو اس شہر کی طرف راغب کرنے کے لئے مفت خوراک، پینے کا شفاف پانی کی ترسیل کا ایک مربوط نظام قائم کیا۔ اس کا شہر کا مذہب مسیحی اور زبان یونانی ٹھہرے۔ لیکن یہاں پر کئی دوسری نسل کے لوگ بھی آباد ہوتے چلے گئے۔ یہ شہر اپنی حفاظتی دیوار کی وجہ سے گیارہ سو سال تک بازنطینیوں کا دارالخلافہ رہا۔

اس دوران اس شہر پر مسلمان آٹھویں صدی میں حملہ آور ہوتے رہتے لیکن کامیابی نصیب نہ ہو سکی۔ اس کے علاوہ بلغاریہ اور رس کے لوگ بھی اس شہر کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کوشش کرتے رہے لیکن انہیں بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ آخرکار 29 مئی 1453 ء میں محمد ثانی نے قسطنطنیہ پر خلافت عثمانیہ کا جھنڈا گاڑ دیا اور اس کی شناخت کو پہلے کی طرح قائم رکھا۔ خلافت عثمانیہ میں جس بادشاہ کو بام عروج نصیب ہوا وہ شاہ سلیمان تھا جس نے اس خطے پر 1520 ء تا 1566 ء تک حکومت کی۔ اس کے دور میں اصطلاحات کا نفاذ ہوا جس میں عوامی رفاہ عامہ کے کام، عدالتی نظام میں اصلاحات اور فنون لطیفہ شامل تھے۔ خلافت عثمانیہ کی حکمرانی تقریباً براعظم یورپ، افریقہ اور ایشیاء میں قائم رہی۔ اس دور میں استنبول شہر میں مساجد و مدرسے قائم کیے گئے۔ جس سے تعلیم عام ہوئی۔

سلطنت عثمانیہ کا تاج ایک تاریخی غلطی کی وجہ سے ڈگمگا گیا۔ شاہ محمد چہارم نے پہلی جنگ عظیم میں جرمنی اور آسٹریا کے اتحاد کا ساتھ دیا جنہیں اس جنگ عظیم میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ترکی کو معاہدہ لوازون کے تحت شہنشاہ محمد چہارم کو خلافت سے دستبردار ہونے کے بعد استنبول سے دیس نکالا کیا گیا۔ اگر خلافت عثمانیہ کے زوال کے اسباب جاننے کی کوشش کریں تو اس میں سر فہرست ستارہویں اور اٹھارہویں صدی میں یورپ کا صنعتی انقلاب تھا۔

جب کہ دوسری جانب سلطنت عثمانیہ اپنے قدیمی زراعت کے طور طریقوں پر اکتفا کیے ہوئے تھی۔ جس سے سلطنت عثمانیہ یورپ کی اکانومی کا مقابلہ نہ کر سکی۔ اس کی زرعی آمدنی سے با مشکل اس کے اخراجات پورے ہو رہے تھے۔ سلطنت عثمانیہ بہت وسیع ہو گئی تھی۔ جسے مرکز سے کنٹرول کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ جب محمد دوئم نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا تو اس کی فوج کو منجنیقوں کے علاوہ گن پاؤڈر کا فائدہ حاصل تھا۔ جس کا توڑ قسطنطنیہ کی افواج کے پاس نہیں تھا۔ لیکن بعد کی خلافت عثمانیہ کے حکمرانوں نے اپنے ملک کے دفاع کی ترقی کی جانب کوئی خاص توجہ نہ دی۔

استنبول جو ترکی کا سب سے بڑا شہر اور اقتصادی مرکز ہے۔ اپنی تاریخی اور ثقافتی ورثہ کے ساتھ ساتھ اپنے ماڈرن دور کے لیے بھی مشہور ہے۔ استنبول آج ایک ماڈرن میٹروپولیس کے طور پر جانا جاتا ہے جس میں ترقی یافتہ انفراسٹرکچر، عالمی معیار کے شاپنگ مالز، اسکائی سکریپرز، اور جدید ذرائع نقل و حرکت کا نظام شامل ہیں۔ یہ شہر کئی بین الاقوامی کانفرنسز، فیشن شوز، اور آرٹ ایگزیبیشنز کا میزبان بھی بنتا ہے۔ یہاں کئی بین الاقوامی اور قومی کمپنیوں کے ہیڈکوارٹر موجود ہیں۔

اس کے علاوہ، استنبول اسٹاک ایکسچینج (Borsa Istanbul) ترکی کی مالیاتی مارکیٹ کا اہم جز ہے۔ اس شہر میں مختلف ثقافتوں اور مذاہب کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہاں تاریخی مساجد، گرجا گھروں، اور عبادت گاہوں کے ساتھ ساتھ جدید تھیٹرز، آرٹ گیلریز، اور میوزیمز بھی ہیں جو اس شہر کے متنوع ثقافتی پس منظر کی عکاسی کرتے ہیں۔ استنبول ایک مشہور سیاحتی مقام بھی ہے۔ تاریخی مقامات جیسے کہ آیا صوفیہ، توپ کاپی محل، بلیو مسجد اور گرینڈ بازار سیاحوں میں بہت مقبول ہیں۔

ترکی کے موجودہ حکمران طیب اردگان نے استنبول کے مشرقی حصے میں ایک شاندار مسجد تعمیر کی ہے۔ اس کے علاوہ باسفورس کی خوبصورت منظر کشی اور جدید ہوٹل اور ریزورٹس بھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔ اس شہر میں کئی تعلیمی مراکز جن میں مشہور یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے موجود ہیں جو ملک بھر سے طلباء کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ یہاں کی یونیورسٹیاں عالمی سطح پر بھی معتبر مانی جاتی ہیں۔ اسی شہر میں حضرت ایوب انصاری کی مرقد بھی موجود ہے جو مرجع خلائق ہے۔

ترکی کے لوگ مسلمانوں خصوصاً پاکستانی قوم سے بہت پیار کرتے ہیں۔ لیکن کچھ ناعاقبت اندیشوں نے اس پیار سے ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا۔ جو ترکیہ کے عوام کو پسند نہیں آیا اور انہوں نے اس پر نہ صرف اپنا احتجاج بلند کیا بل کہ پاکستانیوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ جانے ہم کب سدھریں گے اور ان کالی بھیڑوں کو نہ صرف اپنے درمیان سے نکال باہر کریں گے بل کہ قانون کے حوالہ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

ہمیں دنیا میں بطور بحیثیت پاکستان سفیر کے پہچانا جانا چاہیے۔ ہمیں اپنے آپ کو دنیا کے سامنے ایک مذہب و قانون پسند قوم کے پیش کرنا چاہیے۔ لیکن ہمارے بعض لوگوں کے سیاہ کرتوت ملک کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ استنبول کا ماڈرن دور اس کی تاریخی اہمیت اور جدید ترقی کا حسین امتزاج ہے جو اسے ایک منفرد اور متحرک شہر بناتا ہے۔ یہاں موجودہ دور میں 15 ملین افراد آباد ہیں۔ اس کے نشیب و فراز میں اتار چڑھاؤ رہا لیکن یہ شہر اپنی عمدہ لیڈرشپ کی بدولت دن دگنی رات چگنی ترقی کرتا رہا۔

Facebook Comments HS